Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

بِالفرض میں  اپنی طرف سے قرآن بنا کر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتا تو یہ اللہ تعالیٰ پر اِفتراء ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ وہ ایسے اِفتراء کرنے والے کو جلد سزا میں  گرفتار کرتا ہے اور تمہیں  تو یہ قدرت حاصل ہی نہیں  کہ تم کسی کو اس کی سزا سے بچاسکو یا کسی سے اس کے عذاب کو دور کرسکو، تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں  اللہ تعالیٰ پر اِفتراء کرکے خود کواس کے عذاب کے لئے پیش کر دیتا ،(نیز تم جانتے ہو کہ مجھے کسی طرح کی کوئی سز انہیں  دی گئی، تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے میں  اپنی رسالت کے دعوے میں  جھوٹا نہیں  ہوں  اور نہ ہی میں  نے اپنی طرف سے قرآن بنایا ہے اور جب میں  سچا ہوں  اور قرآن اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے تو یاد رکھو!)اللہ تعالیٰ ان باتوں  کو خوب جانتا ہے جن میں  تم مشغول ہواور تم جو کچھ قرآنِ پاک کے بارے کہتے ہو وہ بھی اسے اچھی طرح معلوم ہے تو وہ تمہیں  ا س کی سزا دے گا اور یاد رکھو!میرے اور تمہارے درمیان سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنے کے لئے گواہ کے طور پر اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے، (لہٰذا اگر بالفرض میں  جھوٹا ہوا تو وہ مجھے فوری عذاب دے گا اور اگر تم جھوٹے ہوئے تو وہ تمہیں  فوری یا کچھ عرصے بعد عذاب دے گا۔) پھر انہیں  توبہ کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ ان سب باتوں  کے باوجود اگر تم اپنے کفر سے رجوع کر کے توبہ کر لو تو وہ تمہاری توبہ قبول فرما کر تمہیں  معاف فرمادے گا، تمہیں  بخش دے گا اور تم پر رحم فرمائے گا کیونکہ ا س کی شان یہ ہے کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔( تفسیرکبیر ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۱۰ / ۸ ،  خازن ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۴ / ۱۲۳ ،  مدارک ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ص۱۱۲۴ ،  ابن کثیر ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۷ / ۲۵۳-۲۵۴ ،  ملتقطاً)

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْؕ-اِنْ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ میں  کوئی انوکھا رسول نہیں  اور میں  نہیں  جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا میں  تو اسی کا تابع ہوں  جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں  نہیں  مگر صاف ڈر سنانے والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: میں  کوئی انوکھا رسول نہیں  ہوں اور میں  نہیں  جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیاہوگا؟ میں  تو اسی کا تابع ہوں  جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں تو صرف صاف ڈر سنانے والا ہوں  ۔

{قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ: تم فرماؤ: میں  کوئی انوکھا رسول نہیں  ہوں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرنت نئے اعتراضات کرنا کفارِ مکہ کا معمول تھا،چنانچہ کبھی وہ کہتے کہ کوئی بشرکیسے رسول ہوسکتاہے؟ رسول توکسی فرشتے کوہوناچاہیے ،کبھی کہتے کہ آپ توہماری طرح کھاتے پیتے ہیں  ،ہماری طرح بازاروں  میں  گھومتے پھرتے ہیں ،آپ کیسے رسول ہوسکتے ہیں  ؟کبھی کہتے: آپ کے پاس نہ مال ودولت ہے اورنہ ہی کوئی اثر ورسوخ ہے ۔ان سب باتوں  کاجواب اس آیتِ مبارکہ میں  دیاگیاکہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں :میں کوئی انوکھارسول نہیں  ہوں  بلکہ مجھ سے پہلے بھی رسول آچکے ہیں ، وہ بھی انسان ہی تھے اوروہ بھی کھاتے پیتے تھے اور یہ چیزیں  جس طرح ان کی نبوت پر اعتراض کا باعث نہ تھیں  اسی طرح میری نبوت پر بھی اعتراض کا باعث نہیں  ہیں  تو تم ایسے فضول شُبہات کی وجہ سے کیوں  نبوت کا انکار کرتے ہو؟

