Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ہماری آیتوں  میں  سے کسی پر اطلاع پائے اس کی ہنسی بناتا ہے اُن کے لیے خواری کا عذاب۔اُن کے پیچھے جہنم ہے اور اُنھیں  کچھ کام نہ دے گا ان کا کمایا ہوا اور نہ وہ جو اللہ کے سوا حمایتی ٹھہرا رکھے تھے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ یہ راہ دکھانا ہے اور جنھوں  نے اپنے رب کی آیتوں  کو نہ مانا اُن کے لیے دردناک عذاب میں  سے سخت تر عذاب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب اسے ہماری آیتوں  میں  سے کسی کاعلم ہوتا ہے تواسے ہنسی بنالیتا ہے، ان کیلئے ذلیل کردینےوالا عذاب ہے۔ ان کے پیچھے جہنم ہے اور ان کا کمایا ہوامال انہیں  کچھ کام نہ دے گا اورنہ وہ جنہیں  اللہ کے سوا انہوں  نے مددگار بنا رکھا ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ یہ عظیم ہدایت ہے اور جنہوں  نے اپنے رب کی آیتوں  کو نہ مانا ان کے لیے سخت تر عذاب میں  سے دردناک عذاب ہے۔

{وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْــٴًـا: اور جب اسے ہماری آیتوں  میں  سے کسی کاعلم ہوتا ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس بڑے بہتان باندھنے والے، گنہگار کا حال یہ ہے کہ جب ا س تک ہماری کوئی آیت پہنچے اور اسے پتا چل جائے کہ یہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہونے والی آیت ہے تو وہ اس کا مذاق اڑانے لگتا ہے اور صرف اس آیت کا مذاق اڑانے تک ہی محدود نہیں  رہتا بلکہ پورے قرآن کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ ایسے لوگوں کیلئے ذلیل و رسواکردینے والا عذاب ہے اور اس کا انجام موت کے بعد بالآخر جہنم ہے اور ان کا کمایا ہوا وہ مال انہیں  کچھ کام نہ دے گا جس پر وہ بہت نازاں ہیں  اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن بتوں  کی پوجا کرتے ہیں  وہ بھی انہیں  کچھ کام نہ دیں  گے اور ان کے لیے ایسا بڑا عذاب ہے جس کی حقیقت انہیں  معلوم نہیں ۔( جمل ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۹-۱۰ ،  ۷ / ۱۳۹ ،  روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۹-۱۰ ،  ۸ / ۴۳۸-۴۳۹ ،  ملتقطاً)

{هٰذَا هُدًى: یہ عظیم ہدایت ہے۔} یعنی یہ قرآن ہدایت میں  کمال کو پہنچا ہوا ہے تو گویا کہ یہ عظیم ہدایت ہے اور وہ لوگ جنہوں  نے اپنے رب کی آیتوں  کو نہ مانا تو ان کے لیے سخت تر عذاب میں  سے دردناک عذاب ہے۔( روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۸ / ۴۳۹)

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ ہے جس نے تمہارے بس میں  دریا کردیا کہ اس میں  اس کے حکم سے کشتیاں  چلیں  اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو اور اس لیے کہ حق مانو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ وہی ہے جس نے دریا کوتمہارے تابع کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں  کشتیاں  چلیں  اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اورتاکہ تم شکرگزار بن جاؤ۔

{اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ: اللہ وہی ہے جس نے دریا کوتمہارے تابع کردیا۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے دریاؤں  کی تسخیر کے ذریعے اپنی وحدانیت اور قدرت پر استدلال فرمایا،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! معبود ہونا اسی کے لائق اور شایانِ شان ہے جس نے دریا کوتمہارے تابع کردیا اور اس تابع کرنے میں  حکمتیں  یہ ہیں  کہ اس کے حکم سے دریا میں  کشتیاں  چلیں  اور تم دریائی سفر کے ذریعے تجارت کر کے اور دریاؤں  میں  غوطہ زنی کے ذریعے موتی وغیرہ نکال کراس کا فضل تلاش کرو اور تم اللہ تعالیٰ کی نعمت و کرم اور فضل و احسان کاشکر ادا کر کے اس کا حق مانو ،لہٰذا تم صرف اسی کی عبادت کرو اور جس کام کا اس نے تمہیں  حکم دیا ہے وہ کرو اور جس سے منع کیا ہے ا س سے باز آجاؤ۔( تفسیرطبری ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۱۱ / ۲۵۵ ،  روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۸ / ۴۳۹-۴۴۰ ،  ملتقطاً)

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہارے لیے کام میں  لگائے جو کچھ آسمانوں  میں  ہیں  اور جو کچھ زمین میں  اپنے حکم سے بے شک اس میں  نشا نیاں  ہیں  سوچنے والوں  کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کچھ آسمانوں  میں  اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اپنی طرف سے تمہارے کام میں  لگادیا، بے شک اس میں  سوچنے والوں  کے لئے نشا نیاں  ہیں ۔

{وَ سَخَّرَ لَكُمْ: اور تمہارے کام میں  لگادیا۔} یعنی اے لوگو! جو کچھ آسمان میں  ہے جیسے سورج چاند اور ستارے اور جو کچھ زمین میں ہے جیسے جانور،درخت، پہاڑ اور کشتیاں  وغیرہ سب کا سب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحمت سے تمہارےفائدے اور مصلحت کے لئے کام میں  لگادیا ہے،لہٰذا تم اسی کی حمد کرو،اسی کی عبادت کرو اور صرف اسے ہی معبود مانو کیونکہ تمہیں  یہ نعمتیں  دینے میں  ا س کا کوئی شریک نہیں  بلکہ تم پر اتنے سارے انعامات کرنے میں  وہ یکتا ہے۔ بے شک اِس میں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت پر ان لوگوں  کے لئے عظیم الشّان نشانیاں  ہیں  جو اللہ تعالیٰ کی صنعتوں  میں  غور و فکر کرتے ہیں  اور ان دلائل میں  غور کر کے نصیحت حاصل کرتے ہیں ۔( تفسیرطبری ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۳ ،  ۱۱ / ۲۵۵-۲۵۶ ،  روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۳ ،  ۸ / ۴۴۰ ،  ملتقطاً)

اللہ تعالیٰ کی ذات میں  نہیں  بلکہ اس کی تخلیق میں  غوروفکر کرنا چاہئے:

             یہاں  ایک بات ذہن نشین رکھیں  کہ غور و فکر اللہ تعالیٰ کی ذات میں  نہیں  کرنا چاہئے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیزوں  میں  کرنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں  غورو فکر کرنابعض اوقات کفر تک پہنچا دیتا ہے کیونکہ وہ انسانی عقل سے ماوراء ہے جبکہ اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں  میں  غورو فکر کرنا ایمان کی سعادتوں  سے سرفراز کر دیتا ہے، جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،تاجدار ِرسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کی نعمتوں  میں  غوروفکر کرو اور اللہ تعالیٰ کی ذات میں  غوروفکر نہ کرو۔( معجم الاوسط ،  باب المیم ،  من اسمہ: محمد ،  ۴ / ۳۸۳ ،  الحدیث: ۶۳۱۹)

            اور حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’شیطان تم میں  سے کسی ایک کے پاس آ کر کہتا ہے: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔پھر شیطان سوال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟جب تم میں  سے کوئی ایک ایسا سوال سنے تو کہہ دے کہ میں  اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول پر ایمان لایا۔( معجم الاوسط ،  باب الالف ،  من اسمہ: احمد ،  ۱ / ۵۱۴ ،  الحدیث: ۱۸۹۶)

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴)

 



Total Pages: 250

Go To