Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

، ایک جگہ بیٹھتے ہیں ، آپس میں  ملتے ہیں ۔(شعب الایمان ، الحادی والستون من شعب الایمان...الخ ، قصۃ ابراہیم فی المعانقۃ...الخ ، ۶ / ۴۸۷ ،  الحدیث: ۹۰۰۲)

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ(۷۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو۔وہ جو ہماری آیتوں  پر ایمان لائے اور مسلمان تھے۔  داخل ہو جنت میں  تم اور تمہاری بیبیاں  تمہاری خاطریں  ہوتیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (ان سے فرمایا جائے گا) اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔وہ جو ہماری آیتوں  پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردارتھے۔  تم اور تمہاری بیویاں  جنت میں  داخل ہوجائیں  اور تمہیں  خوش کیا جائے گا۔

{یٰعِبَادِ: اے میرے بندو!} اس آیت ا ور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ دینی دوستی اور اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنے والوں  کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے کے لئے ان سے فرمایا جائے گا’’ اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے اور میرے بندے وہ ہیں  جو ہماری آیتوں  پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردارتھے،ان سے کہا جائے گا کہ تم اور تمہاری مومنہ بیویاں  جنت میں  داخل ہوجائیں  اورجنت میں  تمہارا اکرام ہوگا، نعمتیں  دی جائیں  گی اورایسے خوش کئے جاؤ گے کہ تمہارے چہروں  پر خوشی کے آثار نمودار ہوں  گے۔( ابو سعود ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۸-۷۰ ،  ۵ / ۵۵۰ ،  ملخصاً)

            مقاتل نے کہا کہ ’’حشر کے میدان میں  ایک مُنادی یہ اعلان فرمائے گا ’’یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ‘‘ یعنی اے میرے بندو! آج تم پر کوئی خوف نہیں  ہے۔تو تمام اہلِ محشر اپنے سروں  کو اٹھا لیں  گے ۔پھر وہ مُنادی فرمائے گا ’’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ‘‘ یعنی میرے بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں  پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے۔ یہ سن کر مسلمانوں  کے علاوہ تمام مذاہب والے اپنے سروں  کو جھکا لیں  گے ۔

            اورحضرت حارث محاسبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’حدیث میں  ہے کہ قیامت کے دن مُنادی اعلان فرمائے گا ’’یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ‘‘ تو تمام لوگ اپنے سروں  کو اٹھا لیں  گے اور کہیں  گے: ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ۔پھر دوسری بار مُنادی فرمائے گا ’’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ‘‘ تو تمام کفار اپنے سروں  کو جھکا لیں  گے جبکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے والے اپنے سر اٹھائے رکھیں  گے ۔پھر تیسری بار مُنادی فرمائے گا ’’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ‘‘ تو کبیرہ گناہ کرنے والے اپنے سروں  کو جھکا لیں  گے جبکہ مُتّقی لوگ اسی طرح اپنے سر اٹھائے رکھیں  گے ۔اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق ان سے خوف اور غم دور کر دے گا کیونکہ وہ اکرمُ الاکرمین ہے، وہ اپنے اولیاء کو شرمندہ نہیں  ہونے دے گا۔( تفسیرقرطبی ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۸ ،  ۸ / ۸۰-۸۱ ،  الجزء السادس عشر)

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍۚ-وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُۚ-وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ(۷۱) وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان:  ان پر دورہ ہوگا سونے کے پیالوں  اور جاموں  کا اور اس میں  جو جی چاہے اور جس سے آنکھ کو لذت پہنچے اور تم اس میں  ہمیشہ رہو گے۔اور یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث کئے گئے اپنے اعمال سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان پر سونے کی تھالیوں  اور جاموں  کے دَور ہوں  گے اور جنت میں  وہ تمام چیزیں  ہوں  گی جن کی ان کے دل خواہش کریں  گے اور جن سے آنکھوں  کو لذت ملے گی اور تم اس میں  ہمیشہ رہوگے۔اور یہی وہ جنت ہےجس کا تمہارے اعمال کے صدقے تمہیں  وارث بنایا گیا ہے۔

{یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ: ان پر سونے کی تھالیوں  اور جاموں  کے دَور ہوں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جنت میں  داخل ہونے کے بعد مومن بندوں  پر کھانے سے بھر ی سونے کی تھالیوں  اورشراب سے لبریز جاموں  کے دَور ہوں  گے اور جنت میں  ان کے لئے مختلف اَقسام کی وہ تمام چیزیں  ہوں  گی جن کی ان کے دل خواہش کریں  گے اور جن سے آنکھوں  کو لذّت ملے گی اور تم جنت میں  ہمیشہ رہو گے اور یہی وہ جنت ہے جس کا تمہارے دُنْیَوی نیک اعمال کے صدقے تمہیں  وارث بنایا گیا ہے۔( روح البیان ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۷۱-۷۲ ،  ۸ / ۳۸۹-۳۹۲)

جنت کی عظیم نعمتیں :

            جنت کی ان عظیم نعمتوں  کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ(۱۵) قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا(۱۶)وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ(۱۷) عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا(۱۸) وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۚ-اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا(۱۹) وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا(۲۰) عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ٘-وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍۚ-وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا(۲۱) اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا‘‘(دہر:۱۵۔۲۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان پر چاندی کے برتنوں  اورگلاسوں   کے دَور ہوں  گے جو شیشے کی طرح ہوں  گے۔ چاندی کے  شفاف شیشے جنہیں  پلانے والوں  نے پورے اندازہ سے (بھر کر) رکھا ہوگا۔ اور جنت میں  انہیں  ایسے جام پلائے جائیں  گے جس میں  زنجبیل ملاہوا ہوگا۔ زنجبیل جنت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل رکھا جاتا ہے۔ اور ان کے آس پاس ہمیشہ رہنے والے لڑکے (خدمت کیلئے) پھریں  گے جب تو انہیں  دیکھے گا تو توانہیں  بکھرے ہوئے موتی سمجھے گا۔اور جب تووہاں دیکھے گا تو نعمتیں  اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا۔ ان پرباریک اور موٹے ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور انہیں  چاندی کے کنگن پہنائے جائیں  گے اور ان کا رب انہیں  پاکیزہ شراب پلائے گا۔ (ان سے فرمایا جائے گا) بیشک یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری محنت کی قدر کی گئی ہے۔

            اورحضرت بریدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پوچھا: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا جنت میں  گھوڑے



Total Pages: 250

Go To