Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            اور حضورِاَ قدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نہ صرف خود سیدھے راستے پر ہیں  بلکہ سیدھے راستے کے راہنما بھی ہیں ،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘‘(شوریٰ:۵۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک تم ضرور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو۔

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَۚ-وَ سَوْفَ تُسْــٴَـلُوْنَ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور بیشک وہ شرف ہے تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور(اے حبیب!) بیشک یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کیلئے شرف وبزرگی ہے اور (اے لوگو!) عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔

{وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ: اور بیشک یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کیلئے شرف و بزرگی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ قرآن آپ کے لئے بطورِ خاص عظیم شرف کا سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور حکمت عطا فرمائی اور عمومی طور پر آپ کی امت کے لئے بھی عظمت کا سبب ہے کہ انہیں  اس سے ہدایت فرمائی اوراے لوگو! عنقریب قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے قرآن کا کیا حق ادا کیا، اس کی کیا تعظیم کی اور اس نعمت کا کیا شکر بجالائے۔( مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ص۱۱۰۱ ،  ملتقطاً)

مسلمانوں  کی عظمت و نامْوَری کا ذریعہ اور مسلمانوں  کا حال:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید وہ عظیم الشّان کتاب ہے جو اس امت کی عظمت،نامْوَری اور چرچے کا ذریعہ ہے،اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل فرمائی جس میں  تمہارا چرچا ہے۔ تو کیا تمہیں  عقل نہیں ؟

            اس کے ذریعے عظمت اور نامْوَری اسی صورت حاصل ہو سکتی ہے جب کہ اس کے اَحکام اور ا س کی تعلیمات پر عمل کیا جائے ،اگر تاریخ پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت روشن دن سے بھی زیادہ واضح نظر آئے گی کہ دینِ اسلام کے ابتدائی سالوں  میں  مسلمانوں  کو دنیا میں  جو عظمت ملی ، دنیا جہاں  میں  ان کا سکہ چلا اور دبدبہ بیٹھا اور ہر طرف ان کی نیک نامی کا جو چرچا ہوا، اس کا بنیادی سبب قرآنِ مجید سے والہانہ وابَستگی،اس کے احکامات اور تعلیمات کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھنا اور مشکل ترین حالات میں  بھی ان پر عمل پیرا رہنا تھا اور فی زمانہ مسلمان دنیا بھر میں  جس ذلت و رسوائی کا شکار نظر آ رہے ہیں  اس کی بہت بڑی وجہ قرآنِ مجید سے ان کی وابَستگی ختم ہو جانا ،اس کے احکامات کی پرواہ نہ کرنا اور ان پر عمل چھوڑ دینا ہے، بلکہ قرآنِ کریم سے ان کی دوری کا یہ حال ہے کہ مسلمانوں  کی ایک تعدادکو قرآنِ مجید کے دئیےہوئے احکامات اور اس کی روشن تعلیمات کی خبر تک نہیں  ہے حتّٰی کہ صرف قرآنِ مجید کا عربی متن پڑھنے کا کہا جائے تو وہ تک انہیں  صحیح پڑھنا نہیں  آتا،گھروں  میں  ہفتوں  اور مہینوں  قرآنِ مجید سنہری کپڑوں  میں  ملبوس پڑا رہتا ہے اور موقع ملنے پر اس سے گَرد وغیرہ کی تہ صاف کر کے دوبارہ اسی مقام پر رکھ دیا جاتا ہے ۔اے کاش!

درسِ قرآں  ہم نے نہ بھلایا ہوتا            یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا

دیکھے ہیں  یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت            شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت سے گلہ ہے

فریاد ہے اے کشتیِ اُمت کے نگہباں       بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

            اس آیت ِمبارکہ کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی حالت پر غور کر لے کہ ا س نے قرآنِ مجید کا کتنا حق ادا کیا،قرآن کی کیا تعظیم کی ، اس نعمت کا کتنا شکر بجا لایا اور اس کے احکامات اور تعلیمات پر کس قدر عمل کیا۔

وَ سْــٴَـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور اُن سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے کیا ہم نے رحمٰن کے سوا کچھ اَور خدا ٹھہرائے جن کو پوجا ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورجو ہم نے تم سے پہلے اپنے رسول بھیجے ان سے پوچھو کہ کیا ہم نے رحمٰن کے سوا کچھ اور معبود مقرر کئے ہیں  جن کی عبادت کی جائے۔

{وَ سْــٴَـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَا: اور جو ہم نے تم سے پہلے اپنے رسول بھیجے ان سے پوچھو۔} بعض مفسرین نے فرمایا کہ رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے سوال کرنے کے معنی یہ ہیں  کہ اُن کے اَدیان اور ان کی ملتوں  کو تلاش کرو کہ کیا کہیں  بھی اور کسی بھی نبی کی اُمت میں  بت پرستی روا رکھی گئی ہے؟ اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں  کہ اہلِ کتاب میں  سے جو لوگ ایمان لائے ان سے دریافت کرو کہ کیا کبھی کسی نبی نے غَیْرُاللہ کی عبادت کی اجازت دی تاکہ مشرکین پر ثابت ہوجائے کہ مخلوق پرستی نہ کسی رسول نے بتائی اور نہ کسی کتاب میں  آئی ۔ اس میں  کوئی شک ہی نہیں  کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام توحید کی دعوت دیتے آئے اور سب نے مخلوق پرستی کی ممانعت فرمائی ، اور تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے توحید کی دعوت دیتے رہنے کے بارے میں  ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

’’وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ‘‘(نحل:۳۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہر امت میں  ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۴۶)فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں  کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں  کی طرف بھیجا تو اس نے فرمایا بیشک میں  اس کا رسول ہوں  جو سارے جہاں  کا مالک ہے۔  پھر جب وہ اُن کے پاس ہماری نشانیاں  لایا جبھی وہ ان پر ہنسنے لگے۔

 



Total Pages: 250

Go To