Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں  کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں  کی طرف بھیجا تو موسیٰ نے فرمایا: بیشک میں  اس کا رسول ہوں  جو سارے جہان کا مالک ہے۔ پھر جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں  لایا توجبھی وہ ان پر ہنسنے لگے۔

{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں  کے ساتھ بھیجا۔} اس مقام پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ دوبارہ بیان کرنے سے مقصود کفارِ قریش کی گفتگو کی وجہ سے پہنچنے والی تکلیف پر تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دینا ہے کہ آپ کے ساتھ آپ کی قوم نے جیسا سلوک کیا کہ مال کی کمی اور معاشرے میں  ان کی نظر میں مقام نہ ہونے پر عار دلایا، ویسا سلوک حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے بھی ان کے ساتھ کیا تھا،انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ کفار کی یہ رَوِش کوئی آج کی نہیں  بلکہ بہت پرانی ہے۔ چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنی نشانیوں  کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں  کی طرف بھیجا تاکہ آپ انہیں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دیں ۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے پاس پہنچے تو فرمایا: بیشک میں  اس کا رسول ہوں  جو سارے جہان کا مالک ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بات سن کر انہوں  نے مطالبہ کیا کہ ہمیں  کوئی ایسی نشانی دکھائیں  جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عصا اور ید ِبیضا،ایسی وہ نشانیاں  دکھائیں  جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتی تھیں  تو وہ ان نشانیوں  میں  غورو فکر کرنے کی بجائے الٹا ہنسنے اور مذاق اڑانے لگ گئے اور انہیں  جادو بتانے لگے۔( صاوی  ،  الزّخرف  ،  تحت الآیۃ : ۴۶-۴۷  ،  ۵ / ۱۸۹۷- ۱۸۹۸  ،  ابن کثیر ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۴۶-۴۷ ،  ۷ / ۲۱۱ ،  مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۴۶-۴۷ ،  ص۱۱۰۲ ،  ملتقطاً)

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا٘-وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور ہم انہیں  جو نشانی دکھاتے وہ پہلے سے بڑی ہوتی اور ہم نے اُنہیں  مصیبت میں  گرفتار کیا کہ وہ باز آئیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم انہیں  جو نشانی دکھاتے وہ اپنی مثل (پہلی نشانی) سے بڑی ہی ہوتی اور ہم نے انہیں  مصیبت میں  گرفتار کیا تاکہ وہ بازآجائیں ۔

{وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا: اور ہم انہیں  جو نشانی دکھاتے وہ اپنی مثل (پہلی نشانی) سے بڑی ہی ہوتی۔} یعنی ہر ایک نشانی اپنی خصوصیت میں  دوسری سے بڑھ چڑھ کرتھی، مراد یہ ہے کہ ایک سے ایک اعلیٰ تھی۔

{وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ: اور ہم نے انہیں  مصیبت میں  گرفتار کیا۔} یعنی جب فرعون اور اس کی قوم نے سرکشی کی تو ہم نے انہیں  مصیبت میں  گرفتار کیا تاکہ وہ اپنی حرکتوں  سے بازآجائیں  اور کفر چھوڑ کر ایمان کو اختیار کر لیں ۔یہ عذاب قحط سالی، طوفان اور ٹڈی وغیرہ سے کئے گئے، یہ سب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نشانیاں  تھیں  جو اُن کی نبوت پر دلالت کرتی تھیں  اور ان میں  ایک سے ایک بلندو بالاتھی۔( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ۴ / ۱۰۷)

            نوٹ:اس عذاب کی تفصیل جاننے کے لئے سورۂ اَعراف کی آیت نمبر133 کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَۚ-اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ(۴۹)فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور بولے کہ اے جادوگر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے بیشک ہم ہدایت پر آئیں  گے۔ پھر جب ہم نے اُن سے وہ مصیبت ٹال دی جبھی وہ عہد توڑ گئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں  نے کہا: اے جادوکے علم والے ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اُس عہد کے سبب جو اس نے تم سے کیا ہے ۔بیشک ہم ہدایت پر آجائیں  گے۔ پھر جب ہم نے ان سے وہ مصیبت ٹال دی تواسی وقت انہوں  نے عہد توڑدیا۔

{وَ قَالُوْا: اور انہوں  نے کہا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب فرعون اور ا س کی قوم نے عذاب دیکھا تو انہوں  نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا ’’اے جادو کے علم والے!‘‘ یہ کلمہ اُن کے عرف اور مُحاورہ میں  بہت تعظیم وتکریم کا تھا، وہ لوگ عالِم، ماہر، حاذِق، اور کامل کو جادوگر کہا کرتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ اُن کی نظر میں  جادو کی بہت عظمت تھی اور وہ اسے قابلِ تعریف و صف سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے اِلتجا کے وقت حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس کلمہ سے ندا کی اورکہا: تم سے جو تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے عہد کیا ہے کہ تمہاری دعا مقبول ہے اور ایمان لانے والوں  اور ہدایت قبول کرنے والوں  پر سے اللہ تعالیٰ عذاب اٹھا لے گا، اس عہد کے سبب ہمارے لیے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے دعا کروکہ ہم سے یہ عذاب دور کر دے، بیشک ہم ہدایت پر آجائیں  گے اور ایمان قبول کر لیں  گے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا کی تو اُن پر سے عذاب اٹھالیا گیا، جب اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ مصیبت ٹال دی تواسی وقت انہوں  نے اپنا عہد توڑدیا اور ایمان قبول کرنے کی بجائے اپنے کفر پر ہی اَڑے رہے۔( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۴ / ۱۰۷ ،  مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ص۱۱۰۲ ،  ملتقطاً)

            نوٹ:یہ واقعہ سورۂ اَعراف کی آیت نمبر134اور135 میں  گزر چکا ہے۔

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْۚ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور فرعون اپنی قوم میں  پکارا کہ اے میری قوم کیا میرے لیے مصر کی سلطنت نہیں  اور یہ نہریں  کہ میرے نیچے بہتی ہیں  تو کیا تم دیکھتے نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور فرعون نے اپنی قوم میں  اعلان کرکے کہا: اے میری قوم!کیا مصر کی بادشاہت میری نہیں  ہے اوریہ نہریں  جومیرے نیچے بہتی ہیں ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

{وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ: اور فرعون نے اپنی قوم میں  اعلان کرکے کہا۔} اس سے پہلی آیات میں  فرعون اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مابین ہونے والامعاملہ بیان کیا گیا اور اس آیت سے فرعون اور ا س کی قوم کے مابین ہونے والا معاملہ ذکر کیا جارہا ہے۔چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون نے اپنی قوم میں  بڑے فخر کے ساتھ اعلان کرکے کہا:



Total Pages: 250

Go To