Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ‘‘(سورہ بقرہ:۲۰۸ ، ۲۰۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اسلام میں  پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں  پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اور اگر تم اپنے پاس روشن دلائل آجانے کے بعد بھی لغزش کھاؤ تو جان لو کہ اللہ  زبردست حکمت والا ہے۔

            لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے اس خبیث ترین اور انتہائی خطرناک دشمن کو پہچانے اوراس کے واروں  سے بچنے اور اس دشمن کو خود سے دور کرنے کی بھرپور کوشش کرے ۔

سَرورِ دیں  لیجے اپنے ناتوانوں  کی خبر                   نفس و شیطاں  سیّدا کب تک دباتے جائیں  گے

تم ہو حفیظ و مُغیث کیا ہے وہ دشمن خبیث              تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں  درود

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ(۶۳)اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(۶۴)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں  لایا اس نے فرمایا میں  تمہارے پاس حکمت لے کر آیا اور اس لیے میں  تم سے بیان کردوں  بعض وہ باتیں  جن میں  تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔  بیشک اللہ میرا رب اور تمہارا رب تو اسے پوجو یہ سیدھی راہ ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں  لایا تواس نے فرمایا: میں  تمہارے پاس حکمت لے کر آیاہوں  اور میں  اس لئے (آیا ہوں ) تاکہ میں  تم سے بعض وہ باتیں بیان کردوں  جن میں  تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔

{وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ: اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں  لایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معجزات لے کر آئے تو انہوں  نے فرمایا: ’’میں  تمہارے پاس نبوت اور انجیل کے احکام لے کر آیا ہوں  تاکہ تم ان احکام پر عمل کرو اور میں اس لئے آیا ہوں  تاکہ میں  تم سے توریت کے احکام میں  سے وہ تمام باتیں بیان کردوں  جن میں  تم اختلاف رکھتے ہو،لہٰذا تم میری مخالفت کرنے میں  اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میں  اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو اَحکام تمہیں  پہنچا رہا ہوں  ان میں  میرا حکم مانو کیونکہ میری اطاعت حق کی اطاعت ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو تم صرف اسی کی عبادت کرو اورا س کی وحدانیّت کا اقرار کرو، یہ سیدھا راستہ ہے کہ اس پر چلنے والا گمراہ نہیں  ہو سکتا۔( جلالین  ،  الزّخرف  ،  تحت الآیۃ : ۶۳ - ۶۴  ،  ص۴۰۹  ،  روح البیان ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۳-۶۴ ،  ۸ / ۳۸۵-۳۸۶ ،  ملتقطاً)

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْۚ-فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ(۶۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  پھر وہ گروہ آپس میں  مختلف ہوگئے تو ظالموں  کی خرابی ہے ایک درد ناک دن کے عذاب سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر وہ گروہ آپس میں  مختلف ہوگئے تو ظالموں  کیلئے ایک درد ناک دن کے عذاب کی خرابی ہے۔

{فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ: پھر وہ گروہ آپس میں  مختلف ہوگئے۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں  کے شرک بیان فرمائے ہیں ،چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد عیسائیوں  کے مختلف گروہ بن گئے ، ان میں  سے کسی نے کہا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خدا تھے، کسی نے کہا کہ خدا کے بیٹے تھے اور کسی نے کہا کہ تین خداؤں  میں  سے تیسرے تھے۔الغرض عیسائیوں  کے یعقوبی ،نسطوری، ملکانی اور شمعونی فرقے بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جنہوں  نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  کفر کی باتیں  کہیں ، ان ظالموں  کیلئے قیامت کے درد ناک دن کے عذاب کی ہلاکت ہے۔( جلالین ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ص۴۰۹ ،  مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ص۱۱۰۵ ،  ملتقطاً)

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۶۶)

ترجمۂ کنزالایمان:  کاہے کے انتظار میں  ہیں  مگر قیامت کے کہ اُن پر اچانک آجائے اور اُنہیں  خبر نہ ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ قیامت ہی کا انتظار کررہے ہیں  کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں  خبر بھی نہ ہو۔

{هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ: وہ قیامت ہی کا انتظار کررہے ہیں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  مختلف فرقے بن گئے اور ان کے متعلق باطل باتیں  کہہ رہے ہیں (ان کے حال سے یہی نظر آ رہا ہے کہ) وہ اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں  جس میں  قیامت اچانک قائم ہو جائے گی اور انہیں اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو گی۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفارِ مکہ(کے طرزِ عمل سے یہی نظر آتا ہے کہ) قیامت کے آنے کا ہی انتظار کر رہے ہیں  کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں  دُنْیَوی کام کاج میں  مشغولیَّت کی وجہ سے اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔( تفسیرطبری ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۶ ،  ۱۱ / ۲۰۸ ،  جلالین ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۶ ،  ص۴۰۹ ،  مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۶ ،  ص۱۱۰۵ ،  ملتقطاً)

موت چھوٹی قیامت ہے،یہ بھی اچانک آئے گی:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ قیامت اچانک آئے گی اور یاد رہے کہ بڑی قیامت سے پہلے ایک چھوٹی قیامت ہے،یہ بھی اچانک ہی آئے گی اور یہ قیامت ’’موت‘‘ ہے ،لہٰذاہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ چھوٹی قیامت قائم ہونے سے پہلے پہلے بھی گناہوں  کو چھوڑ دے اور اپنے سابقہ تمام گناہوں  اور جُرموں  سے سچی توبہ کر کے نیک اعمال کرنے میں  مصروف ہو جائے ،اَحادیث میں  بھی ا س کی بہت ترغیب دی گئی ہے ،چنانچہ

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جب تم میں  سے کسی کو موت آ گئی تو بے شک اس کی قیامت قائم ہو گئی توتم اللہ تعالیٰ کی عبادت ا س طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور ہر گھڑی اس سے مغفرت طلب کرتے رہو۔( مسند الفردوس ،  باب الالف ،  ۱ / ۲۸۵ ،  الحدیث: ۱۱۱۷)

 



Total Pages: 250

Go To