Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شرکت ہے جس کی وجہ سے تمہیں  یہ وہم ہوا کہ یہ معبود ہونے کا کوئی حق رکھتے ہیں  ؟ اور اگر تم اپنے اس دعوے میں  سچے ہو کہ خدا کا کوئی شریک ہے جس کی عبادت کرنے کا اس نے تمہیں  حکم دیا ہے تو اس کی دلیل کے طور پرمیرے پاس اس قرآن سے پہلے کی نازل شدہ کوئی کتاب لے آؤ۔اس سے مراد یہ ہے کہ قرآنِ مجید توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کو بیان فرماتا ہے اور اس سے پہلے جو کتاب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی اس میں  بھی یہی بیان ہے،تو تم اللہ تعالیٰ کی کتابوں  میں  سے کوئی ایک کتاب تو ایسی لے آؤجس میں  تمہارے دِین یعنی بت پرستی کی شہادت ہو، یااگر تم کتاب نہیں  لاسکتے تو کوئی ایسا مُستَنَد مضمون ہی لے آؤ جوپہلے لوگوں  سے منقول ہوتا چلا آ رہا ہو اور اس میں  ا س بات کی گواہی موجود ہو کہ تمہارے معبود عبادت کے مستحق ہیں  اور جب تمہارے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے نہ نقلی تو تم کس بنیاد پر بتوں  کی عبادت کرتے ہو ۔( روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ۸ / ۴۶۳-۴۶۴ ،  مدارک ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ص۱۱۲۳ ،  ملتقطاً)

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىٕهِمْ غٰفِلُوْنَ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کے سوا ایسوں  کو پوجے جو قیامت تک اس کی نہ سُنیں  اور انہیں  ان کی پوجا کی خبر تک نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کی بجائے ان بتوں  کی عبادت کرے جو قیامت تک اس کی نہ سنیں گے اور وہ ان کی پوجا سے بے خبر ہیں ۔

{وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ: اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کی بجائے ان بتوں  کی عبادت کرے۔} اس سے پہلی آیت میں  بتوں  کی عبادت کا باطل ہونا بیان کیا گیا اور ا س کی ایک دلیل یہ بیان کی گئی کہ بتوں  کو کسی طرح کی کوئی قدرت حاصل نہیں  اور ا س آیت میں  بتوں  کی عبادت باطل ہونے کی ایک اور دلیل بیان کی جا رہی ہے کہ یہ پکارنے والوں  کی پکار نہیں  سن سکتے اور محتاجوں  کی حاجات سمجھ نہیں  سکتے ،چنانچہ فرمایا گیا کہ مشرکین اپنے ہاتھوں  سے بتوں  کوبناتے ہیں  اورپھرانہیں  خدامان کر ان کی عبادت شروع کردیتے ہیں  حالانکہ ان کی حالت یہ ہے کہ اگریہ مشرکین قیامت تک بتوں  کوپکارتے رہیں  تووہ ان کی پکار سن نہیں  سکتے اورنہ ہی ان کو اپنے پُجاریوں  کی پوجا کی خبر ہے کیونکہ یہ جَماد اور بے جان ہیں  جس کی وجہ سے نہ سن سکتے ہیں  نہ سمجھ سکتے ہیں  اور اس آدمی سے زیادہ گمراہ اورکوئی نہیں  جواللہ تعالیٰ کوچھوڑکر عاجز اور بے بس بتوں  کی پوجاکرتاہے اوران سے ایسی چیزیں  مانگتاہے جووہ قیامت تک نہیں  دے سکتے، نیز جو وہ کہہ رہاہے اس سے بت غافل ہیں  ،نہ سنتے ہیں  ،نہ دیکھتے ہیں  ،نہ پکڑتے ہیں کیونکہ وہ بے جان پتھرہیں  جوبالکل بہرے اور فہم کی صلاحیت سے عاری ہیں  ۔( تفسیرکبیر  ،  الاحقاف  ،  تحت الآیۃ : ۵ ،  ۱۰ / ۷-۸  ،  خازن  ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۴ / ۱۲۲ ،  ابن کثیر ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۷ / ۲۵۳ ،  ملتقطاً)

