Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

لگاتے ہو؟

            اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

’’اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ اِنَاثًاؕ-اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا‘‘(بنی اسرائیل:۴۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تمہارے رب نے تمہارے لئے بیٹے چن لئے اور اپنے لیے فرشتوں  سے بیٹیاں  بنالیں ۔ بیشک تم بہت بڑی بات بول رہے ہو۔

            تیسری صورت یہ تھی کہ ان کے پاس اپنا عقیدہ ثابت کرنے کے لئے کوئی واضح دلیل ہوتی اور وہ ان کے پاس موجود نہیں ،اس کے بارے میں  آیت نمبر155تا157میں ارشاد فرمایا:

’’ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ(۱۵۵) اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵۶) فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا تم دھیان نہیں  کرتے؟یا تمہارے لیے کوئی کھلی دلیل ہے؟تو اپنی کتاب لاؤ اگر تم سچے ہو۔

            لہٰذا ثابت ہوا کہ فرشتوں  کو عورتیں  سمجھنے والا کفار کا نظریہ ہر اعتبار سے باطل ہے۔( تفسیرکبیر، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۵۰، ۹ / ۳۵۹، روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۵۰، ۷ / ۴۹۲، ملتقطاً)

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًاؕ-وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ(۱۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور اس میں  اور جنّوں  میں  رشتہ ٹھہرایا اور بے شک جنّوں  کو معلوم ہے کہ وہ ضرور حاضر لائے جائیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں  نے اللہ اور جنوں  کے درمیان نسب کا رشتہ ٹھہرایااور بیشک جنوں  کو معلوم ہے کہ ان کی پیشی کی جائے گی۔

{وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا: اور انہوں  نے اللہ اور جنوں  کے درمیان نسب کا رشتہ ٹھہرایا۔} بعض مشرکین کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جِنّات میں  شادی کی جس سے فرشتے پیدا ہوئے۔ (مَعَاذَ اللہ) اس آیت میں  ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ مشرکین اللہ تعالیٰ اور جنوں  کے درمیان نسب کا رشتہ ٹھہرا کر کیسے عظیم کفر کے مُرتکِب ہوئے اور بیشک جنوں  کو معلوم ہے کہ یہ بے ہودہ بات کہنے والے ضرور جہنم میں  عذاب کے لئے حاضر کئے جائیں  گے۔بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  جِنّات سے مراد فرشتے ہیں  کیونکہ وہ لوگوں  کی نظروں سے پوشیدہ ہیں  اور کفار نے فرشتوں  اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو نسبی رشتہ ٹھہرایا اس سے مراد ان کا یہ کہنا ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  ہیں ۔ (مَعَاذَ اللہ)( مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۵۸، ص۱۰۱۰-۱۰۱۱، جلالین، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۵۸، ص۳۷۹، ملتقطاً)

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ(۱۵۹) اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ(۱۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان: پاکی ہے اللہ کو ان باتوں  سے کہ یہ بتاتے ہیں ۔ مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ اس سے پاک ہے جو یہ بتاتے ہیں ۔مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے ۔

{سُبْحٰنَ اللّٰهِ: اللہ پاک ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا ایک معنی یہ ہے مشرکین اللہ تعالیٰ کے بارے میں  جو باتیں  کہتے ہیں  اللہ تعالیٰ ان سے پاک ہے اور اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے ایماندار بندے ان تمام باتوں  سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں  جو کفارِ نابَکار کہتے ہیں ۔دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ  تعالیٰ ان تمام بیہودہ باتوں  سے پاک ہے جو مشرکین ا س کے بارے میں  کہتے ہیں  نیز اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے مومن اور متقی بندے جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں  گے۔( مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۵۹-۱۶۰، ص۱۰۱۱، ملخصاً)

فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ(۱۶۱) مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ(۱۶۲) اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان:  تو تم اور جو کچھ تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ۔ تم اس کے خلاف کسی کو بہکانے والے نہیں ۔ مگر اسے جو بھڑکتی آگ میں  جانے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم اور جنہیں  تم( اللہ کے سوا) پوجتے ہو ۔ تم اس کے خلاف( کسی کو)فتنے میں  ڈالنے والے نہیں ۔ مگر اسے جو بھڑکتی آگ میں  داخل ہونے والا ہے۔

{فَاِنَّكُمْ: تو تم۔} اس سے پہلی آیات میں  کفار کا مذہب فاسد ہونے پر دلائل بیان کئے گئے جبکہ اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں  فرمایا گیا کہ اے کفارِ مکہ!تمہارے سب کے سب بت اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف کسی کو گمراہ نہیں  کرسکتے، البتہ اسے گمراہ کر سکتے ہوجس کی قسمت ہی میں  یہ ہے کہ وہ اپنی بدکرداری کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہو۔( تفسیر کبیر، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۶۱-۱۶۳، ۹ / ۳۶۱، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۶۱-۱۶۳، ص۱۰۱۱، ملتقطاً)

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ(۱۶۴)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور فرشتے کہتے ہیں  ہم میں  ہر ایک کا ایک مقام معلوم ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (فرشتے کہتے ہیں ) ہم میں  ہر ایک کیلئے ایک جگہ مقررہے۔

{وَ مَا مِنَّا: ہم میں  ہر ایک کیلئے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے کفار!جن فرشتوں  کو تم اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  کہتے ہو، اللہ تعالیٰ اور فرشتوں  کے درمیان نسب ثابت کر کے ان کی عبادت کرتے ہو،ان فرشتوں  کا اقرار تو یہ ہے کہ ہم رب تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں  اور ہم سب کے مقامات علیحدہ ہیں  جہاں  رہ کر اس کی بتائی ہوئی عبادت کرتے ہیں ، اور جب وہ اپنی عَبْدِیَّت اور اللہ تعالیٰ کی معبودِیَّت کا اقرار کررہے ہیں  تو وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد کس طرح ہو سکتے ہیں  ۔

            دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے حضور سید المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم



Total Pages: 250

Go To