Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(1)…حضرت اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،سرکار ِدو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’تین چیزیں  ہلاکت میں  ڈالنے والی ہیں ۔(1)وہ بخل جس کی اطاعت کی جائے۔ (2)وہ نفسانی خواہشات جن کی پیروی کی جائے۔(3)آدمی کا اپنے آپ کو اچھا سمجھنا۔ (شعب الایمان ،  الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۱ / ۴۷۱ ،  الحدیث: ۷۴۵)

(2)…حضرت عبداللہ بن عمر و رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں  سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں  ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے (دین) کے تابع نہ ہوجائے۔( شرح السنہ ،  کتاب الایمان ،  باب ردّ البدع والاہواء ،  ۱ / ۱۸۵ ،  الحدیث: ۱۰۴)

(3)…حضرت شَدَّاد بن اَوس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے جبکہ عاجز وہ ہے جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگا رہے اور اللہ تعالیٰ سے امید رکھے۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ،  ۲۵-باب ،  ۴ / ۲۰۷ ،  الحدیث: ۲۴۶۷)

(4)…حضرت ابوثَعْلَبَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم پر اچھی باتوں  کا حکم دینا اور بری باتوں  سے روکنا بھی ضرور ی ہے یہاں  تک کہ جب تم بخل کرنے والے کی اطاعت، نفسانی خواہشات کی پیروی،دنیا سے پیار اور ہر صاحبِ رائے کو اپنی رائے اچھی سمجھنے والا دیکھو تو تم پر اپنی فکر کرنا لازم ہے۔( ابو داؤد ،  کتاب الملاحم ،  باب الامر والنہی ،  ۴ / ۱۶۴ ،  الحدیث: ۴۳۴۱)

 (5)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدار ِرسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ نے جنت پیدا کی تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا’’ جاؤ اسے دیکھو ۔وہ گئے، اسے اور جو نعمتیں  اس میں  جنتیوں  کے لیے اللہ تعالیٰ نے تیار کی ہیں  انہیں  دیکھا ،پھر آئے اورعرض کی: یا رب! تیری عزت کی قسم،جو(اس کے بارے میں ) سنے گا وہ اس میں  داخل ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مَشَقَّتوں  سے گھیر دیا اور فرمایا’’ اے جبریل !جاؤ اسے دیکھ کر آؤ۔ وہ گئے اور اسے دیکھا،پھر آئے اورعرض کی:یارب !تیری عزت کی قسم، مجھے خطرہ ہے کہ جنت میں  کوئی داخل نہ ہوسکے گا ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آگ پیدا کی تو فرمایا’’ اے جبریل! جاؤ اور اسے دیکھو۔ وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر آئے اورعرض کی: یارب! تیری عزت کی قسم،جو اس کے بارے میں  سنے گاوہ اس میں  داخل نہ ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے اسے لذّتوں  سے گھیر دیا ،پھر فرمایا’’ اے جبریل! اسے دیکھو۔ وہ گئے اور اسے دیکھ کرعرض کی: یارب! تیری عزت کی قسم مجھے خطرہ ہے کہ اس میں  داخل ہوئے بغیر کوئی نہ بچے گا۔( ابو داؤد ،  کتاب السنّۃ ،  باب فی خلق الجنّۃ والنار ،  ۴ / ۳۱۲ ،  الحدیث: ۴۷۴۴)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  نفسانی خواہشات کی پیروی سے بچنے اور قرآن و حدیث کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُۚ-وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍۚ-اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بولے وہ تو نہیں  مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی مرتے ہیں  اور جیتے ہیں  اور ہمیں  ہلاک نہیں  کرتا مگر زمانہ اور اُنھیں  اس کا علم نہیں  وہ تو نرے گمان دوڑاتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورانہوں  نے کہا:زندگی تو صرف ہماری دنیاوی زندگی ہی ہے ، ہم مرتے ہیں  اور جیتے ہیں  اور ہمیں  زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے اور انہیں  اس کا کچھ علم نہیں ، وہ صرف گمان دوڑاتے ہیں ۔