            دوسری تفسیر یہ ہے کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کفارِ مکہ عجیب معجزات دکھانے اور عناد کی وجہ سے غیب کی خبریں  دینے کا مطالبہ کیا کرتے تھے ۔اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم دیا گیا کہ آپ کفارِ مکہ سے فرما دیں  کہ میں  انسانوں  کی طرف پہلا رسول نہیں  ہوں  بلکہ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول تشریف لاچکے ہیں  اور وہ سب اللہ تعالیٰ کے بندوں  کو اس کی وحدانیّت اور عبادت کی طرف بلاتے تھے اور میں  اس کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف بلانے والا نہیں  ہوں  بلکہ میں  بھی اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت پر ایمان لانے اور سچے دل کے ساتھ اس کی عبادت کرنے کی طرف بلاتا ہوں  اور مجھے اَخلاقی اچھائیوں  کو پورا کرنے کے لئے بھیجاگیا ہے اور میں  بھی اس چیز پر (ذاتی)قدرت نہیں  رکھتا جس پر مجھ سے پہلے رسول (ذاتی) قدرت نہیں  رکھتے تھے، تو پھر میں  تمہیں  تمہارا مطلوبہ ہر معجزہ کس طرح دکھا سکتا ہوں  اور تمہاری پوچھی گئی ہر غیب کی خبر کس طرح دے سکتا ہوں  کیونکہ مجھ سے پہلے رسول وہی معجزات دکھایا کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں  عطا فرمائے تھے اور اپنی قوم کو وہی خبریں  دیا کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی تھیں  اور جب میں  نے پچھلے رسولوں  سے کوئی انوکھا طریقہ اختیار نہیں  کیا تو پھر تم میری نبوت کا انکار کیوں  کرتے ہو؟( تفسیرکبیر  ،  الاحقاف  ،  تحت الآیۃ : ۹ ،  ۱۰ / ۹  ،  خازن  ،  الاحقاف  ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۴ / ۱۲۳ ،  روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۸ / ۴۶۷ ،  ملتقطاً)

{وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ: اور میں  نہیں  جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا؟} آیت کے اس حصے کے بارے میں  مفسرین نے جو کلام فرمایا ہے ا س میں  سے چار چیزیں  یہاں  درج کی جاتی ہیں ،

(1)…یہ آیت منسوخ ہے ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں  دو صورتیں  ہیں  ،پہلی صورت یہ کہ اگر اس آیت کے یہ معنی ہوں ’’ قیامت میں  جو میرے اور تمہارے ساتھ کیا جائے گا وہ مجھے معلوم نہیں ۔‘‘تو یہ آیت سورہِ فتح کی آیت نمبر 2 اور 5 سے منسوخ ہے ،جیسا کہ حضرت عکرمہ اور حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا اس آیت کے بارے میں  فرماتے ہیں : اسے سورہِ فتح کی اس آیت ’’اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ(۱) لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ۔۔۔الایۃ ‘‘ نے منسوخ کر دیا ہے۔(تفسیر طبری ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۱۱ / ۲۷۶)

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  :آیت کریمہ ’’وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ‘‘ کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیات ’’لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ‘‘ اور ’’لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ۔۔۔الایۃ ‘‘ نازل فرمائیں  اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بتا دیا کہ وہ آپ کے ساتھ اور ایمان والوں  کے ساتھ (آخرت میں ) کیا معاملہ فرمائے گا۔( در منثور ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۷ / ۴۳۵)

            اس کی تفصیل ا س حدیثِ پاک میں  ہے ،چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :حُدَیْبِیَہ سے واپسی کے وقت نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر یہ آیت نازل ہوئی:

’’لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ‘‘ (فتح:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تاکہ اللہ  تمہارے صدقے تمہارےاگلوں  کے اور تمہارے پچھلوں  کے گناہ بخش دے۔

            توحضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین پر موجود تمام چیزوں  سے زیادہ محبوب ہے۔پھر نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  



Total Pages: 250

Go To