Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

الآیۃ: ۲ ،  ۵ / ۱۹۳۱)

قرآنِ مجید کی چار خوبیاں :

            اس آیت سے قرآنِ کریم کی چار خوبیاں  معلوم ہوئیں ،

(1)…قرآنِ عظیم کسی انسان یا جن کا کلام نہیں  بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔

(2)…قرآنِ مجید حق اور سچ ہے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا‘‘(النساء:۱۲۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہے؟

(3)…قرآنِ کریم اپنی عبارت اور معنی دونوں  کے اعتبار سے تمام کتابوں  پر غالب ہے کیونکہ اس کتاب کو نازل فرمانے والے کی شان یہ ہے کہ وہ عزت والا اور غلبے والا ہے اور قرآن کلامِ الہٰی ہے جو کہ اللہ  تعالیٰ کی صفت ہے۔

(4)…قرآنِ حکیم انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پر مشتمل ہے کیونکہ یہ حکمت والے رب تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو اہے ۔      

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک مقرر میعاد پراور کافر اس چیز سے کہ ڈرائے گئے منہ پھیرے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ ہی اور ایک مقررہ مدت تک (کیلئے)بنایا اور کافر اس چیز سے منہ پھیرے ہیں  جس سے انہیں  ڈرایا گیا ہے۔

{مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ: ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ بنایا۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ ہی بنایا تاکہ وہ ہماری قدرت ،وحدانیّت ،کمال کی باقی صفات ،اور ہر نقص و عیب سے پاک ہونے پر دلالت کریں  کیونکہ تخلیق کے ذریعے حق کی پہچان ہوتی ہے اور ہر صَنعَت اپنے بنانے والے کے وجود اور اس کے کمال کی صفت کے ساتھ مُتَّصف ہونے پر دلالت کرتی ہے ،نیزانہیں  ہمیشہ باقی رہنے کے لئے نہیں  بنایا بلکہ ایک مقررہ مدت تک کیلئے بنایا ہے اوروہ مقررہ مدت قیامت کا دن ہے جس کے آجانے پر آسمان اور زمین فنا ہوجائیں  گے اور جس چیز سے کفار کو ڈرایا گیا ہے وہ اس پر ایمان لانے سے منہ پھیرے ہوئے ہیں  ۔اس چیز سے مراد عذاب ہے، یااس سے قیامت کے دن کی وحشت مراد ہے، یااس سے قرآنِ پاک مراد ہے جو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کا حساب لئے جانے کا خوف دلاتا ہے۔(جلالین مع صاوی ،  الاحقاف ، تحت الآیۃ:۳ ،  ۵ / ۱۹۳۱ ،  خازن ، الاحقاف ، تحت الآیۃ:۳ ، ۴ / ۱۲۲ ،  مدارک ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ص۱۱۲۳ ،  ملتقطاً)

آیت ’’وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے 5باتیں  معلوم ہوئیں  ،

(1)…اس آیت سے ثابت ہوا کہ اس جہان کاایک خدا ہے اور یہ وہ ہے جس کی قدرت کے آثار آسمانوں  اور زمین میں  کئی طرح سے ظاہر ہیں  ۔

(2)…اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو عَبَث ،بے کار اور بے فائدہ نہیں  بنایا بلکہ ہر چیز کو کسی نہ کسی حکمت سے بنایا ہے۔

(3)… تمام مخلوقات کو پیدا فرمائے جانے کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعے لوگ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کریں  اور اس کی قدرت و وحدانیّت پر ایمان لائیں ۔

(4)… مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا اور قیامت کا واقع ہونا حق ہے کیونکہ اگر قیامت قائم نہ ہو تو ظالموں  سے مظلوموں  کا حق لینا رہ جائے گا اور اطاعت گزار مومنین ثواب کے بغیر اور کافر عذاب کے بغیر رہ جائیں  گے اور یہ اس حقیقت کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ ہی بنایا ہے۔

(5)…اس جہان کو اس لئے پیدا نہیں  کیا گیا کہ یہ ہمیشہ کے لئے باقی رہے بلکہ اسے ایک مخصوص مدت تک مُکَلَّف لوگوں  کے لئے عمل کرنے کا مقام بنایا ہے تاکہ وہ یہاں  نیک عمل کر کے آخرت میں  اس کی اچھی جز اپائیں ، لہٰذا ہر شخص کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اس سے کیا مطلوب ہے اور اسے کس لئے پیدا کیاگیاہے۔( تفسیرکبیر ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۱۰ / ۵-۶ ،  روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۸ / ۴۶۱-۴۶۲ ،  ملتقطاً)

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِؕ-اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان:  تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھے دکھاؤانہوں  نے زمین کا کون سا ذرّہ بنایا یا آسمان میں  اُن کا کوئی حصّہ ہے میرے پاس لاؤ اس سے پہلی کوئی کتاب یا کچھ بچا کھچا علم اگر تم سچے ہو ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: بھلا بتاؤ تو کہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ،مجھے دکھاؤکہ انہوں  نے زمین کا کون سا ذرہ بنایاہے یا آسمانوں  میں  ان کا کوئی حصہ ہے؟ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب یا کچھ بچا کھچا علم ہی لے آؤ اگر تم سچے ہو۔

{قُلْ اَرَءَیْتُمْ: تم فرماؤ: بھلا بتاؤ۔} اس آیت میں  بتوں  وغیرہ کی پوجا کرنے والوں  کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کافروں  سے فرما دیں : اللہ تعالیٰ کی بجائے جن بتوں  وغیرہ کی تم عبادت کرتے ہو ، اگر وہ حقیقی معبود ہیں  تو اس کی دلیل کے طور پر مجھے دکھاؤکہ انہوں  نے زمین کا کون سا ذرہ بنایاہے یا آسمانوں  کو پیدا کرنے میں  ان



Total Pages: 250

Go To