{وَ قَالُوْا: اورانہوں  نے کہا۔} مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرنے والوں  کوجب دوسری مرتبہ زندہ کئے جانے کا وعدہ سنایا گیا تو انہوں  نے اپنی انتہائی سرکشی اور گمراہی کی بنا پر کہا کہ دنیا کی جو زندگی ہم گزار رہے ہیں  اس کے علاوہ اور کوئی زندگی نہیں ،ہم میں  سے بعض مرتے ہیں  اور بعض پیدا ہوتے ہیں  اور ہمیں  صرف دن اور رات کا آنا جانا ہی ہلاک کرتا ہے۔مشرکین مرنے کے معاملے میں زمانے کو ہی مؤثِّر مانتے تھے جبکہ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام کا اور اللہ تعالیٰ کےحکم سے روحیں  قبض کئے جانے کا انکار کرتے تھے اور ہر مصیبت کو دَہْر اور زمانے کی طرف منسوب کرتے تھے ، اس لئے انہوں  نے یہ کہا۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ وہ یہ بات علم اور یقین کی بنا پر نہیں  کہتے بلکہ واقع کے برخلاف صرف گمان دوڑاتے ہیں۔(روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۸ / ۴۴۹ ،  مدارک ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ص۱۱۲۰ ،  ملتقطاً)

 زمانے کو برا کہنا ممنوع ہے:

            یہاں  ایک مسئلہ یاد رکھیں  کہ مصیبتوں  اور تکلیفوں  کو زمانے کی طرف منسوب کرنا اور ناگوار مصیبتیں  آنے پر زمانے کو برا کہنا ممنوع ہے کیونکہ احادیث میں  اس کی ممانعت آئی ہے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’آدم کی اولاد زمانے کو گالیاں  دیتی ہے جبکہ زمانہ (کا خالق)میں  ہوں ،رات اور دن میرے قبضے میں  ہیں ۔( بخاری ،  کتاب الادب ،  باب لا تسبّوا الدہر ،  ۴ / ۱۵۰ ،  الحدیث: ۶۱۸۱)

            یہی آج کل کے دہریوں  کی حالت ہے جو دَہْر یعنی زمانے کی طرف ہی سب کچھ منسوب کرتے ہیں  اور خدا کا انکار کرتے ہیں ، اگرچہ انہیں  آج تک اس بات کی کوئی دلیل نہیں  ملی کہ اگر کوئی خالق نہیں  ہے تو مخلوق کیسے وجود میں  آگئی؟ دہریے ابھی تک بے معنیٰ و فضول تھیوریاں  پیش کرنے میں  لگے ہوئے ہیں  اورحقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت تک دنیا کے وجود میں  آنے کی کوئی توجیہ نہیں  کرسکتے جب تک کہ خالقِ حقیقی کے وُجود کو تسلیم نہیں  کریں  گے۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآىٕنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب اُن پر ہماری روشن آیتیں  پڑھی جائیں  تو بس اُن کی حجت یہی ہوتی ہے کہ کہتے ہیں  ہمارے باپ دادا کو لے آؤ تم اگر سچے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں  پڑھی جاتی ہیں  تو ان کی (جوابی)دلیل صرف یہ ہوتی ہے کہ کہتے ہیں : اگر تم سچے ہوتوہمارے باپ دادا کو لے آؤ۔

{وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ: اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں  پڑھی جاتی ہیں ۔} یعنی جب ان مشرکین کے سامنے قرآنِ پاک کی وہ آیتیں  پڑھی جاتی ہیں  جن میں  اس بات کی دلیلیں  مذکور ہیں  کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو ان کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے اور وہ کفار اُن دلیلوں  کا جواب دینے سے عاجز ہو جاتے ہیں  تو ان کی جوابی دلیل صرف یہ ہوتی ہے کہ اگر تم مُردوں  کو دوبارہ زندہ کئے جانے کی بات میں سچے ہوتوہمارے باپ دادا کوزندہ کرکے لے آؤتاکہ ہم دوبارہ زندہ ہونے پر یقین کر لیں ۔(مدارک ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ص۱۱۲۰ ،  



Total Pages: 250

Go To