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب لوگوں  کا حشر ہوگا وہ ان کے دشمن ہوں  گے اور ان سے منکر ہوجائیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب لوگوں  کا حشر ہوگاتو وہ بت ان کے دشمن ہوں  گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوجائیں  گے۔

{وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ: اور جب لوگوں  کا حشر ہوگا۔} یعنی دنیا میں  تو بتوں  کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے پکارنے والوں  کی پکار سننے اورسمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں  رکھتے اور قیامت کے دن ان کا حال یہ ہو گا کہ اس دن جب قبروں  سے نکالنے کے بعد لوگوں  کو جمع کیا جائے گا تو وہ بت ا پنے پُجاریوں  کے دشمن ہوں  گے اور انہیں  نفع کی بجائے نقصان پہنچائیں  گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں  گے اور کہیں  گے: ہم نے انہیں  اپنی عبادت کی دعوت نہیں  دی ، درحقیقت یہ اپنی خواہشوں  کے پَرَسْتار تھے۔ (یعنی اپنی مرضی سے جس کو چاہا خدا قرار دیدیا اور اس کی پوجا شروع کردی تو یہ حقیقت میں  اپنی خواہش کی پوجا ہوئی۔)(مدارک ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ص۱۱۲۳-۱۱۲۴ ،  صاوی ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۵ / ۱۹۳۲ ،  ملتقطاً)

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْۙ-هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب اُن پر پڑھی جائیں  ہماری روشن آیتیں  تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کو کہتے ہیں  یہ کھلا جادو ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں  تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کے بارے میں  کہتے ہیں : یہ کھلا جادو ہے۔

{وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ: اور جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں ۔} اس سے پہلی آیات میں  توحید کے حق ہونے اور بتوں  کی عبادت باطل ہونے کے بارے میں  بیان کیاگیا اور اب یہاں  سے قرآنِ مجید کے بارے کفار کی گفتگو ذکر کی جا رہی ہے ،چنانچہ اس آیت میں  فرمایا گیا کہ جب اہلِ مکہ کے سامنے قرآنِ مجید کی روشن آیات پڑھی جاتی ہیں  تو ان میں  سے کافر لوگ غور وفکر کئے اور اچھی طرح سنے بغیر قرآن شریف کے بارے میں کہتے ہیں  :یہ ایسا کھلا جادو ہے جس کے جادو ہونے میں  کوئی شُبہ نہیں  (ان کی یہ بات باطل ہونے کی صریح دلیل یہ ہے کہ جادو وہ چیز ہے جس کی نظیر ممکن ہے اور قرآنِ مجید کی نظیر ممکن ہی نہیں ، لہٰذا قرآن جادو ہر گز نہیں  ہے)۔( جلالین ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ص۴۱۶ ،  مدارک ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ص۱۱۲۴ ،  ملتقطاً)

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـاؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِؕ-كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْؕ-وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا کہتے ہیں  انہوں  نے اسے جی سے بنایا تم فرماؤ اگر میں  نے اسے جی سے بنالیا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں  رکھتے وہ خوب جانتا ہے جن باتوں  میں  تم مشغول ہو اور وہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ وہ یہ کہتے ہیں  کہ اس(نبی) نے خود ہی قرآن بنالیا ہے ۔ تم فرماؤ: اگر میں  نے اسے خود ہی بنایا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرے لئے کسی چیز کے مالک نہیں  ہو ۔وہ خوب جانتا ہے جن باتوں  میں  تم مشغول ہواور میرے اور تمہارے درمیان وہ کافی گواہ ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

{اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ: بلکہ وہ یہ کہتے ہیں  کہ اس(نبی) نے خود ہی قرآن بنالیا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ کفارِ مکہ کا قرآنِ مجید کو جادو کہنا ایک طرف ،وہ تو اس سے بھی بدتر بات یہ کہتے ہیں  کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خود ہی قرآن بنالیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیاہے۔اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں  کہ اگر



Total Pages: 250

Go To