Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی آسمان والوں  کامعبود ہے اور زمین والوں  کامعبود ہے اور وہی حکمت والا، علم والا ہے۔

{وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ: اور وہی آسمان والوں  کامعبود ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ وہی ہے جو آسمان والوں  کامعبود ہے اور زمین والوں  کامعبود ہے،اس کے علاوہ اور کوئی چیز معبود ہونے کی صلاحیت نہیں  رکھتی، لہٰذا جو آسمان اور زمین والوں  کا معبود ہے تم صرف اسی کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ،وہ اپنی مخلوق کے معاملات کا انتظام فرمانے میں  حکمت والا ہے اور ان کی ضروریات سے با خبر ہے۔( تفسیرطبری ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۸۴ ،  ۱۱ / ۲۱۷-۲۱۸)

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَاۚ-وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِۚ-وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۸۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بڑی برکت والا ہے وہ کہ اسی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں  اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم اور تمہیں  اسی کی طرف پھرنا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور وہ (اللہ) بڑی برکت والا ہے جس کے لیے آسمانوں  اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی بادشاہی ہے اور قیامت کا علم اسی کے پاس ہے اور تمہیں  اس کی طرف پھرناہے۔

{وَ تَبٰرَكَ: اور وہ بڑی برکت والا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ بڑی برکت والا ہے جس کے لئے ساتوں  آسمانوں ، زمینوں  اور ان کے درمیان تمام چیزوں  کی بادشاہی ہے،ان سب پر اس کا حکم جاری ہے اور ان سب میں  اس کی قضا نافذ ہے تو جسے ان کی بادشاہی حاصل ہے اور جس کا حکم ان میں  نافذ ہے ا س کا کوئی شریک کس طرح ہو سکتا ہے اور اس وقت کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جس میں  قیامت قائم ہو گی اور مخلوق اپنی قبروں  سے حساب کے مقام پر جمع کی جائے گی اور اے لوگو! تم مرنے کے بعد اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ نیک لوگوں  کو ان کے نیک اعمال کی جزاء اوربرے لوگوں  کو ان کے برے اعمال کی سزا دے گا۔( تفسیرطبری ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۸۵ ،  ۱۱ / ۲۱۸)

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں  شفاعت کا اختیار نہیں  رکھتے ہاں  شفاعت کا اختیار اُنہیں  ہے جو حق کی گواہی دیں  اور علم رکھیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورکفار جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہیں  وہ شفاعت کا اختیار نہیں  رکھتے۔ ہاں  (شفاعت کا اختیار انہیں  ہے) جو حق کی گواہی دیں  اور علم رکھیں ۔

{وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ: اورکفار جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہیں  وہ شفاعت کا اختیار نہیں  رکھتے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ کفار اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن فرشتوں  اور حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عبادت کرتے ہیں  وہ صرف انہی کی شفاعت کریں  گے جو زبان سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کی گواہی دیں  اور دل سے اس گواہی کا علم رکھیں ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار یہ گمان کرتے ہیں  کہ ان کے معبود ان کی شفاعت کریں  گے حالانکہ وہ تمام چیزیں  جن کی کفار اللہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کرتے ہیں  ان میں  سے کوئی چیز بھی شفاعت کا اختیار نہیں  رکھتی البتہ شفاعت کا اختیار انہیں  ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیّتکی گواہی دیں  اور دل سے اس بات کا علم رکھیں  کہ اللہ تعالیٰ ان کا رب ہے ،ایسے مقبول بندے ایمان داروں  کی شفاعت کریں  گے۔( تفسیرکبیر  ،  الزّخرف  ،  تحت الآیۃ: ۸۶ ،  ۹ / ۶۴۸ ،  مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۸۶ ،  ص۱۱۰۷ ،  جلالین ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۸۶ ،  ص۴۱۰ ،  ملتقطاً)

وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور اگر تم اُن سے پوچھو کہ انہیں  کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں  گے اللہ نے تو کہاں  اوندھے جاتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم ان سے پوچھو :انہیں  کس نے پیدا کیا ؟تو ضرور کہیں  گے: ’’ اللہ نے‘‘ تو کہاں  اوندھے جاتے ہیں ؟

{وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ: اور اگر تم ان سے پوچھو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر آپ ان مشرکین سے پوچھیں  کہ انہیں  کس نے پیدا کیا ؟تو وہ ضرور کہیں  گے: اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور یہ اقرار کریں  گے کہ جہان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے،تو اس اقرار کے باوجود یہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت کیسے کرتے ہیں  اور اس کی توحید اور عبادت سے کس طرح پھرتے ہیں ؟( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۸۷ ،  ۴ / ۱۱۱)

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ(۸۸) فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌؕ-فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠(۸۹)

ترجمۂ کنزالایمان:  مجھے رسول کے اس کہنے کی قسم کہ اے میرے رب یہ لوگ ایمان نہیں  لاتے۔  تو اُن سے درگزر کرو اور فرماؤ بس سلام ہے کہ آگے جان جائیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: رسول کے اس کہنے کی قسم کہ اے میرے رب!یہ لوگ ایمان نہیں  لاتے۔ تو ان سے درگزر کرو اور فرماؤ: بس سلام ہے توعنقریب جان جائیں  گے۔

{وَ قِیْلِهٖ: رسول کے اس کہنے کی قسم!} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’مجھے اپنے حبیب محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ا س بات کی قسم کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تو نے مجھے ان مشرکین کو عذاب سے ڈرانے کا حکم دیا اور ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا تاکہ میں  انہیں  تیری طرف بلاؤں  لیکن میرے ڈرانے اور دعوت دینے کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں  لاتے ۔اللہ تعالیٰ نے انہیں  جواب دیا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ان کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں  سے در گُزر کرو اور انہیں  ان کے حال پر چھوڑ دو اور ان سے فرماؤ کہ تمہیں  دور ہی سے سلام ہے ، ہم تمہیں  چھوڑتے ہیں  اور تم سے امن میں  رہنا چاہتے ہیں  ۔عنقریب یہ لوگ اپنا انجام جان جائیں  گے۔اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قولِ مبارک کی قسم یاد فرمائی،اس میں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اِکرام اور حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعا و اِلتجا کی تعظیم کا اظہار ہے ۔یاد رہے کہ یہ حکم جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے دیا گیا تھا۔( تفسیرطبری ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۸۸-۸۹ ،  ۱۱ / ۲۱۹-۲۲۰ ،  مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۸۸-۸۹ ،  ص۱۱۰۸ ،  خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۸۸-۸۹ ،  ۴ / ۱۱۱-۱۱۲ ،  ملتقطاً)


 



Total Pages: 250

Go To