Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

برکت والی رات:

            اکثر مفسرین کے نزدیک برکت والی رات سے شبِ قدر مراد ہے اور بعض مفسرین اس سے شبِ براء ت مراد لیتے ہیں  ۔ا س رات میں  مکمل قرآنِ پاک لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا کی طرف اتارا گیا، پھر وہاں  سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام 23 سال کے عرصہ میں  تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوئے اور اسے برکت والی رات اس لئے فرمایا گیا کہ اس میں  قرآنِ پاک نازل ہوا اور ہمیشہ اس رات میں  خیر و برکت نازل ہوتی ہے اور دعائیں (خصوصیت کے ساتھ) قبول کی جاتی ہیں ۔ جن کثیر علماء کے نزدیک یہاں  آیت میں  برکت والی رات سے شبِ قدر مراد ہے، ان کی دلیل یہ آیاتِ مبارکہ ہیں  ،

(1) …اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ‘‘(قدر:۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے اس قرآن کو شبِ قدرمیں  نازل کیا۔

            اس آیت میں  ارشاد فرمایاگیاکہ اللہ تعالیٰ نے شبِ قدر میں  قرآنِ مجید کو نازل فرمایا اور یہاں  ارشاد فرمایا گیا کہ’’اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ‘‘ یعنی بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں  اتارا۔اسی لئے ضروری ہے کہ شبِ قدر اور مبارک رات سے ایک ہی رات مراد ہو تاکہ قرآنِ مجید کی آیات میں  تضاد لازم نہ آئے ۔

(2) …اور ارشاد فرمایا:

’’شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ‘‘(بقرہ:۱۸۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: رمضان کا مہینہ ہے جس میں  قرآن نازل کیا گیا۔

            اس آیت میں  فرمایا گیاکہ قرآنِ مجید کو رمضان کے مہینے میں  نازل کیا گیا اور یہاں  یوں  ارشاد فرمایا کہ ’’اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ‘‘یعنی بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں  اتارا۔تو ضروری ہو اکہ یہ رات بھی رمضان کے مہینے میں  واقع ہو اور جس شخص نے بھی یہ کہا ہے کہ مبارک رات رمضان کے مہینے میں  واقع ہے ا س نے یہی کہا کہ مبارک رات شبِ قدر ہے۔( تفسیرکبیر ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۹ / ۶۵۲ ،  خازن ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۴ / ۱۱۲ ،  مدارک ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ص۱۱۰۹ ،  ابوسعود ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ۵ / ۵۵۴ ،  ملتقطاً)

شب ِبراء ت کے فضائل:

            جیساکہ اوپر ذکر ہوا کہ برکت والی رات کے بارے میں  ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد شبِ براء ت ہے، اس مناسبت سے یہاں  شبِ براء ت کے دو فضائل ملاحظہ ہوں

(1)…اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اللہ تعالیٰ چار راتوں  میں  بھلائیوں  کے دروازے کھول دیتا ہے:(1)بقر عید کی رات (2)عیدالفطر کی رات (3)شعبان کی پندرہویں  رات کہ اس رات میں  مرنے والوں  کے نام اور لوگوں  کا رزق اور (اِس سال)حج کرنے والوں  کے نام لکھے جاتے ہیں  (4)عرفہ کی رات اذانِ (فجر)تک۔ ‘‘(در منثور ،  الدخان ،  تحت الآیۃ:  ،  ۷ / ۴۰۲)

(2)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میرے پاس جبریل آئے اور کہا یہ شعبان کی پندرہویں  رات ہے اس میں  اللہ تعالیٰ جہنم سے اتنے لوگوں  کو آزاد فرماتا ہے جتنے بنی کلب کی بکریوں  کے بال ہیں  مگرکافراور عداوت والے اور رشتہ کاٹنے والے اور(تکبر کی وجہ سے)کپڑا لٹکانے والے اور والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نظر ِرحمت نہیں  فرماتا۔(شعب الایمان  ،  الباب الثالث و العشرون من شعب الایمان ۔۔۔ الخ  ،  ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان  ،  ۳  /  ۳۸۳  ،  الحدیث: ۳۸۳۷)

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ(۴) اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَاؕ-اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اس میں  بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام۔ہمارے پاس کے حکم سے بیشک ہم بھیجنے والے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس رات میں  ہر حکمت والا کام بانٹ دیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس کے حکم سے ،بیشک ہم ہی بھیجنے والے ہیں ۔

{فِیْهَا یُفْرَقُ: اس رات میں  بانٹ دیا جاتا ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس برکت والی رات میں  سال بھر میں  ہونے والاہر حکمت والا کام جیسے رزق،زندگی،موت اور دیگر احکام ان فرشتوں  کے درمیان بانٹ دئیے جاتے ہیں  جو انہیں  سرا نجام دیتے ہیں  اور یہ تقسیم ہمارے حکم سے ہوتی ہے۔ بیشک ہم ہی سَیِّدُ المرسلین ،محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان سے پہلے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھیجنے والے ہیں ۔( جلالین ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴-۵ ،  ص۴۱۰ ،  روح البیان ،  الدخان ،  تحت الآیۃ: ۴-۵ ،  ۸ / ۴۰۴ ،  ملتقطاً)

            یاد رہے کہ کئی احادیث میں  بیان ہوا ہے کہ15شعبان کی رات لوگوں  کے اُمور کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے، جیسا کہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا  فرماتی ہیں ، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’ کیا تم جانتی ہو اس رات یعنی پندرہویں  شعبان میں  کیا ہے؟میں  نے عرض کی : یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اس میں  کیا ہے؟ارشاد فرمایا’’ اس رات میں  اس سال پیدا ہونے والے تمام بچے لکھ دیئے جاتے ہیں  اور اس سال مرنے والے سارے انسان لکھ دیئے جاتے ہیں  اور اس رات میں  ان کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں  اور ان کے رزق اتارے جاتے ہیں۔‘‘( مشکوۃ المصابیح ،  کتاب الصلاۃ ،  باب قیام شہر رمضان  ،  الفصل الثالث ،  ۱ / ۲۵۴ ،  الحدیث: ۱۳۰۵)

            ان احادیث اور ا س آیت میں  مطابقت یہ ہے کہ فیصلہ 15شعبان کی رات ہوتا ہے اور شبِ قدر میں  وہ فیصلہ ان فرشتوں  کے حوالے کر دیا جاتا ہے جنہوں  نے اس فیصلے کے مطابق عمل کرناہوتا ہے جیساکہ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ’’لوگوں  کے اُمور کا فیصلہ نصف شعبان کی رات کر دیا جاتا ہے اور شبِ قدر میں  یہ فیصلہ ان



Total Pages: 250

Go To