Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            لہٰذا مسلمانوں  کو دنیا کے عیش عشرت اور مال و دولت کی طرف راغب نہیں  ہونا چاہئے بلکہ اسے اپنے حق میں  ایک آزمائش یقین کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے بخشش و مغفرت کا پروانہ پانے کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک کوشش کرنی چاہئے ،جیساکہ دنیا کی فَنائِیَّت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِۙ-اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖؕ-ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ‘‘(حدید:۲۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھ جاؤ جس کی چوڑائیآسمان و زمین کی وسعت کی طرح ہے۔ اللہ اور اس کے سب رسولوں  پر ایمان لانے والوں  کیلئے تیار کی گئی ہے ،یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

            اور اس پر اِستقامت پانے کے لئے ا س حقیقت کو اپنے پیش ِنظر رکھنا چاہئے کہ دنیا کا جتنا سازو سامان اور جتنی عیش و عشرت ہے، ا س سب کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  مچھر کے پر جتنی بھی حیثیت نہیں ،جیساکہ حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اگراللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا مچھر کے پر کے برابر بھی قدررکھتی توکافرکو اس سے ایک گھونٹ پانی نہ دیتا۔ (ترمذی ،  کتاب الزہد ،  باب ما جاء فی ہوان الدّنیا علی اللّٰہ ،  ۴ / ۱۴۳ ،  الحدیث: ۲۳۲۷)

            اور حضرت مُستَورِد بن شداد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے نیاز مندوں  کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف لے جارہے تھے، راستہ میں  ایک مردہ بکری دیکھی تو ارشاد فرمایا: ’’تم دیکھ رہے ہو کہ اس کے مالکوں  نے اسے بہت بے قدری سے پھینک دیا، دنیا کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی بھی قدر نہیں  جتنی بکری والوں کے نزدیک اس مری ہوئی بکری کی ہو۔( ترمذی ،  کتاب الزہد ،  باب ما جاء فی ہوان الدّنیا علی اللّٰہ ،  ۴ / ۱۴۴ ،  الحدیث: ۲۳۲۸)

            اور جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  دنیا کی یہ حیثیت ہے تو دنیا کا مال و دولت اور عیش و عشرت نہ ملنے پر کسی مسلمان کو غمزدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے شکر کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس چیز سے بچا لیا جس کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  کوئی حیثیت نہیں  ۔ حضرت قتادہ بن نعمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے پر کرم فرماتا ہے تو اُسے دنیا سے ایسا بچاتا ہے جیسا تم اپنے بیمار کو پانی سے بچاتے ہو۔( ترمذی ،  کتاب الطّب ،  باب ما جاء فی الحمیۃ ،  ۴ / ۴ ،  الحدیث: ۲۰۴۴)

            اورحضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔( مسلم ،  کتاب الزہد والرقائق ،  ص۱۵۸۲ ،  الحدیث: ۱(۲۹۵۶))

            اللہ تعالیٰ ہمیں  دنیا کی حیثیت اور حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور کافروں  کے مال و دولت کی چمک سے مُتَأثِّر ہونے کی بجائے دینِ اسلام کے دئیے ہوئے اَحکام اور تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہمیں  اپنی دنیا و آخرت دونوں  کو بہتر بنانے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جسے رَ تُوند آئے رحمٰن کے ذکر سے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں  کہ وہ اس کا ساتھی رہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو رحمٰن کے ذکر سے منہ پھیرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں  تو وہ اس کا ساتھی رہتاہے۔

{وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ: اور جو رحمٰن کے ذکر سے منہ پھیرے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جو قرآنِ پاک سے اس طرح اندھا بن جائے کہ نہ اس کی ہدایتوں  کو دیکھے اور نہ ان سے فائدہ اٹھائے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں  اوروہ شیطان دنیامیں  بھی اندھا بننے والے کا ساتھی رہتا ہے کہ اسے حلال کاموں  سے روکتا اور حرام کاموں  کی ترغیب دیتا ہے،اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منع کرتا اور اس کی نافرمانی کرنے کا حکم دیتا ہے اور آخرت میں  بھی اس کا ساتھی ہو گا۔( صاوی ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۵ / ۱۸۹۴-۱۸۹۵ ،  ملتقطاً)

           دوسری تفسیریہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اس طرح اِعراض کرے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بے خوف ہو جائے اور اس کے عذاب سے نہ ڈرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں  جو اسے گمراہ کرتا رہتا ہے اور وہ اس شیطان کا ساتھی بن جاتا ہے۔( تفسیرطبری ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۱۱ / ۱۸۸)

          تیسری تفسیر یہ ہے کہ جو دُنْیَوی زندگی کی لذّتوں  اور آسائشوں  میں  زیادہ مشغولیّت اورا س کی فانی نعمتوں  اور نفسانی خواہشات میں  اِنہماک کی وجہ سے قرآن سے منہ پھیرے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں  اور وہ شیطان اس کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کے دل میں  وسوسے ڈال کر اسے گمراہ کرتا رہتا ہے۔ (ابوسعود ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۵ / ۵۴۳)

قرآن سے منہ پھیرنے والے کا ساتھی شیطان ہو گا:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن سے منہ پھیرنے والے کافر کا شیطان ساتھی بنا دیا جاتا ہے اورشیطان کو کافروں  کا ساتھی بنانے سے متعلق ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِۚ-اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ‘‘(حم السجدہ:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے کافروں  کیلئے کچھ ساتھی مقرر کردئیے توانہوں  نے ان کیلئے ان کے آگے اور ان کے پیچھے کو خوبصورت بنا دیا۔ ان پر بات پوری ہوگئی جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں  اور انسانوں  کے گروہوں  پرثابت ہوچکی ہے۔ بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔

            اورحضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ شَر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی موت سے ایک سال پہلے اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے تو وہ جب بھی کسی نیک کام کو دیکھتا ہے وہ اسے برا معلوم ہوتاہے یہاں  تک کہ وہ اس پر عمل نہیں  کرتا اور جب بھی وہ کسی



Total Pages: 250

Go To