Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذمہ داری نہیں  ہے (یہ اس لئے فرمایا گیا تاکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کفار کے ایمان نہ لانے پر افسردہ اور غمزدہ نہ ہوں )۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ میں  سے اکثر پر اللہ تعالیٰ کاعذاب واجب ہو چکا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے اَزلی علم سے جانتا ہے کہ یہ لوگ اپنے اختیار سے کفر اور انکار پر اِصرار کریں  گے اور کفر کی حالت میں  ہی انہیں  موت آئے گی، اس لئے اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ لوگ آپ کے عذابِ الہٰی سے ڈرانے کے باوجود ایمان نہیں  لائیں  گے ۔( تفسیرکبیر، یس، تحت الآیۃ: ۷، ۹ / ۲۵۴، تفسیر قرطبی، یس، تحت الآیۃ: ۷، ۸ / ۷، الجزء الخامس عشر، ملتقطاً)

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان:  ہم نے ان کی گردنوں  میں  طوق کردئیے ہیں  کہ وہ ٹھوڑیوں  تک ہیں  تو یہ اب اوپر کو منہ اٹھائے رہ گئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  ہم نے ان کی گردنو ں  میں  طوق ڈال دئیے ہیں  تو وہ ٹھوڑیوں  تک ہیں  تو وہ اوپر کو منہ اٹھائے ہوئے ہیں ۔

{اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا: ہم نے ان کی گردنو ں  میں  طوق ڈال دیئے ہیں ۔} بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  ان کافروں  کے کفر میں  پختہ ہونے اور وعظ و نصیحت سے فائدہ نہ اٹھا سکنے کی ایک مثال بیان فرمائی گئی ہے کہ جیسے وہ لوگ جن کی گردنوں  میں  غُلّ کی قسم کا طوق پڑا ہو جو کہ ٹھوڑی تک پہنچتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ سر نہیں  جھکا سکتے ، اسی طرح یہ لوگ کفر میں  ایسے راسخ ہو چکے ہیں  کہ کسی طرح حق کی طرف متوجہ نہیں  ہوتے اور اس کے حضور سر نہیں  جھکاتے۔

             بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ ان کے حقیقی حال کا بیان ہے اور جہنم میں  انہیں  اسی طرح کا عذاب دیاجائے گا، جیسا کہ دوسری آیت میں  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ‘‘(مومن:۷۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب ان کی گردنوں  میں  طوق ہوں  گے۔

            شانِ نزول:یہ آیت ابوجہل اور اس کے دو مخزومی دوستوں  کے بارے میں  نازل ہوئی ،اس کا واقعہ کچھ یوں  ہے کہ ابوجہل نے قسم کھائی تھی کہ اگر وہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نماز پڑھتے دیکھے گا تو پتھر سے سر کچل ڈالے گا۔ جب اس نے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نماز پڑھتے دیکھا تو وہ اسی فاسد ارادے سے ایک بھاری پتھر لے کر آیا اورجب اس نے پتھر کو اٹھایا تو اس کے ہاتھ گردن میں  چپک کر رہ گئے اور پتھر ہاتھ کو لپٹ گیا۔ یہ حال دیکھ کر وہ اپنے دوستوں  کی طر ف واپس لوٹا اور ان سے واقعہ بیان کیا تو اس کے دوست ولید بن مغیرہ نے کہا : یہ کام میں  کروں  گا اور ان کا سرکچل کر ہی آؤں  گا، چنانچہ وہ پتھر لے کر آیا اور حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ابھی نماز ہی پڑھ رہے تھے ، جب وہ قریب پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی سَلب کر لی ،وہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آواز سنتا تھا لیکن آنکھوں  سے دیکھ نہیں  سکتا تھا۔ یہ بھی پریشان ہو کر اپنے یاروں  کی طرف لوٹا اوروہ بھی اسے نظر نہ آئے، انہوں  نے ہی اسے پکار ا اور اس سے کہا: تو نے کیا کیا؟وہ کہنے لگا: میں  نے ان کی آواز تو سنی تھی مگر وہ نظر ہی نہیں  آئے۔ اب ابوجہل کے تیسرے دوست نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کام کو انجام دے گا اور بڑے دعوے کے ساتھ وہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف چلا تھا کہ الٹے پاؤں  ایسا بدحواس ہو کر بھاگا کہ اوندھے منہ گر گیا، اس کے دوستوں  نے حال پوچھا تو کہنے لگا: میرا حال بہت سخت ہے، میں  نے ایک بہت بڑا سانڈ دیکھا جو میرے اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے درمیان حائل ہو گیا ، لات و عُزّیٰ کی قسم! اگر میں  ذرا بھی آ گے بڑھتا تو وہ مجھے کھا ہی جاتا ،اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن، یس، تحت الآیۃ: ۸، ۴ / ۳، جمل، یس، تحت الآیۃ: ۸، ۶ / ۲۷۵-۲۷۶، ملتقطاً)

