Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

سورۂ دُخان

سورۂ دُخان کا تعارف

مقامِ نزول:

            سورۂ دُخان مکۂ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن ،  تفسیر سورۃ الدخان ،  ۴ / ۱۱۲)

رکوع اور آیات کی تعداد:

             اس میں  3رکوع اور59آیتیں ہیں ۔

’’دخان ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            عربی میں  دھوئیں  کو’’ دُخان ‘‘ کہتے ہیں ، اور اس سورت کی آیت نمبر10میں  دھوئیں  کا ذکر ہے، اس مناسبت سے اس سورت کو سورۂ دُخان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔

سورۂ دُخان کے فضائل:

(1) … حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے رات کے وقت سورۂ حٰمٓ دُخان کی تلاوت کی تو وہ اس حال میں  صبح کرے گا کہ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے استغفار کر رہے ہوں  گے۔ ‘‘(ترمذی ،  کتاب فضائل القرآن ،  باب ما جاء فی فضل حم الدخان ،  ۴ / ۴۰۶ ،  الحدیث: ۲۸۹۷)

(2) …حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے جمعہ کی رات میں  سورۂ حٰمٓدُخان پڑھی اسے بخش دیا جائے گا۔ ‘‘(ترمذی ،  کتاب فضائل القرآن ،  باب ما جاء فی فضل حم الدخان ،  ۴ / ۴۰۷ ،  الحدیث: ۲۸۹۸)

(3) …حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن میں  سورۂ حٰمٓدُخان پڑھی تو اللہتعالیٰ ا س کے لئے جنت میں  گھر بنائے گا۔‘‘( معجم الکبیر ،  صدی بن العجلان ابوامامۃ الباہلی۔۔۔ الخ ،  فضال بن جبیر عن ابی امامۃ ،  ۸ / ۲۶۴ ،  الحدیث: ۸۰۲۶)

سورۂ دُخان کے مضامین:

            اس سور ت کا مرکزی مضمون توحید و رسالت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے کا بیان ہے اور اس سورت میں  یہ چیزیں  بیان کی گئی ہیں

(1) …اس سورت کی ابتداء میں  یہ بیان کیاگیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو شبِ قدر میں  نازل کیاہے اور اس رات میں  اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام اہم کام فرشتوں  کے درمیان تقسیم کر دئیے جاتے ہیں  اور یہ بتایاگیا کہ کفارِ مکہ قرآنِ مجید کے بارے میں  شک میں  پڑے ہوئے ہیں  اور جس دن انہیں  عذاب دیا جائے گا تو ا س دن وہ عذاب دور کئے جانے کی فریاد کریں  گے اور ایمان قبول کرنے کااقرار کریں  گے اور ان کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے عذاب دور کر دیا جائے تو بھی یہ ایمان نہیں  لائیں  گے کیونکہ یہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے واضح معجزات دیکھ کر ایمان نہیں  لائے تو اب کہاں  لائیں  گے اور یہی حال ان سے پہلے کفار کا تھا کہ وہ بھی روشن نشانیاں  دیکھنے کے باوجود اپنے کفر پر قائم رہے، اور ا س کی مثال کے طور پر حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرعون کا واقعہ بیان کیا گیا ،فرعون اور اس کی قوم کا دردناک انجام بتایا گیا تاکہ کفارِ مکہ ا س سے عبرت حاصل کریں ۔

(2) …کفارِ مکہ نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کیا تو تُبّع نامی بادشاہ کی قوم اور ان سے پہلی قوموں  جیسے عاد اورثمود کا انجام بیان کر کے ان کا رد کیاگیا۔

(3) …کفارِ مکہ کے سامنے قیامت کے دن کی ہولناکیاں  بیان کی گئیں  اور اس دن ہونے والے حساب اور ملنے والے عذاب اور جہنمی کھانے زقوم کے بارے میں  بتایا گیا اور سورت کے آخر میں  نیک لوگوں  کا ٹھکانہ اور برے لوگوں  کا ٹھکانہ بتایا گیا تاکہ نیک لوگ خوش ہو جائیں  اور برے لوگ دردناک عذاب سے ڈر جائیں  اور اپنے برے افعال سے باز آجائیں ۔

سورۂ زُخْرُفْکے ساتھ مناسبت:

            سورۂ دُخان کی اپنے سے ماقبل سورت ’’زُخْرُفْ‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ دونوں  سورتوں  کے شروع میں  قرآنِ مجید کی عظمت و شان بیان ہوئی ہے اور دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂزُخْرُفْکے آخر میں  ا س دن کا ذکر کیا گیا جس میں  کفار ِمکہ کو عذاب دئیے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے اور سورۂ دُخان میں  ا س دن کا وصف بیان ہوا ہے کہ اس دن آسمان ایک ظاہر دھواں  لائے گا۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

حٰمٓۚۛ(۱) وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ(۲) اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان:  قسم اس روشن کتاب کی ۔بیشک ہم نے اُسے برکت والی رات میں  اُتارا بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: حٰمٓ ۔ اس روشن کتاب کی قسم۔بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں  اتارا،بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں  ۔

{حٰمٓ} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں  سے ایک حرف ہے،اس کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

{وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ: اس روشن کتاب کی قسم۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآنِ پاک کی قسم !جو حلال اورحرام وغیرہ ان احکام کوبیان فرمانے والاہے جن کی لوگوں  کو حاجت اور ضرورت ہے،بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں  اتاراکیونکہ ہماری شان یہ ہے کہ ہم اپنے عذاب کاڈر سنانے والے ہیں ۔

 



Total Pages: 250

Go To