Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

حاصل کرنے کے مقابلے میں  آخرت کی ہمیشہ رہنے والی کامیابی حاصل کرنے کی زیادہ کوشش کرے ،جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ

’’ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۶۰)لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ‘‘(صافات:۶۰ ، ۶۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک یہی بڑی کامیابی ہے۔ ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں  کو عمل کرنا چاہیے۔

            اللہ تعالیٰ ہمیں  آخرت میں  کامیابی حاصل کرنے کے لئے بھر پور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

آیت ’’فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں ،

(1)…جب تک اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی شخص کی دستگیری نہ کرے اس وقت تک کوئی شخص محض اپنی نیکیوں  کی وجہ سے جنتی نہیں  ہو سکتا ۔

(2)… ایمان کے ساتھ تقویٰ بھی ضروری ہے اور کوئی شخص نیک اعمال سے بے پرواہ نہیں  ہوسکتا ۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا- اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو کافر ہوئے ان سے فرمایا جائے گا کیا نہ تھا کہ میری آیتیں  پڑھی جاتی تھیں  تو تم تکبر کرتے تھے اور تم مجرم لوگ تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کافر ہوئے (ان سے فرمایا جائے گا) کیا تمہارے سامنے میری آیتیں  نہ پڑھی جاتی تھیں  تو تم تکبر کرتے تھے اور تم مجرم لوگ تھے۔

{وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور جو کافر ہوئے۔} ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں  نے دنیا میں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا انکار کیا اور اسے یکتامعبود نہ مانا ان سے قیامت کے دن فرمایا جائے گا ’’کیا دنیا میں تمہارے سامنے میری آیتیں  نہ پڑھی جاتی تھیں ؟ (ضرور پڑھی جاتی تھیں ) لیکن تم انہیں  سننے،ان پر ایمان لانے اور حق بات قبول کرنے سے تکبر کرتے تھے اور تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والے،گناہوں  میں  مشغول رہنے والے،قیامت کی تصدیق نہ کرنے والے ،ثواب اور سزا پر ایمان نہ لانے والے لوگ تھے۔( تفسیر طبری ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۱۱ / ۲۶۸ ،  تفسیرکبیر ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۹ / ۶۸۱ ،  ملتقطاً)

             مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں  ان کفار کا ذکر ہے جن تک نبی کی تعلیم پہنچی اور انہوں  نے قبول نہ کی لیکن وہ لوگ جو فَتْرَتْ کے زمانہ میں  گزر گئے اگر مُوَحِّد (یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے والے) تھے تو نجات پائیں  گے ،اگر مشرک تھے تو پکڑے جائیں  گے مگر ان سے یہ سوا ل نہ ہوگا کیونکہ ان تک آیاتِ الہٰیہ پہنچی ہی نہیں۔( نور العرفان، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۸۰۰)

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُۙ-اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ(۳۲)وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب کہا جاتا بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں  شک نہیں  تم کہتے ہم نہیں  جانتے قیامت کیا چیز ہے ہمیں  تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں  یقین نہیں ۔ اور اُن پر کھل گئیں  ان کے کاموں  کی بُرائیاں  اور اُنھیں  گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب کہا جاتا کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں  کوئی شک نہیں  توتم کہتے تھے: ہم نہیں  جانتے ،قیامت کیا چیز ہے؟ ہمیں  تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں  یقین نہیں  ہے۔ اور ان کیلئے ان کے اعمال کی برائیاں کھل جائیں  گی اور انہیں  وہی عذاب گھیر لے گا جس کی وہ ہنسی اڑاتے تھے۔

{وَ اِذَا قِیْلَ: اور جب کہا جاتا۔} یعنی اس وقت ان کفار سے یہ بھی کہا جائے گا ’’ جب تم سے کہا جاتا کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ سچا ہے جو ا س نے اپنے بندوں  سے کیا کہ وہ مرنے کے بعد زندہ کئے جائیں  اور اپنی قبروں  سے اٹھائے جائیں گے اور قیامت ،جس کے بارے میں  انہیں  خبر دی گئی کہ اللہ تعالیٰ اسے بندوں  کے حشر کے لئے قائم فرمائے گا اور اس دن انہیں  حساب کے لئے جمع کرے گا ،اس کے آنے میں  کوئی شک نہیں  توتم اللہ تعالیٰ کے وعدے کو جھٹلاتے ہوئے اور اس کی قدرت کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے: ہم نہیں  جانتے ،قیامت کیا چیز ہے؟اور کہتے تھے کہ ہمیں  تو یونہی قیامت آنے کاکچھ گمان سا ہوتا ہے لیکن ہمیں  اس کے آنے کا یقین نہیں  ہے۔( تفسیر طبری ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۱۱ / ۲۶۸) اس سے معلوم ہوا کہ عقائد کے معاملے میں  بے یقینی کی کیفیت تباہ ُکن ہوتی ہے۔

{وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا: اور ان کیلئے ان کے اعمال کی برائیاں کھل گئیں ۔} اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ آخرت میں  کفار کے سامنے ان کے دنیا میں  کئے ہوئے برے اعمال انتہائی بری شکلوں  میں ظاہر ہو ں گے اور ان پروہی عذاب اتر پڑے گا اور انہیں  گھیر لے گا جس کی دنیا میں  ہنسی اڑاتے تھے۔ (روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ۸ / ۴۵۸ ،  جلالین ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ص۴۱۵ ،  ملتقطاً)

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور فرمایا جائے گا آج ہم تمہیں  چھوڑدیں  گے جیسے تم اپنے اس دن کے ملنے کو بھولے ہوئے تھے اور تمہارا ٹھکانا آ گ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور فرمایا جائے گا: آج ہم تمہیں  چھوڑدیں  گے جیسے تم نے اپنے اس دن کے ملنے کو بھلایا ہوا تھا اور تمہارا ٹھکانہ آ گ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ۔

{وَ قِیْلَ: اور فرمایا جائے گا۔} ارشاد فرمایا کہ ان کافروں  سے قیامت کے دن فرمایا جائے گا :آج ہم تمہیں  جہنم کے عذاب میں  اسی طرح چھوڑ دیں  گے جس طرح تم نے دنیا میں  ایمان قبول کرنے اور ا س دن کی ملاقات کے لئے عمل کرنے کو چھوڑا ہوا تھا ، تمہارا ٹھکانہ جہنم کی آ گ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں  جو تمہیں  اس عذاب سے بچاسکے۔( خازن ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ۴ / ۱۲۱ ،  جلالین ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ص۴۱۵ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 250

Go To