Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

فرشتوں  کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو ان اُمور کو سرانجام دیں  گے ۔‘‘ (بغوی ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ۴ / ۱۳۳)

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ(۶) رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَاۘ-اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تمہارے رب کی طرف سے رحمت بیشک وہی سنتاجانتاہے۔ وہ جو رب ہے آسمانوں  اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تمہیں  یقین ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے، بیشک وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔وہ جو رب ہے آسمانوں  اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا،اگر تم یقین رکھنے والے ہو۔

{رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ: تمہارے رب کی طرف سے رحمت۔ } اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کا اترنا اوررسولوں  کی تشریف آوری تمہارے اس رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بندوں  پر رحمت ہے جو آسمانوں  اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے، بیشک وہی ان کی باتوں  کوسننے والا اور ان کے کاموں  اور احوال کو جاننے والا ہے۔اے کفارِ مکہ !اگر تمہیں  اس بات کا یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی آسمان وز مین کا رب ہے تو اس بات پر بھی یقین کرلو کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔( مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۶-۷ ،  ص۱۱۱۰ ،  جلالین ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۶-۷ ،  ص۴۱۱ ،  ملتقطاً)

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُؕ-رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآىٕكُمُ الْاَوَّلِیْنَ(۸)بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں  وہ جِلائے اور مارے تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب۔  بلکہ وہ شک میں  پڑے کھیل رہے ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے ،وہ تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب ہے۔بلکہ وہ کافر شک میں  پڑے کھیل رہے ہیں ۔

{لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ: اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ } یعنی اے لوگو! زمین و آسمان اور ان کے درمیان موجود تمام چیزوں  کے رب کے علاوہ تمہارا اور کوئی معبود نہیں ،لہٰذا تم اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود ہونے کی صلاحیت نہیں  رکھتا۔ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے زندگی دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے موت دیتا ہے، وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے گزرے ہوئے باپ دادا کا بھی رب ہے،جس کی ایسی شان ہے صرف وہی رب ہونے اور عبادت کئے جانے کے لائق ہے۔( تفسیر طبری ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۱۱ / ۲۲۴)

{بَلْ هُمْ: بلکہ وہ کافر۔} یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے جودلائل ذکر کئے گئے ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ کفاراس کی وحدانیت  کو مان لیتے لیکن یہ پھر بھی نہیں  مانتے بلکہ وہ اس کی طرف سے شک میں  پڑے اور دنیا کے کھیل کود میں  مصروف ہیں  اورانہیں  اپنی آخرت کی کوئی فکر ہی نہیں ۔

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ(۱۰) یَّغْشَى النَّاسَؕ-هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں  لائے گا۔ کہ لوگوں  کو ڈھانپ لے گا یہ ہے دردناک عذاب۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں  لائے گا۔جولوگوں  کو ڈھانپ لے گا۔یہ ایک دردناک عذاب ہے ۔

{فَارْتَقِبْ: تو تم منتظر رہو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف سے اسلام کی دعوت ملنے پر کفارِ قریش آپ کو جھٹلاتے ،آپ کی نافرمانی کرتے اور آپ کا مذاق اڑاتے،اس بناپر رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے خلاف دعا کی کہ ’’یارب! انہیں  ایسے سات سالہ قحط کی مصیبت میں  مبتلا کر جیسے سات سال کا قحط حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں  بھیجا تھا۔ ‘‘یہ دعا قبول ہوئی اورسرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا گیا’’اے حبیب!  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان کافروں  کیلئے اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں  لائے گا جولوگوں  کو ڈھانپ لے گا ۔‘‘ چنانچہ قریش پر قحط سالی آئی اور یہاں  تک اس کی شدت ہوئی کہ وہ لوگ مردار کھا گئے اور بھوک سے اس حال کو پہنچ گئے کہ جب اوپر کونظر اٹھاتے اورآسمان کی طرف دیکھتے تو ان کو دھواں  ہی دھواں  معلوم ہوتا ،یعنی ایک توکمزوری کی وجہ سے انہیں  نگاہوں  کے سامنے اندھیرا محسوس ہوتا اور دوسرا قحط سے زمین خشک ہوگئی ،اس سے خاک اڑنے لگی اورغبار نے ہوا کو ایسا گدلا کردیاکہ انہیں  آسمان دھوئیں  کی طرح محسوس ہوتا۔ اس آیت کی تفسیر میں  ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں  دھوئیں  سے مراد وہ دھواں  ہے جو قیامت کی علامات میں  سے ہے اور قیامت کے قریب ظاہر ہوگا ،اس سے مشرق و مغرب بھر جائیں  گے، چالیس دن اور رات رہے گا،اس سے مومن کی حالت تو ایسے ہوجائے گی جیسے زکام ہوجائے جبکہ کافر مدہوش ہوجائیں  گے، ان کے نتھنوں  ، کانوں  اور بدن کے سوراخوں  سے دھواں  نکلے گا۔( خازن ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۱۰-۱۱ ،  ۴ / ۱۱۳ ،  جمل ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۱۰-۱۱ ،  ۷ / ۱۱۸-۱۱۹ ،  ملتقطاً)

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اس دن کہیں  گے اے ہمارے رب ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اس دن کہیں  گے) اے ہمارے رب!ہم سے عذاب دور کردے، ہم ایمان لاتے ہیں ۔

{رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ: اے ہمارے رب!ہم سے عذاب دور کردے۔} یعنی جس دن وہ دھواں  لوگوں  کو ڈھانپ لے گا اس دن وہ کہیں  گے :یہ ایک دردناک عذاب ہے، اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ ،ہم سے عذاب دور کردے،  ہم ایمان لاتے ہیں  اور تیرے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اور قرآن پاک کی تصدیق کرتے ہیں  ،چنانچہ اس قحط سالی سے تنگ آکر ابو سفیان حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  حاضر ہوئے اور عرض کی کہ دعا فرمائیں  اگر قحط دورہو گیا تو ہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئیں  گے۔( تفسیرکبیر ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۹ / ۶۵۷ ،  روح المعانی ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۱۳ / ۱۶۴ ،  ملتقطاً)

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۳) ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ(۱۴)

 



Total Pages: 250

Go To