Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

حال کر دیا ہے،اس کے بعد پھر تم کفر کی طرف لوٹ جاؤ اور اپنے رب سے کیا ہوا عہد توڑ دو تو میں  تم سے اس دن بدلہ لوں  گا جب تمہیں  بڑی پکڑ کے ساتھ پکڑوں  گا۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے یا غزوۂ بدر کا دن مراد ہے۔( تفسیرطبری ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۱۱ / ۲۳۰ ،  مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ص۱۱۱۱ ،  ملتقطاً)

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو جانچا اور اُن کے پاس ایک معزز رسول تشریف لایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو جانچا اور ان کے پاس ایک معزز رسول تشریف لایا۔

{وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ: اور بیشک ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو جانچا ۔} اس سے پہلی آیات میں  اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ کفارِ مکہ اپنے کفر پر ہی قائم ہیں  اور اس آیت سے بیان فرمایا کہ ان سے پہلے جو کفار گزرے ہیں  ان کا طریقہ بھی یہی رہا تھا ۔چنانچہ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،ہم نے مشرکینِ مکہ سے پہلے فرعون کی قوم کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ذریعے آزمائش میں  مبتلا کیا تاکہ وہ ایمان لے آئیں  اور ان کا چھپا ہوا حال ظاہر ہو جائے لیکن انہوں  نے ایمان کے مقابلے میں  کفر کو ہی اختیار کیا۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے مشرکینِ مکہ سے پہلے فرعون کی قوم کو مہلت دے کر اور ان پر رزق وسیع کر کے انہیں  آزمائش میں  مبتلا کیا تاکہ ان کا چھپا ہوا حال ظاہر ہوجائے اور ان کے پاس ایک معزز رسول حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے۔( تفسیرکبیر ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۹ / ۶۵۹ ،  روح البیان ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۸ / ۴۰۹ ،  مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ص۱۱۱۱ ،  ملتقطاً)

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِؕ-اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کہ اللہ کے بندوں  کو مجھے سپرد کردو بیشک میں  تمہارے لیے امانت والا رسول ہوں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان(اور کہا)کہ اللہ کے بندوں  کو میرے حوالے کردو۔بیشک میں  تمہارے لیے امانت والا رسول ہوں ۔

{اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ: کہ اللہ کے بندوں  کو میرے حوالے کردو۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرعون کے پاس آئے تو اس سے فرمایا: بنی اسرائیل کو میرے حوالے کردو اور تم جو شدتیں  اور سختیاں  ان پر کرتے ہو اس سے انہیں  رہائی دو ،بیشک میں  تمہارے لیے وحی پر امانت والا، رسول ہوں ۔

          نوٹ:حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ واقعہ سورۂ طہٰ کی آیت نمبر47میں  تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِۚ-اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو میں  تمہارے پاس ایک روشن سند لاتا ہوں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں  سرکشی نہ کرو۔بیشک میں  تمہارے پاس روشن دلیل لاتا ہوں  ۔

{وَ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ: اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں  سرکشی نہ کرو۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون سے فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی وحی،اس کے رسول اور اس کے بندوں  کی توہین کر کے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، بیشک میں  تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزات کی صورت میں  اپنی نبوت اور رسالت کی سچائی کی روشن دلیل لاتا ہوں  جس کا انکار کرنے کی کوئی صورت نہیں ۔( روح البیان ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۸ / ۴۱۰ ،  مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ص۱۱۱۱ ،  ملتقطاً)

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘(۲۰)  وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور میں  پناہ لیتا ہوں  اپنے رب اور تمہارے رب کی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو ۔اور اگر تم میرا یقین نہ لاؤ تو مجھ سے کنارے ہوجاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میں  نے اس بات سے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لی کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ اور اگر تممجھ پر یقین نہ کرو تو مجھ سے الگ ہوجاؤ ۔

{وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ: اور میں  نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لی۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ فرمایا تو فرعونیوں  نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کی دھمکی دی اور کہا کہ ہم تمہیں  سنگسار کردیں  گے۔اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میرا تو کل اور اعتماد اس پر ہے جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، مجھے تمہاری دھمکی کی کچھ پروا نہیں  ،اللہ تعالیٰ مجھے بچانے والا ہے اور اگر تم میری تصدیق نہیں  کرتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ اور مجھے ایذا پہنچانے کی کوشش نہ کرو ۔( مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۰-۲۱ ،  ص۱۱۱۱ ،  جلالین ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۰-۲۱ ،  ص۴۱۱ ،  ملتقطاً)

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ(۲۲)فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اُس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں ۔ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں کو راتوں  رات لے نکل ضرور تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں ۔تو(ہم نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں  رات لے کر نکل جاؤ،ضرور تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔

{فَدَعَا رَبَّهٗ: تو اس نے اپنے رب سے دعا کی۔} فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اس بات کو بھی نہ مانا اور انہیں  جھٹلایاتو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ قبطی مشرک لوگ ہیں  اور اپنے کفر پر قائم ہیں  اور تو ان کا حال بہتر جانتا ہے، اس لئے جس چیز کے وہ مستحق ہیں  تو ان کے ساتھ وہ فرما۔( جلالین ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ص۴۱۱ ،  روح البیان ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۸ / ۴۱۱ ،  ملتقطاً)

{فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا: تو میرے بندوں کو راتوں  رات لے کر نکل جاؤ۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور انہیں  حکم فرمایا کہ جب دشمن غافل ہو تو بنی اسرائیل کو راتوں  رات لے کر مصر سے نکل ج



Total Pages: 250

Go To