Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اے میری قوم!کیا مصر کی بادشاہت اور میرے محل کے نیچے بہنے والی دریائے نیل سے نکلی ہوئی بڑی بڑی نہریں  میری نہیں  ہیں ؟ تو کیا تم میری عظمت و قوت اور شان و سَطْوَت دیکھتے نہیں؟

            اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ خلیفہ ہارون رشید نے جب یہ آیت پڑھی اور مصر کی حکومت پر فرعون کا غرور دیکھا تو کہا ’’ میں  وہ مصر اپنے ایک ادنیٰ غلام کو دے دوں  گا، چنانچہ اُنہوں نے ملک ِمصر خصیب کو دے دیا جو اُن کا غلام تھا اور وضو کرانے کی خدمت پر مامور تھا۔( تفسیرکبیر  ،  الزّخرف  ،  تحت الآیۃ : ۵۱  ،  ۹  /  ۶۳۷  ،  خازن  ،  الزّخرف  ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۴ / ۱۰۷ ،  مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ص۱۱۰۲-۱۱۰۳ ،  ملتقطاً)

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ ﳔ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان:  یا میں  بہتر ہوں  اس سے کہ ذلیل ہے اور بات صاف کرتا معلوم نہیں  ہوتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یا میں  اس سے بہتر ہوں جو معمولی سا آدمی ہے اور صاف طریقے سے باتیں  کرتا معلوم نہیں  ہوتا۔

{اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا: یا میں  اس سے بہتر ہوں ۔} فرعون نے کہا کہ کیا تمہارے نزدیک ثابت ہوگیا اور تم نے سمجھ لیا کہ میں  اس سے بہتر ہوں  جو کمزوراور حقیرسا آدمی ہے اور جواپنی بات بھی صاف طریقے سے بیان کرتا معلوم نہیں  ہوتا۔

            یہ اس ملعون نے جھوٹ کہا کیونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے زبانِ اَقدس کی وہ گِرہ زائل کردی تھی لیکن فرعونی اپنے پہلے ہی خیال میں  تھے۔ (روح البیان ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ۸ / ۳۷۸)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ اپنے آپ کونبی سے اعلیٰ کہنا یا نبی کو ذلت کے الفاظ سے یاد کرنا فرعونی کفر ہے ۔

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓىٕكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان:  تو اس پر کیوں  نہ ڈالے گئے سونے کے کنگن یا اس کے ساتھ فرشتے آتے کہ اس کے پاس رہتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اگر یہ رسول ہے)تو اس پر سونے کے کنگن کیوں  نہ ڈالے گئے؟ یا اس کے ساتھ قطار بنا کرفرشتے آتے؟

{فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ: تو اس پر سونے کے کنگن کیوں  نہ ڈالے گئے؟} فرعون نے کہا کہ اگر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سچے ہیں  اور اللہ تعالیٰ نے انہیں  ایساسردار بنایا ہے جس کی اطاعت واجب ہے تو انہیں  سونے کا کنگن کیوں  نہیں  پہنایا گیا۔فرعون نے یہ بات اپنے زمانے کے دستور کے مطابق کہی کہ اس زمانے میں  جس کسی کو سردار بنایا جاتا تھا تواسے سونے کے کنگن اور سونے کا طوق پہنایا جاتا تھا ۔فرعون نے مزید یہ کہا کہ رسالت کے دعویٰ میں  سچے ہونے کی گواہی دینے کیلئے اس کے ساتھ قطار بنا کرفرشتے کیوں  نہیں  آتے؟( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۴ / ۱۰۸)

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ(۵۴)

ترجمۂ کنزالایمان:  پھر اس نے اپنی قوم کو کم عقل کرلیا تو وہ اس کے کہنے پر چلے بیشک وہ بے حکم لوگ تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: توفرعون نے اپنی قوم کوبیوقوف بنالیا تو وہ اس کے کہنے پر چل پڑے بیشک وہ نافرمان لوگ تھے۔

{فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ: تو فرعون نے اپنی قوم کو بیوقوف بنالیا۔} یعنی فرعون نے اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں  کر کے ان جاہلوں  کی عقل مار دی اور انہیں  بہلا پھسلا لیا تو وہ اس کے کہنے پر چل پڑے اور وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کرنے لگے۔بے شک وہ نافرمان لوگ تھے کیونکہ انہوں  نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرنے کی بجائے فرعون جیسے جاہل اور سرکش کی پیروی کی۔( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۴ / ۱۰۸ ،  تفسیرکبیر ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۹ / ۶۳۸ ، ملتقطاً)

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۵۵) فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠(۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان:  پھر جب اُنہوں  نے وہ کیا جس پر ہمارا غضب ان پر آیا ہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو ڈبودیا۔ اُنہیں  ہم نے کردیا اگلی داستان اور کہاوت پچھلوں  کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب انہوں  نے ہمیں ناراض کیا توہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔  تو ہم نے انہیں  اگلی داستان کردیا اور بعد والوں  کیلئے مثال بنادیا۔

{فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا: پھر جب انہوں  نے ہمیں ناراض کیا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب فرعون اور ا س کی قوم نے اپنی بداعمالیوں  کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جرموں  کی سزا میں  سب کو غرق کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں  ماضی کی عبرتناک داستان بنادیا اور بعد والوں  کے لئے مثال بنا دیا تا کہ بعد والے اُن کے حال اور انجام سے نصیحت و عبرت حاصل کریں ۔( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۵۵ ،  ۴ / ۱۰۸)

سرکش مالداروں  اور منصب والوں  کے لئے عبرت کا مقام :

            ان آیا ت میں  بیان کئے گئے واقعے میں  ان لوگوں  کے لئے بڑی عبرت اور نصیحت ہے جنہیں  اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا،معاشرے میں  مقام ومرتبہ عطا کیا اورحکومت وسلطنت سے سرفراز کیا لیکن وہ ان نعمتوں  پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرنے کی بجائے ا س کی ناشکری کرنے میں  اور گناہوں  میں  مشغول رہ کر مسلسل اس کی نافرمانیوں  میں  مصروف ہیں ۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ(۴۴)فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاؕ-وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۴۵)‘‘(انعام:۴۴ ، ۴۵)

 



Total Pages: 250

Go To