Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

خازن ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ۴ / ۱۲۰-۱۲۱ ،  ملتقطاً)

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ تمہیں  جِلاتا ہے پھر تم کو مارے گا پھر تم سب کو اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں  کوئی شک نہیں  لیکن بہت آدمی نہیں  جانتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ :اللہ تمہیں  زندگی دیتاہے پھروہ تمہیں  مارے گا پھر تم سب کوقیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں  کوئی شک نہیں ، لیکن بہت آدمی نہیں  جانتے۔

{قُلْ: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان لوگوں  سے فرما دیں  کہ تم پہلے بے جان نطفہ تھے ،اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں  زندگی دی، پھروہ تمہاری عمریں  پوری ہونے کے وقت تمہیں  مارے گا، پھر تم سب کو زندہ کرکے قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں  کوئی شک نہیں ، تو جو پروردگار عَزَّوَجَلَّ ایسی قدرت والا ہے وہ تمہارےباپ دادا کو زندہ کرنے پر بھی یقینا قادر ہے، وہ سب کو زندہ کرے گا، لیکن بہت سے آدمی ا س بات کو نہیں  جانتے کہ اللہ تعالیٰ مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے اور ان کا نہ جاننا اس وجہ سے ہے کہ وہ زندہ کئے جانے کے دلائل کی طرف مائل نہیں  ہوتے اور نہ ہی ان میں  غور کرتے ہیں ۔( مدارک ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۱۱۲۱ ،  جلالین ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۴۱۵ ،  ملتقطاً)

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَىٕذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں  اور زمین کی سلطنت اور جس دن قیامت قائم ہوگی باطل والوں  کی اس دن ہار ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آسمانوں  اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے خسارہ پائیں  گے۔

{وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: اور آسمانوں  اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے۔} اس سے پہلی آیت میں  اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ پہلی بار زندہ کرنے پر قادر ہے اور دوسری بار بھی زندہ کرنے پر قادر ہے، اور ا س آیت میں  زندہ کرنے کی قدرت ہونے پر اللہ تعالیٰ نے ایک عام فہم دلیل بیان فرمائی کہ آسمانوں  اور زمین کی تمام ممکن چیزوں  پر اللہ تعالیٰ قادر ہے اور جب تمام ممکن چیزوں  میں  اللہ تعالیٰ کی قدرت ثابت ہے اوریہ بات بھی ثابت ہے کہ مرنے کے بعد زندگی مل جانا ممکن ہے کیونکہ اگر زندگی ملنا ممکن نہ ہو تو پہلی بار بھی زندگی نہ ملتی تو ا س سے ثابت ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔( تفسیرکبیر ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۹ / ۶۸۰)

{وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ: اور جس دن قیامت قائم ہوگی۔} حشر و نشر کے ممکن ہونے کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آیت کے اس حصے سے قیامت کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن جہنمی ہونے کی صورت میں  کافروں  کا نقصان میں  ہونا ظاہر ہو جائے گا۔ (تفسیرکبیر ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۹ / ۶۸۰ ،  جلالین ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ص۴۱۵ ،  ملتقطاً)

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً- كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَاؕ-اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۲۸)هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّؕ-اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تم ہر گروہ کو دیکھو گے زانو کے بل گرے ہوئے ہر گروہ اپنے نامۂ اعمال کی طرف بلایا جائے گا آج تمہیں  تمہارے کئے کا بدلہ دیا جائے گا۔ ہمارا یہ نَوِشْتَہ تم پر حق بولتا ہے ہم لکھتے رہے تھے جو تم نے کیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم ہر گروہ کو زانو کے بل گرے ہوئے دیکھو گے، ہر گروہ اپنے نامۂ اعمال کی طرف بلایا جائے گا (اور کہا جائے گاکہ) آج تمہیں  تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔یہ ہمارا لکھا ہوا ہے جو تم پر حق بولتا ہے،بیشک ہم لکھتے رہے تھے جو تم کیا کرتے تھے۔

{وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً: اور تم ہر گروہ کو زانو کے بل گرے ہوئے دیکھو گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم قیامت کے دن یہ منظر بھی دیکھو گے کہ ہر دین والے زانو کے بل گرے ہوئے ہوں گے کیونکہ وہ خوفزدہ ہوں  گے اور اپنے اعمال کے بارے میں  سوالات کئے جانے اور حساب لئے جانے کی وجہ سے بے چین ہوں  گے ، ہردین والا اپنے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا اور ا ن سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں  تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ،یہ وہ (اعمال نامہ) ہے جسے لکھنے کا ہم نے فرشتوں  کو حکم دیا تھا، یہ کسی کمی زیادتی کے بغیر تمہارے خلاف تمہارے عملوں  کی گواہی دے گا،بیشک ہم نے فرشتوں کو تمہارے عمل لکھنے کا حکم دیا تھا توگویا کہ تمہارے اعمال ہم ہی لکھ رہے تھے۔( جلالین ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۸-۲۹ ،  ص۴۱۵ ،  روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۸-۲۹ ،  ۸ / ۴۵۳-۴۵۴ ،   تفسیر کبیر ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۸-۲۹ ،  ۹ / ۶۸۱ ،  ملتقطاً)

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب انھیں  اپنی رحمت میں  لے گا یہی کھلی کامیابی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو وہ جو ایمان لائے اور انہوں  نے اچھے کام کئے ان کا رب انہیں  اپنی رحمت میں  داخل فرمائے گا۔ یہی کھلی کامیابی ہے۔

{فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ: تو وہ جو ایمان لائے اور انہوں  نے اچھے کام کئے۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اطاعت گزاروں  کاانجام بیان فرمایا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جو دنیا میں  ایمان لائے اور انہوں  نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا اور کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں  ٹھہرایا اور جن کاموں  کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وہ کام کئے اور جن کاموں  سے منع کیا ان سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ انہیں  اپنی رحمت کے صدقے جنت میں  داخل فرمائے گا اور قیامت کے دن یہی بڑی کامیابی ہے۔( تفسیرکبیر ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۹ / ۶۸۱ ،  تفسیر طبری ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۱۱ / ۲۶۷ ،  ملتقطاً)

اُخروی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش زیادہ کی جائے:

            اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن جہنم سے نجات مل جانا اور جنت میں  داخلہ نصیب ہو جانا ہی حقیقی طور پر بڑی کامیابی ہے، لہٰذا ہر شخص کوچاہئے کہ وہ دنیا کی ناپائیدار کامیابی



Total Pages: 250

Go To