Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ہوں  گے؟ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں  جنت میں  داخل کیا تو تم اس میں  سرخ یاقوت کے جس گھوڑے پر سوار ہونا چاہو گے( ہوجاؤ گے)اور جنت میں  ( تمجہاں  چاہو گے)وہ تمہیں  اڑا کرلے جائے گا۔ایک اور آدمی نے پوچھا: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا جنت میں  اونٹ ہوں  گے ؟آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے وہ جواب نہ دیاجو پہلے شخص کو دیا تھا بلکہ ارشاد فرمایا’’اگر اللہ تعالیٰ تمہیں  جنت میں  لے جائے تو جو کچھ تمہارا جی چاہے گا اور جس چیز سے تمہاری آنکھوں  کو لذت ملے گی تمہیں  وہی کچھ ملے گا۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ الجنۃ ،  باب ما جاء فی صفۃ خیل الجنۃ ،  ۴ / ۲۴۳ ،  الحدیث: ۲۵۵۲)

 جنت میں  داخلہ اللہ تعالٰی کے فضل سے ہو گا:

            ان آیات سے معلوم ہو اکہ جنت میں  داخلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو گا اور ا س کے درجات کی تقسیم نیک اعمال کے مطابق ہو گی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم اللہ تعالیٰ کے معاف فرمانے سے پل صراط پار کرو گے،اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں  داخل ہو گے اور تمہارے اعمال کے مطابق(جنت کے) درجات تم میں  تقسیم کئے جائیں  گے۔( در منثور ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۷۲ ،  ۷ / ۳۹۴)

{وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا: اور یہی وہ جنت ہے جس کا تمہیں  وارث بنایا گیا ہے۔} حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ تم میں  سے ہر شخص کا ایک گھر جنت میں  اور ایک گھر جہنم میں  ہے،کافر جہنم میں  مومن کے گھر کا وارث بن جاتا ہے اور مومن جنت میں  کافر کے گھر کا وارث بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ا س فر مان کا یہی معنی ہے۔( ابن ابی حاتم ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۷۲ ،  ۱۰ / ۳۲۸۶)

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ(۷۳)

ترجمۂ کنزالایمان:  تمہارے لیے اس میں  بہت میوے ہیں  کہ ان میں  سے کھاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تمہارے لیے اس میں  کثرت سے پھل ہیں  جن میں  سے تم کھاتے رہو گے۔

{لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ: تمہارے لیے اس میں  کثرت سے پھل ہیں ۔} یعنی تمہارے لئے جنت میں  کھانے اور شراب کے علاوہ طرح طرح کے بے شمار پھل ہوں  گے جن میں  سے تم کھاتے رہو گے۔( روح البیان ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۷۳ ،  ۸ / ۳۹۲)

جنت کے سدا بہار پھل:

            جنت کے پھلوں  کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ‘‘(واقعہ:۲۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور پھل میوے جو جنتی پسند کریں  گے۔

             اور ارشاد فرمایا:

’’مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَؕ-تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-اُكُلُهَا دَآىٕمٌ وَّ ظِلُّهَاؕ-تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا‘‘(رعد:۳۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس جنت کا پرہیزگاروں  سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں  جاری یں ، اس کے پھل اور اس کا سایہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ یہ پرہیزگاروں  کا انجام ہے۔

            اورحضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر اہل ِجنت میں  سے کوئی شخص جنتی درخت سے ایک پھل لے گا تو درخت میں  اس کی جگہ دو پھل نمودار ہوجائیں  گے۔(مسند البزار ،  مسند ابی الدرداء رضی اللّٰہ عنہ ،  ۱۰ / ۱۲۳ ،  الحدیث: ۴۱۸۷)

            معلوم ہوا کہ جنت کے درخت سدا بہار پھل دار ہیں ،ان کی زیب و زینت میں  فرق نہیں  آتا۔

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ(۷۴) لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ(۷۵) وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ(۷۶)

ترجمۂ کنزالایمان:  بیشک مجرم جہنم کے عذاب میں  ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔وہ کبھی ان پر سے ہلکا نہ پڑے گا اور وہ اس میں  بے آ س رہیں  گے۔  اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا ہاں  وہ خود ہی ظالم تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک مجرم جہنم کے عذاب میں  ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔وہ کبھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں  مایوس پڑے رہیں  گے۔اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں  وہ خود ہی ظالم تھے۔

{اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ: بیشک مجرم۔} ایمان والے متقی لوگوں  کے لئے جنت کے انعامات ذکر فرمانے کے بعد یہاں  سے کفار کے لئے جہنم کی سزا بیان کی جا رہی ہے۔ اس آیت اوراس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک کافرجہنم کے عذاب میں  ہمیشہ رہنے والے ہیں  کہ جیسے گناہ گار مسلمانوں  کا عذاب ختم ہوجائے گا ویسے ان کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا۔وہ عذاب ان سے کبھی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی اس میں  کمی کی جائے گی، وہ اس میں  نجات ،راحت اورسزا میں  کمی سے مایوس پڑے رہیں  گے اور یہ عذاب دے کر ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں  کیا، ہاں  وہ خود ہی ظالم تھے کہ سرکشی و نافرمانی کرکے اس حال کو پہنچے ہیں ۔( روح البیان ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۷۴-۷۶ ،  ۸ / ۳۹۳)

کفار کے لئے بیان کی گئی سزاؤں  میں مسلمانوں  کے لئے بھی عبرت:

            یاد رہے کہ کفار کے لئے بیان کی گئی سزاؤں  میں  جہاں  ان کے لئے وعید ہے وہیں  ان میں مسلمانوں  کے لئے بھی عبرت اور نصیحت ہے کیونکہ اس بات میں  اگرچہ کوئی شک نہیں کہ ہم فی الوقت مسلمان ہیں  ،لیکن ہم میں  سے کسی کے پاس اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں  کہ وہ مرتے دم تک مسلمان ہی رہے گا کیونکہ جس طرح بے شمار کفار خوش قسمتی سے مسلمان



Total Pages: 250

Go To