Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

یعنی کافر کی خوراک ہے اور جہنمی زقوم کی کیفیت یہ ہے کہ گلے ہوئے تانبے کی طرح کفار کے پیٹوں  میں  ایسے جوش مارتاہوگا جیسے کھولتا ہواپانی جوش مارتا ہے۔( ابو سعود ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴۳-۴۶ ،  ۵ / ۵۶۰ ،  جلالین ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴۳-۴۶ ،  ص۴۱۲ ،  ملتقطاً)

جہنمی درخت زقوم کا وصف:

           زقوم نامی درخت کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُ جُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ(۶۴) طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ(۶۵) فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِــٴُـوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَ‘‘(صافات:۶۴-۶۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی  جڑ میں سے نکلتا ہے۔اس کا شگوفہ ایسے ہے جیسے شیطانوں  کے سرہوں ۔پھر بیشک وہ اس میں  سے کھائیں  گے پھر اس  سے پیٹ بھریں  گے۔

             اور ارشاد فرمایا:

’’ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ(۵۱) لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ(۵۲) فَمَالِــٴُـوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ(۵۳) فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ(۵۴) فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ(۵۵) هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ‘‘(واقعہ:۵۱-۵۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اے گمراہو، جھٹلانے والو! بیشک  تم۔ضرور زقوم (نام)کے درخت میں  سے کھاؤ گے۔پھر تم اس سے پیٹ بھرو گے۔پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے۔تو  ایسے پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پیتے ہیں  ۔انصاف کے دن یہ ان کی مہمانی ہے۔

            اورحضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا  سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا میں  ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کی زندگانی خراب ہوجائے تو اس شخص کا کیا حال ہو گا جس کا کھانا ہی یہ ہو گا۔‘‘ (ترمذی ،  کتاب صفۃ جہنّم ،  باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النّار ،  ۴ / ۲۶۳ ،  الحدیث: ۲۵۹۴)

            اللہ تعالیٰ ہمارا ایمان سلامت رکھے اور ہمیں  جہنم کے اس بدترین عذاب سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ(۴۷) ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اسے پکڑو ٹھیک بھڑکتی آگ کی طرف بزور گھسیٹتے لے جاؤ۔ پھر اس کے سر کے اوپر کھولتے پانی کا عذاب ڈالو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اسے پکڑوپھر سختی کے ساتھ اسے بھڑکتی آگ کے درمیان کی طرف گھسیٹتے لے جاؤ۔پھر اس کے سر کے اوپر کھولتے پانی کا عذاب ڈالو ۔

{خُذُوْهُ: اسے پکڑو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ(حساب و کتاب کے بعد) جہنم کے فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ اس گناہگار کو پکڑو ،پھر سختی کے ساتھ اسے بھڑکتی آگ کے درمیان کی طرف گھسیٹتے ہوئے لے جاؤ، پھر اس کے سر کے اوپر کھولتا ہوا پانی ڈالو تاکہ اس کی شدت سے اسے عذاب پہنچے۔ (جلالین ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸ ،  ص۴۱۲ ،  مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸ ،  ص۱۱۱۴ ،  ملتقطاً)

          نوٹ:جہنم کے کھولتے ہوئے پانی کی کیفیت کے بارے میں  جاننے کے لئے سورہِ حج کی آیت نمبر19اور 20کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔

ذُقْ ﳐ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ(۴۹)اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: چکھ ہاں  ہاں  تو ہی بڑا عزت والا کرم والا ہے۔ بیشک یہ ہے وہ جس میں  تم شبہ کرتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: چکھ۔ تو تَوبڑا عزت والا، کرم والا ہے۔بیشک یہ وہ ہے جس میں  تم شک کرتے تھے۔

{ذُقْ: چکھ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اس جہنمی کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا تو اس وقت ا س کی تذلیل اور توہین کرتے ہوئے اس سے کہا جائے گا: اس ذلت اور اِہانت والے عذاب کوچکھ، تواپنے گمان میں  اپنی قوم کے نزدیک بڑا عزت والا کرم والا ہے، تو یہ تیری تعظیم ہو رہی ہے ۔ مفسرین فرماتے ہیں  :ابو جہل نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے کہا:مکہ کے ان دو پہاڑوں  کے درمیان مجھ سے زیادہ عزت والا اور کرم والا کوئی نہیں  تو خدا کی قسم! آپ اور آپ کا رب میرا کچھ نہیں  بگاڑ سکتے۔اس کے لئے وعید کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی اور اسے عذاب کے وقت یہ طعنہ دیا جائے گا۔

             اگلی آیت میں  فرمایا گیا کہ کفار سے یہ بھی کہا جائے گا: بیشک جو عذاب تم دیکھ رہے ہو یہ وہ عذاب ہے جس میں  تم شک کرتے تھے اور اس پر ایمان نہیں  لاتے تھے۔( روح البیان ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴۹-۵۰ ،  ۸ / ۴۲۸ ،  خازن ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴۹-۵۰ ،  ۴ / ۱۱۶ ،  ملتقطاً)

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ(۵۱) فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ(۵۲) یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ(۵۳) كَذٰلِكَ- وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ(۵۴) یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ(۵۵) لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰىۚ-وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ(۵۶) فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۵۷)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ڈر والے امان کی جگہ میں  ہیں ۔باغوں  اور چشموں  میں  ۔پہنیں  گے کَریب اور قَنادِیز آمنے سامنے۔ یونہی ہے اور ہم نے انہیں  بیاہ دیا نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں  والیوں  سے۔ اس میں  ہر قسم کا میوہ مانگیں  گے امن و امان سے۔اس میں  پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکھیں  گے اور اللہ نے اُنہیں  آگ کے عذاب سے بچالیا۔ تمہارے ربّ کے فضل سے یہی بڑی کامیابی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ڈر والے امن والی جگہ میں  ہوں  گے۔ باغوں  اور چشموں  میں ۔باریک اور موٹے ریشم کے لباس پہنیں  گے،ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں  گے۔ یونہی ہوگا اور نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں  والی عورتوں  سے ہم نے ان کا نکاح کردیا۔ وہ جنت میں  بے خوف ہوکرہر قسم کا پھل میوہ مانگیں  گے۔ اس میں  پہلی موت کے سوا پھر موت کا ذائقہ نہ چکھیں  گے اور اللہ نے انہیں  آگ کے عذاب سے بچالیا۔تمہارے رب کے فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔

 



Total Pages: 250

Go To