Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(6)…اس سو رت کے آخر میں  قیامت کے دن کی ہولناکیاں  بیان کی گئیں  نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں  اور کفار کے انجام کے بارے میں  بتایا گیا اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی بیان کی گئی۔

سورۂ دخان کے ساتھ مناسبت:

            سورۂ جاثیہ کی اپنے سے ماقبل سورت ’’دخان‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورہ ٔ دخان کے آخر میں  قرآنِ پاک کا تعارف بیان کیاگیا اور سورۂ جاثیہ کی ابتداء میں  بھی قرآنِ مجید کا تعارف بیان ہوا۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں  سورتوں  میں  کائنات کی تخلیق سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور ا س کی وحدانیت پر استدلال کیاگیا ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

حٰمٓۚ(۱) تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: کتاب کا اُتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:حٰمٓ ۔کتاب کا اتارنا اس اللہ کی طرف سے ہے جو عزت والا، حکمت والاہے۔

{حٰمٓ} یہ حروف مقطّعات میں  سے ایک حرف ہے ،اس کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

{تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ: کتاب کا اتارنا۔} یعنی بندوں  میں  سب سے عظیم ہستی پر سب سے اعلیٰ کتاب قرآنِ پاک کو نازل کرنا ا س اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے جو عزت و حکمت والا ہے اوریہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن حق اور سچ ہے، یہ اپنی مثل لانے سے عاجز کر دینے والا اور غالب ہے،کامل حکمتوں  پر مشتمل ہے، شعر، کہانت اور رستم و اسفندیار کے قصوں  کی طرح نہیں  ہے ، کیونکہ اسے نازل فرمانے والا تمام ممکنات پر قادر ہے،تمام معلومات کا علم رکھنے والا ہے ،تمام حاجتوں  سے بے پروا ہ اور بے نیاز ہے اور جس کی یہ شان ہو اس سے کسی بے کار اور باطل فعل کا صادر ہونا ناممکن اور محال ہے۔( صاوی ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۵ / ۱۹۲۰ ،  روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۸ / ۴۳۴ ،  تفسیرکبیر ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۹ / ۶۶۸ ،  ملتقطاً)

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک آسمانوں  اور زمین میں  نشانیاں  ہیں  ایمان والوں  کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ایمان والوں  کے لیے آسمانوں  اور زمین میں  نشانیاں  ہیں ۔

{اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ: بیشک آسمانوں  اور زمین میں  نشانیاں  ہیں ۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے کائنات میں  موجود اپنی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرنے والی مختلف نشانیاں  بیان فرمائی ہیں  اور ان لوگوں  کے بارے میں  بتایا ہے جو ان نشانیوں  سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھاتے ہیں  اور جنہیں  یہ نشانیاں  مفید ہو سکتی ہیں  ،چنانچہ یہاں  ارشاد فرمایا کہ بیشک آسمانوں  اور زمین کی تخلیق میں  اور ان میں  جو قدرت کے آثار پیدا کئے گئے ہیں  جیسے ستارے، پہاڑ اور دریا وغیرہ،ان میں  ایمان والوں  کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں  موجود ہیں ۔ یاد رہے کہ آسمان ، زمین اور ان میں  موجود چیزیں  اگرچہ تمام لوگوں  کے لئے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت کی نشانیاں  ہیں  لیکن چونکہ ان نشانیوں  سے نفع صرف مومن اٹھاتے ہیں  کہ وہ مخلوق سے اس کے خالق اور بنی ہوئی چیزوں  سے اس کے بنانے والے پر استدلال کرتے اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاتے ہیں ،اس لئے یہاں  خصوصیت کے ساتھ صرف انہیں  کا ذکر فرمایا گیا۔(روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۸ / ۴۳۵ ،  جلالین ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ص۴۱۳ ،  ملتقطاً)

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہاری پیدائش میں  اور جو جو جانور وہ پھیلاتا ہے ان میں  نشانیاں  ہیں  یقین والوں  کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہاری پیدائش میں  اور جو جانور وہ (زمین میں )پھیلاتا ہے ان میں  یقین کرنے والوں  کے لیے نشانیاں  ہیں ۔

{وَ فِیْ خَلْقِكُمْ: اور تمہاری پیدائش میں ۔} یعنی اے لوگو! جس طرح تمہیں  پیدا کیا گیا کہ پہلے تم نطفہ کی صورت میں  تھے،پھر اسے خون بنایا گیا،پھر اس خون کو جما دیا گیا،پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کا ٹکڑا بنا دیا گیا یہاں  تک کہ اسی ٹکڑے سے ذات اور بشری صفات میں  کامل انسان بنا دیا گیا، یونہی زمین کے مختلف حصوں  میں  پھیلائے گئے جانور جو کہ جدا جدا شکل و صورت والے ،الگ الگ اوصاف اور مزاج رکھنے والے ہیں  اور ان کی جنسیں  بھی مختلف ہیں  ،ان سب میں  اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں  ہیں  کیونکہ انسانوں  اور جانوروں  میں  مُعَیَّنشکل، مُعَیَّن وصف اور مُعَیَّن اعضاء کا ہونا،یونہی ان کا عمر کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں  اور ایک حال سے دوسرے حال میں  داخل ہونا کسی قادر ، مختار اور واحد ہستی کے وجود اور تصرّف کے بغیر ممکن نہیں  اور یہ نشانیاں ان لوگوں  کے لئے ہیں  جو یقین کرنے والے ہیں۔(تفسیرکبیر ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ۹ / ۶۷۰ ،  روح البیان ،  الجاثیۃ ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ۸ / ۴۳۵ ،  ملتقطاً)

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور رات اور دن کی تبدیلیوں  میں  اور اس میں  کہ اللہ نے آسمان سے روزی کا سبب مینہ اُتارا تو اس سے زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کیا اور ہواؤں  کی گردش میں  نشانیاں  ہیں  عقل مندوں  کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور رات اور دن کی تبدیلیوں  میں  اور اس میں جو اللہ نے آسمان سے رزق کا سبب بارش اتاری تو اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا اور ہواؤں  کی گردش



Total Pages: 250

Go To