Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

میں  حضرت ابنِ مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نازل ہوں  گے جو انصاف پسند ہوں  گے ،صلیب کو توڑیں  گے،خنزیر کو قتل کریں  گے،جِزیَہ مَوقوف کر دیں  گے اور مال اتنا بڑھ جائے گا کہ لینے والا کوئی نہ ہو گا۔( بخاری ،  کتاب البیوع ،  باب قتل الخنزیر ،  ۲ / ۵۰ ،  الحدیث: ۲۲۲۲)

(2)…حضرت نواس بن سمعان کلابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’(دجال ظاہر ہونے کے بعد)اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھیجے گا تو وہ جامع مسجد دمشق کے سفید مشرقی مینارے پر اس حال میں  اتریں  گے کہ انہوں  نے ہلکے زرد رنگ کے دو حُلّے پہنے ہوں  گے اور انہوں  نے دو فرشتوں  کے بازوؤں  پر ہاتھ رکھے ہوں  گے ،جب آپ سر نیچاکریں  گے تو پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں  گے اور جب آپ سر اٹھائیں  گے تو موتیوں  کی طرح سفید چاندی کے دانے جھڑ رہے ہوں  گے۔(مسلم  ،  کتاب الفتن و اشراط الساعۃ  ،  باب ذکر الدجال و صفتہ و ما معہ ،  ص۱۵۶۸ ،  الحدیث: ۱۱۰(۲۱۳۷) ،  ابو داؤد ،  اول کتاب الملاحم ،  باب ذکر خروج الدجال ،  ۴ / ۱۵۷ ،  الحدیث: ۴۳۲۱)

(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان کوئی نبی نہیں  اور وہ (قیامت کے قریب آسمان سے) نازل ہوں  گے، جب تم انہیں  دیکھو گے تو پہچان لوگے،ان کا رنگ سرخی آمیز سفید ہو گا،قد درمیانہ ہو گا،وہ ہلکے زرد رنگ کے حُلّے پہنے ہوئے ہوں  گے ،ان پر تری نہیں  ہو گی لیکن گویا ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں  گے ،وہ اسلام پر لوگوں  سے قتال کریں  گے ،صلیب توڑ دیں  گے ،خنزیر کو قتل کریں  گے،جِزیَہ مَوقوف کر دیں  گے ،اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں  اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب کو مٹا دے گا،حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مسیح دجال کو ہلاک کریں  گے ،چالیس سال زمین میں  قیام کرنے کے بعد وفات پائیں  گے اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں  گے ۔( ابو داؤد ،  اول کتاب الملاحم ،  باب ذکر خروج الدجال ،  ۴ / ۱۵۸ ،  الحدیث: ۴۳۲۴)

قیامت کی 10علامات:

            قیامت کی ایک علامت اس آیت میں  بیان ہوئی اور چند علامات اس حدیثِ پاک میں  بیان ہوئی ہیں ۔ چنانچہ حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں ،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے پاس اس دوران تشریف لائے جب ہم آپس میں  گفتگو کر رہے تھے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم کیا باتیں  کر رہے تھے۔ہم نے عرض کی:ہم قیامت کے بارے میں  گفتگو کر رہے تھے۔ ارشاد فرمایا’’اس وقت تک قیامت نہیں  آئے گی جب تک تم ا س کے بارے میں  دس نشانیاں  نہ دیکھ لو (1)دھواں  (2)دجال(3)دابۃ الارض، (ایک عجیب و غریب شکل و صورت کا جانور) (4)سورج کا مغرب سے طلوع ہونا (5)حضرت عیسیٰ بن مریم کا نزول(6)یاجوج ماجوج (7)مشرق میں  زمین دھنسنا(8)مغرب میں  زمین دھنسنا (9)جزیرۂ عرب میں  زمین دھنسنا(10) یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں  کو ہَنکا کر میدانِ محشر کی طرف لے آئے گی۔( مسلم ،  کتاب الفتن واشراط الساعۃ ،  باب فی الآیات التی تکون قبل الساعۃ ،  ص۱۵۵۱ ،  الحدیث: ۳۹(۲۹۰۱))

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُۚ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور ہرگز شیطان تمہیں  نہ روک دے بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہرگز شیطان تمہیں  نہ روکے بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

{وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ: اور ہرگز شیطان تمہیں  نہ روکے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہرگز شیطان تمہیں  شریعت کی پیروی کرنے سے یا قیامت کا یقین رکھنے سے یا اللہ تعالیٰ کے دین پر قائم رہنے سے نہ روک دے، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور اس کی عداوت اس سے ظاہر ہے کہ اس کی وجہ سے تمہارے والد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جنت سے (زمین پر)تشریف لے جانا پڑااور ان کے جسم سے نور کا لباس اتار لیا گیا پھر وہ تمہارا دوست کیسے ہو سکتا ہے؟ (مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ص۱۱۰۴-۱۱۰۵ ،  خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ۴ / ۱۰۹ ،  ملتقطاً)

شیطان کی انسانوں  سے عداوت اور دشمنی:

            اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں  کئی مقامات پر شیطان کی عداوت اور دشمنی کی پہچان کروائی ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ لوگ شیطان کے دشمن ہونے پر ایمان لائیں  اور ا س کے شر سے بچنے کی کوشش کریں  ،چنانچہ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا‘‘(بنی اسرائیل:۵۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک شیطان لوگوں  کے درمیان فساد ڈال دیتا ہے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

’’وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸)اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘(سورہ بقرہ:۱۶۸ ، ۱۶۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور شیطان کے راستوں  پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وہ تمہیں  صرف برائی اور بے حیائی کا حکم دے گا اور یہ (حکم دے گا) کہ تم اللہ کے بارے میں  وہ کچھ کہو جو خود تمہیں  معلوم نہیں۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

’’ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّاؕ-اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ‘‘(فاطر:۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو، وہ تو اپنے گروہ کو اسی لیے بلاتا ہے تاکہ وہ بھی دوزخیوں  میں  سے ہوجائیں ۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۲۰۸)فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ



Total Pages: 250

Go To