Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

،جبکہ فی زمانہ صورتِ حال یہ ہے کہ قرآنِ پاک سمجھنا اور اس میں  غوروفکر کرنا تو بہت دور کی بات ہے یہاں  تو قرآن پاک گھروں  میں  ہفتوں  بلکہ مہینوں  صرف جُزدان اورالماریوں  کی زینت نظر آتا ہے اور اس کا خیال آجانے پر اس سے چمٹی ہو ئی گرد صاف کر کے دوبارہ اسی مقام پر رکھ دیا جاتا ہے اور اگر کبھی ا س کی تلاوت کی توفیق نصیب ہو جائے تو اس کے تَلَفُّظ کی ادائیگی کاحال بہت برا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کے حالِ زار پر رحم فرمائے اور قرآنِ پاک صحیح طریقے سے پڑھنے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا فرمایا کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے داؤد کوسلیمان عطا فرمایا، وہ کیا اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا ہے۔

{وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ: اور ہم نے داؤد کوسلیمان عطا فرمایا۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو فرزند ِاَرْجْمند حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عطا فرمایا،سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کیسا اچھا بندہ ہے ،بیشک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والا اور تمام اوقات تسبیح و ذکر میں  مشغول رہنے والا ہے۔( جلالین، ص، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۳۸۲، ملخصاً) اس آیت سے معلوم ہوا کہ نیک بیٹا اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے ۔

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ(۳۱) فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْۚ-حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ(۳۲) رُدُّوْهَا عَلَیَّؕ-فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: جبکہ اس پر پیش کئے گئے تیسرے پہر کو کہ روکئے تو تین پاؤں  پر کھڑے ہوں  چوتھے سُم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے اور چلائیے تو ہوا ہوجائیں ۔تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں  کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے پھر انہیں  چلانے کا حکم دیا یہاں  تک کہ نگاہ سے پردے میں  چھپ گئے۔  پھر حکم دیا کہ انہیں  میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں  اور گردنوں  پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب اس کے سامنے شام کے وقت ایسے گھوڑے پیش کئے گئے جوتین پاؤں  پر کھڑے (اور) چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے تھے ، بہت تیز دوڑنے والے تھے۔تو سلیمان نے کہا: مجھے اپنے رب کی یاد کیلئے ان گھوڑوں  کی محبت پسند آئی ہے (پھر انہیں  چلانے کا حکم دیا) یہاں  تک کہ وہ نگاہ سے پردے میں  چھپ گئے۔(پھر حکم دیا کہ) انہیں  میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں  اور گردنوں  پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

{اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ: جب اس کے سامنے پیش کئے گئے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت میں  ظہر کی نماز کے بعد جہاد کے لئے ایک ہزار گھوڑے پیش کئے گئے تاکہ وہ انہیں  دیکھ لیں  اور ان کے اَحوال کی کَیفِیَّت سے واقف ہو جائیں  ،ان گھوڑں  میں  خوبی یہ تھی کہ وہ تین پاؤں  پر کھڑے اور چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے تھے جو ایک خوبصورت انداز تھا اور وہ بہت تیز دوڑنے والے تھے ۔انہیں  دیکھ کر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:’’میں  ان سے اللہ تعالیٰ کی رضاء اور دین کی تَقْوِیَت و تائیدکے لئے محبت کرتا ہوں ، میری ان کے ساتھ محبت دُنْیَوی غرض سے نہیں  ہے۔ پھرحضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں  چلانے کا حکم دیا یہاں  تک کہ وہ نظر سے غائب ہوگئے،پھر حکم دیا کہ انہیں  میرے پاس واپس لاؤ، جب گھوڑے واپس پہنچے تو حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کی پنڈلیوں  اور گردنوں  پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ اس ہاتھ پھیرنے کی چند وجوہات تھیں ،

(1)… گھوڑوں  کی عزت و شرف کا اظہار مقصود تھاکہ وہ دشمن کے مقابلے میں  بہتر مددگار ہیں ۔

(2)… اُمورِ سلطنت کی خود نگرانی فرمائی تا کہ تمام حُکام مُستَعِد رہیں  ۔

(3)… آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گھوڑوں  کے اَحوال اور ان کے اَمراض و عُیوب کے اعلیٰ ماہر تھے ان پر ہاتھ پھیر کر اُن کی حالت کا امتحان فرماتے تھے۔ بعض لوگوں نے ان آیات کی تفسیر میں  بہت سے غلط اَقوال لکھ دیئے ہیں  جن کی صحت پر کوئی دلیل نہیں  اور وہ محض حکایات ہیں  جو مضبوط دلائل کے سامنے کسی طرح قابلِ قبول نہیں  اور یہ تفسیر جو ذکر کی گئی یہ الفاظ ِ قرآنی سے بالکل مطابق ہے۔( جلالین، ص، تحت الآیۃ: ۳۱-۳۳،ص۳۸۲، تفسیرکبیر، ص، تحت الآیۃ: ۳۱-۳۳، ۹ / ۳۸۹-۳۹۲، ملتقطاً)

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور بیشک ہم نے سلیمان کو جانچا اور اسکے تخت پر ایک بے جان بدن ڈال دیا پھر رُجوع لایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے سلیمان کو آزمایااور اس کے تخت پر ایک بے جان بدن ڈال دیاپھر اس نے رجوع کیا۔

{وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ: اور بیشک ہم نے سلیمان کوجانچا۔} علامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے یہ بیان نہیں  فرمایا کہ جس آزمائش میں حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مبتلا کیا گیا وہ کیا تھی اور نہ ہی یہ بیان فرمایا ہے کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تخت پر جس بے جان جسم کو ڈالا گیا ا س کا مِصداقکون ہے،البتہ اس کی تفسیر کے زیادہ قریب وہ حدیث ہے جس میں  حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اِنْ شَآئَ اللہ نہ کہنے کا ذکر ہے۔( البحرالمحیط، ص، تحت الآیۃ: ۳۴، ۷ / ۳۸۱)

            وہ حدیث یہ ہے،حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا تھا کہ میں  آج رات میں  اپنی 90 بیویوں  کے پاس جاؤں  گا،ان میں  سے ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہِ خدا میں  جہاد کرنے والا سوار پیدا ہوگا،لیکن یہ فرماتے وقت زبانِ مبارک سے اِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰی نہ فرمایا تو ایک عورت کے علاوہ کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی اور اس کے ہاں  بھی ناقص بچہ پیدا ہوا ۔نبیٔ  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’اس کی قسم! جس کے قبضۂ



Total Pages: 250

Go To