Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

          یاد رہے کہ جب کسی مومن کا انتقال ہوتا ہے تو اس پر آسمان و زمین روتے ہیں  جیسا کہ حضرت انس بن مالک  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ہر مومن کے لئے دو دروازے ہیں  ،ایک سے اعمال اوپر کی طرف چڑھتے ہیں  اور دوسرے سے اس کا رزق اترتا ہے۔جب وہ مرتا ہے تو دونوں  ا س پر روتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے ا س فرمان’’فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ‘‘میں  یہی مذکور ہے۔‘‘(ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الدخان ،  ۵ / ۱۷۱ ،  الحدیث: ۳۲۶۶)

            اورامام مجاہد رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے کہا گیا کہ کیا مومن کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں ؟ آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے فرمایا :زمین اس بندے پر کیوں  نہ روئے جو زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا اور آسمان اس بندے پر کیوں  نہ روئے جس کی تسبیح و تکبیر آسمان میں  پہنچتی تھی۔ (خازن ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ۴ / ۱۱۴)

            بعض مفسرین کے نزدیک زمین و آسمان خود نہیں  روتے بلکہ یہاں ان کے رونے سے مراد آسمان اور زمین والوں  کا رونا ہے جیسا کہ حضرت حسن رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا قول ہے کہ(زمین و آسمان کے رونے سے مراد یہ ہے کہ ) آسمان والے اور زمین والے روتے ہیں ۔( مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ص۱۱۱۲)

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ(۳۰) مِنْ فِرْعَوْنَؕ-اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات بخشی۔فرعون سے بیشک وہ متکبر حد سے بڑھنے والوں میں  سے تھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو رسوا کن عذاب سے نجات بخشی۔فرعون سے، بیشک وہ متکبر، حد سے بڑھنے والوں  میں سے تھا۔

{وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو نجات بخشی۔} اس سے پہلی آیات میں  فرعون کی ہلاکت کی کیفیت بیان کی گئی اور ان آیات میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم پر کئے گئے احسانات کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے۔چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک ہم نے بنی اسرائیل کو اس رُسو اکُن عذاب سے نجات بخشی جو انہیں  فرعون کی طرف سے غلامی ،مشقّت سے بھرپور خدمتوں ، محنتوں  اور اولاد کے قتل کئے جانے کی صورت میں  پہنچتا تھا۔ بیشک فرعون متکبر اورحد سے بڑھنے والوں  میں سے تھا۔( تفسیرکبیر ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳۰-۳۱ ،  ۹ / ۶۶۱ ،   ،  روح البیان ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳۰-۳۱ ،  ۸ / ۴۱۴ ،  ملتقطاً)

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ(۳۲) وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے اُنہیں  دانستہ چن لیا اس زمانہ والوں  سے۔ اورہم نے اُنہیں  وہ نشانیاں  عطا فرمائیں  جن میں  صریح انعام تھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے انہیں جانتے ہوئے اس زمانے والوں  پر چن لیا۔اورہم نے انہیں  وہ نشانیاں  عطا فرمائیں  جن میں  واضح انعام تھا۔

{وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ: اور بیشک ہم نے انہیں  جانتے ہوئے چن لیا۔} ارشاد فرمایا کہ(بنی اسرائیل پر ہم نے ایک احسان یہ کیا کہ) ہم نے اپنے علم کی بنا پر بنی اسرائیل کو اس زمانے میں  تمام جہان والوں  پر چُن لیا۔( مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ص۱۱۱۲)

            یاد رہے کہ اس آیت سے یہ لازم نہیں  آتا کہ بنی اسرائیل حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت سے بھی افضل ہیں  کیونکہ بنی اسرائیل کا افضل ہونااپنے زمانے کے اعتبار سے ہے۔

{وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ: اورہم نے انہیں  نشانیاں  عطا فرمائیں ۔} ارشاد فرمایا کہ (بنی اسرائیل پر ہم نے ایک احسان یہ کیا کہ) ہم نے انہیں  وہ نشانیاں  عطا فرمائیں  جن میں  واضح انعام تھا جیسے ان کے لئے دریا میں  خشک راستے بنائے، بادل کو سائبان کیا، مَنّ و سَلویٰ اتارا اوراس کے علاوہ اور نعمتیں  دیں ۔( خازن ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ۴ / ۱۱۵)

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ(۳۴) اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ(۳۵)فَاْتُوْا بِاٰبَآىٕنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک یہ کہتے ہیں ۔وہ تو نہیں  مگر ہمارا ایک دفعہ کا مرنا اور ہم اٹھائے نہ جائیں  گے۔ تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ اگر تم سچے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک یہ (کفارِ مکہ)ضرورکہتے ہیں ۔بیشک موت تو صرف ہماری پہلی موت ہی ہے اور ہم اٹھائے نہ جائیں  گے۔ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ۔

{اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَ: بیشک یہ ضرورکہتے ہیں ۔} یہاں  سے دوبارہ کفارِ مکہ کے بارے میں  کلام شروع ہو رہا ہے، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ ضرور کہتے ہیں  کہ اس زندگانی کے بعد ایک موت کے علاوہ ہمارے لئے اور کوئی حال اور زندگی باقی نہیں  ۔اس سے ان کا مقصود موت کے بعد زندہ کئے جانے کا انکار کرنا تھا جس کو اگلے جملے میں  واضح کردیا کہ ہم موت کے بعددوبارہ کبھی زندہ کر کے اٹھائے نہیں جائیں  گے،اگر تم اس بات میں  سچے ہو کہ ہم مرنے کے بعد زندہ کرکے اٹھائے جائیں  گے تو ہمارے باپ دادا کودوباہ زندہ کرکے لے آؤ ۔

            کفارِ مکہ نے یہ سوال کیا تھا کہ اگر موت کے بعد کسی کا زندہ ہونا ممکن ہو تو قُصَیْ بِن کلاب کو زندہ کردو اور یہ ان کی جاہلانہ بات تھی کیونکہ جس کام کے لئے وقت مُعیَّن ہو اس کا اس وقت سے پہلے وجود میں  نہ آنا اس کے ناممکن ہونے کی دلیل نہیں  ہوتا اور نہ اس کا انکار صحیح ہوتا ہے، جیسے اگر کوئی شخص کسی نئے اُگے ہوئے درخت یا پودے کو کہے کہ اس میں  سے اب پھل نکالو ورنہ ہم نہیں  مانیں  گے کہ اس درخت سے پھل نکل سکتا ہے تو اس کو جاہل قرار دیا جائے گا اور اس کا انکار محض حماقت یا جھگڑا ہوگا۔ (تفسیرکبیر ، الدخان ،  تحت الآیۃ:۳۴-۳۶ ، ۹ / ۶۶۲ ،  روح البیان ، الدخان ،  تحت الآیۃ:۳۴-۳۶ ،  ۸ / ۴۱۶-۴۱۷ ،  ملتقطاً)

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍۙ-وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-اَهْلَكْنٰهُمْ٘-اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا وہ بہتر ہیں  یا تُبَّع کی قوم اور جو ان سے پہلے تھے ہم نے انہیں  ہلاک کردیا بیشک وہ مجرم لوگ تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا وہ بہتر ہیں یا تبع (نامی بادشاہ)کی قوم اور ان سے پہلے والے لوگ؟ ہم نے انہیں  ہلاک کردیا بیشک وہ مجرم لوگ تھے۔

{اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ: کیا وہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم۔} اس آیت میں  کفارِ قریش کا رد کیا گیا ہے کہ کیا طاقت و قوت اور شان و شوکت میں  کفارِ مکہ بہتر ہیں یا تُبَّع نامی بادشاہ کی قوم اور



Total Pages: 250

Go To