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور ہم نے اُن کے آگے دیوار بنادی اور ان کے پیچھے ایک دیوار اور اُنہیں  اوپر سے ڈھانک دیا تو انہیں  کچھ نہیں  سوجھتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور ہم نے ان کے آگے دیوار بنادی اور ان کے پیچھے (بھی) ایک دیوار (بنادی) پھرانہیں  اوپر سے (بھی) ڈھانک دیا تو انہیں  کچھ دکھائی نہیں  دیتا۔

{وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا: اور ہم نے ان کے آگے دیوار بنادی۔} یہ بھی مثال کا بیان ہے کہ جیسے کسی شخص کے لئے دونوں  طرف دیواریں  ہوں  اور ہر طرف سے راستہ بند کر دیا گیا ہو تو وہ کسی طرح منزلِ مقصود تک نہیں  پہنچ سکتا، یہی حال ان کفار کا ہے کہ ان پر ہر طرف سے ایمان کی راہ بند ہے،ان کے سامنے دنیا کے غرور کی دیوار ہے اور ان کے پیچھے آخرت کو جھٹلانے کی اور وہ جہالت کے قید خانہ میں  قید ہیں  جس کی وجہ سے آیات اور دلائل میں  غور وفکر کرنا انہیں  مُیَسّر نہیں  ہے ۔( جمل، یس، تحت الآیۃ: ۹، ۶ / ۲۷۷)

            یاد رہے کہ اَزلی کفار پر ہدایت اور ایمان کی راہ بند کر کے ان پر جبر نہیں  کیاگیا بلکہ انہوں  نے خود جو کفر پر اِصرار کیا ،تکبر، عناد اور سرکشی کی راہ کو مستقل اختیار کیا ،ا س عظیم جرم کی سزا کے طور پر ان کے لئے ایمان کا راستہ بند کر دیا گیا ہے، لہٰذا اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں  کیا جا سکتا۔

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور اُنہیں  ایک سا ہے تم انہیں  ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور تمہارا اُنہیں  ڈرانا اور نہ ڈرانا ان پر برابر ہے وہ ایمان نہیں  لائیں  گے۔

{وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ: اور تمہارا انہیں  ڈرانا اور نہ ڈرانا ان پر برابر ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن کافروں  کا کفر پرجمے رہنا تقدیرِ الہٰی میں  لکھا ہوا ہے آپ کا انہیں  اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا یا نہ ڈرانا ان کے حق میں  برابر ہے،یہ انہیں  کوئی نفع نہ دے گا اوروہ کسی صورت ایمان نہیں  لائیں  گے۔ کافروں  کا ایمان نہ لانا اس وجہ سے نہیں  کہ خدا نے انہیں  کفر پر ڈٹے رہنے پر مجبور کردیا تھاکہ وہ چاہتے بھی تو ایمان نہ لا پاتے بلکہ خود ان کافروں  نے ضدو عناد کی وجہ سے حق قبول کرنے کی صلاحیت ختم کرلی تھی۔

            یاد رہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کافروں  کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اپنے حق میں  نہ ڈرانے کے برابر نہیں  ہے کیونکہ



Total Pages: 250

Go To