Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            اور حصرتِ اُبی بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : جب رات کے دو تہائی حصے گزر جاتے تو نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اٹھتے اور فرماتے: ’’اے لوگو! اللہ تعالیٰ کاذکر کرو، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو ۔تَھرتھرا دینے والی چیز آپہنچی، اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی۔ موت اپنے اندر موجود تکالیف کے ساتھ آپہنچی ہے،موت اپنے اندر موجود تکالیف کے ساتھ آپہنچی ہے۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ القیامۃ... الخ ،  ۲۳-باب ،  ۴ / ۲۰۷ ،  الحدیث: ۲۴۶۵)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  گناہوں  سے سچی توبہ کرنے اور نیک اعمال میں  مصروف رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں  گے مگر پرہیزگار۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں  گے سوائے پرہیزگاروں  کے۔

{اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ: اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں  گے۔} اس سے پہلی آیت میں  قیامت کا ذکر ہوا ،اب اس آیت سے قیامت کے بعض اَحوال بیان کئے جا رہے ہیں  ۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں  جودوستی کفر اور مَعصِیَت کی بنا پر تھی وہ قیامت کے دن دشمنی میں  بدل جائے گی جبکہ دینی دوستی اور وہ محبت جو اللہ تعالیٰ کے لئے تھی دشمنی میں  تبدیل نہ ہو گی بلکہ باقی رہے گی۔( تفسیرکبیر ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۷ ،  ۹ / ۶۴۱ ،  جلالین ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۷ ،  ص۴۰۹ ،  ملتقطاً)

             حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے اس آیت کی تفسیر میں  مروی ہے، آپ نے فرمایا: دو دوست مومن ہیں  اور دو دوست کافر ۔مومن دوستوں  میں  ایک مرجاتا ہے تو بارگاہِ الہٰی میں  عرض کرتا ہے: یارب! عَزَّوَجَلَّ، فلاں  مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرمانبرداری کرنے کا اور نیکی کرنے کا حکم کرتا تھا اور مجھے برائی سے روکتا تھا اور یہ خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حاضر ہونا ہے، یارب! عَزَّوَجَلَّ، اسے میرے بعد گمراہ نہ کرنا اور اسے ایسی ہدایت دے جیسی ہدایت مجھے عطا فرمائی اور اس کا ایسا اِکرام کر جیسا میرا اِکرام فرمایا ۔جب اس کا مومن دوست مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دونوں  کو جمع کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم میں  ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے ،تو ہر ایک کہتا ہے کہ یہ اچھا بھائی ہے، اچھا دوست ہے، اچھا رفیق ہے۔ اور دوکافر دوستوں  میں  سے جب ایک مرجاتا ہے تو دعا کرتا ہے: یارب! عَزَّوَجَلَّ، فلاں  مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرماں  برداری سے منع کرتا تھا اور بَدی کا حکم دیتا تھا ،نیکی سے روکتا تھااور یہ خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حا ضرنہیں  ہونا ،تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میں  سے ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے تو ان میں  سے ایک دوسرے کو بُرا بھائی، بُرا دوست اور بُرا رفیق کہتا ہے۔( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۷ ،  ۴ / ۱۰۹-۱۱۰)

اللہ تعالٰی کے نیک بندوں  سے محبت قیامت کے دن کام آئے گی:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ایمان والوں  کی آپس میں  محبت اور دوستی قیامت کے دن کام آئے گی، لہٰذا اہلِ حق کا انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِمْ سے محبت اور عقیدت رکھنا انہیں  ضرور نفع دے گا۔ صحیح بخاری میں  حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی، یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، قیامت کب ہوگی؟ ارشاد فرمایا: تُو نے اس کے لیے کیاتیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی، اس کے لیے میں  نے کوئی تیاری نہیں  کی، صرف اتنی بات ہے کہ میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت رکھتا ہوں ۔ ارشاد فرمایا ’’تو ان کے ساتھ ہے جن سے تجھے محبت ہے۔حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کہتے ہیں  کہ اسلام کے بعد مسلمانوں  کو جتنی اس کلمہ سے خوشی ہوئی، ایسی خوشی میں  نے کبھینہیں  دیکھی۔( بخاری  ،  کتاب فضائل اصحاب النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم  ،  باب مناقب عمر بن الخطاب ... الخ  ،  ۲  /  ۵۲۷ ،  الحدیث: ۳۶۸۸ ،  مشکاۃ المصابیح ،  کتاب الآداب ،  باب الحب فی اللّٰہ ومن اللّٰہ ،  الفصل الاول ،  ۲ / ۲۱۸ ،  الحدیث: ۵۰۰۹)

            لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نیک اور پرہیز گار بندوں  کو اپنا دوست بنائے اور ان سے محبت رکھے تاکہ آخرت میں  ان کی دوستی اور محبت کام آئے ۔

اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت رکھنے کے فضائل:

            جو مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں  ،ان کے اَحادیث میں  بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ،ترغیب کے لئے یہاں  چار اَحادیث ملاحظہ ہوں ،

(1)…حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’جو لوگ میری وجہ سے آپس میں  محبت رکھتے ہیں  اور میری وجہ سے ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے ہیں  اور آپس میں  ملتے جلتے ہیں  اور مال خرچ کرتے ہیں ، ان سے میری محبت واجب ہوگئی۔( مؤطا امام مالک ،  کتاب الشعر ،  باب ما جاء فی المتحابین فی اللّٰہ ،  ۲ / ۴۳۹ ،  الحدیث: ۱۸۲۸)

(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: ’’وہ لوگ کہاں  ہیں  جو میرے جلال کی وجہ سے آپس میں  محبت رکھتے تھے، آج میں  ان کو اپنے (عرش کے)سایہ میں  رکھوں  گا، آج میرے (عرش کے)سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ۔( مسلم ،  کتاب البرّ والصلۃ والاداب ،  باب فی فضل الحب فی اللّٰہ ،  ص۱۳۸۸ ،  الحدیث: ۳۷(۲۵۶۶))

(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اگردو شخصوں  نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے باہم محبت کی اور ایک مشرق میں  ہے، دوسرا مغرب میں ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دونوں  کو جمع کردے گا اور فرمائے گا: ’’یہی وہ ہے جس سے تو نے میرے لیے محبت کی تھی۔( شعب الایمان ، الحادی والستون من شعب الایمان...الخ ،  قصۃ ابراہیم فی المعانقۃ...الخ ، ۶ / ۴۹۲ ، الحدیث:۹۰۲۲)

(4)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جنت میں  یاقوت کے ستون ہیں  ان پر زَبَرْجَد کے بالاخانے ہیں ، وہ ایسے روشن ہیں  جیسے چمکدار ستارے۔ لوگوں نے عرض کی، یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ان میں  کون رہے گا؟ فرمایا: ’’وہ لوگ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے آپس میں  محبت رکھتے ہیں



Total Pages: 250

Go To