Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

پراپنی بات صحیح طریقے سے نہیں  کرپاتی لہٰذا مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو بحث کے دوران اپنا مَوقِف صاف اور واضح طور پر بیان نہ کر پانا بھی عورت کا ایک نقص ہے۔

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىٕكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًاؕ-اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْؕ-سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْــٴَـلُوْنَ(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور انہوں  نے فرشتوں  کو کہ رحمٰن کے بندے ہیں  عورتیں  ٹھہرایا کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے اب لکھ لی جائے گی اُن کی گواہی اور ان سے جواب طلب ہوگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں  نے فرشتوں  کو عورتیں  ٹھہرایا جو کہ رحمٰن کے بندے ہیں  ۔کیا یہ کفار ان کے بناتے وقت موجودتھے؟اب ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے جواب طلب ہوگا۔

{وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىٕكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا: اور انہوں  نے فرشتوں  کو عورتیں  ٹھہرایا جو کہ رحمٰن کے بندے ہیں ۔} آیت کے اس حصے اور اس سے اوپر والی آیات کا حاصل یہ ہے کہ بے دینوں  نے فرشتوں  کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  بتا کراس طرح کفر کا اِرتکاب کیا کہ انہوں  نے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کی اور اس چیز کواللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جسے وہ خود بہت ہی حقیر سمجھتے ہیں  اور اپنے لئے گوارانہیں  کرتے۔ اس کے بعد کفار کا رد فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  ہر گز نہیں  بلکہ وہ اس کے بندے ہیں  اور فرشتوں  کا مُذَکّر یا مُؤنّث ہونا ایسی چیز تو ہے نہیں  جس پر کوئی عقلی دلیل قائم ہوسکے اوراس حوالے سے اُن کے پاس کوئی خبر بھی نہیں  آئی جسے وہ نقلی دلیل قرار دے سکیں ، توجو کفار ان کو مُؤنّث قرار دیتے ہیں اُن کا ذریعۂ علم کیا ہے؟ کیا وہ فرشتوں  کی پیدائش کے وقت موجود تھے اوراُنہوں نے مشاہدہ کرلیا ہے؟ جب یہ بھی نہیں  تو انہیں  مُؤنّث کہنامحض جاہلانہ اورگمراہی کی بات ہے۔( مدارک ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۵-۱۹ ،  ص۱۰۹۷ ،  ملخصاً)

{سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ:اب ان کی گواہی لکھ لی جائے گی۔} جب کفار نے فرشتوں  کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  کہا توسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کفار سے دریافت فرمایا کہ تم فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں  کس طرح کہتے ہو اورتمہارا ذریعہ ٔعلم کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا سے سنا ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں  کہ وہ سچے تھے۔ اس گواہی کے بارے میں  اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کفار کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اورآخرت میں  ان سے اس کا جواب طلب ہوگا اور اس پر انہیں سزا دی جائے گی۔ (خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۴ / ۱۰۳)

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْؕ-مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍۗ-اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور بولے اگر رحمٰن چاہتا ہم اُنہیں  نہ پوجتے اُنہیں  اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں  یونہی اٹکلیں  دوڑاتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورانہوں  نے کہا: اگر رحمٰن چاہتا توہم ان (فرشتوں ) کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں  درحقیقت اس کا کچھ علم ہی نہیں ۔ وہ صرف جھوٹ بول رہے ہیں ۔

{وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ: اورانہوں  نے کہا: اگر رحمٰن چاہتا توہم ان (فرشتوں ) کی عبادت نہ کرتے۔} فرشتوں  کی عبادت کرنے والے کفار نے کہا کہ اگر رحمٰن چاہتا توہم ان فرشتوں  کی عبادت نہ کرتے۔اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر فرشتوں  کی عبادت کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی نہ ہوتا تو ہم پر عذاب نازل کرتا اور جب عذاب نہیں  آیا تو ہم سمجھتے ہیں  کہ وہ یہی چاہتا ہے ،یہ اُنہوں نے ایسی باطل بات کہی جس سے لازم آتا ہے کہ دنیا میں  ہونے والے تما م جرموں  سے اللہ تعالیٰ راضی ہے۔اللہ تعالیٰ اُن کے اس نظریے کی تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’انہیں  درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رضا کاکچھ علم ہی نہیں  اور وہ صرف جھوٹ بول رہے ہیں ۔( خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۴ / ۱۰۳-۱۰۴ ،  روح البیان ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۸ / ۳۶۰ ،  ملتقطاً)

اللہ تعالٰی کی مَشِیَّت اور رضا میں  بہت فرق ہے:

            یا درہے کہ اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت اور رضا میں  بہت فرق ہے ،اس کائنات میں  ہونے والی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت اورا س کے ا رادے سے ہوتی ہے لیکن ایسا نہیں  ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے راضی ہو اور ہر چیزکے کرنے کا اللہ تعالیٰ حکم فرمائے ،اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہر گز نہیں  کہ وہ کفر اورگناہ سے راضی ہو، لہٰذا کفر اورگناہ کرنے والا یہ نہیں  کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ میرے ان اعمال سے راضی ہے یا میں  اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے کفر اور گناہ میں  مصروف ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے سعادت اور بد بختی دونوں  کے راستے واضح فرما دئیے ہیں  اوراسے محض مجبور اور بے بس نہیں  بنایا بلکہ ان راستوں  میں  سے کسی ایک راستے پر چلنے کا اسے اختیار بھی دے دیا ہے ،اب انسان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ جس راستے کو چاہے اختیار کرے ۔

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان:  یا اس سے قبل ہم نے اُنہیں  کوئی کتاب دی ہے جسے وہ تھامے ہوئے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یاکیا اس سے پہلے ہم نے انہیں  کوئی کتاب دی ہے جسے وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ؟

{اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ: یاکیا اس سے پہلے ہم نے انہیں  کوئی کتاب دی ہے۔} یعنی کیا فرشتوں  کی عبادت میں  اللہ تعالیٰ کی رضا سمجھنے والوں  کو ہم نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہونے والے قرآن سے پہلے کوئی کتاب دی ہے جسے وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں  اور اس میں  غیر ِخدا کی عبادت کرنے کی اجازت دی گئی ہے جسے وہ آپ کے سامنے دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں ؟ایسا بھی نہیں  کیونکہ عرب شریف میں  قرآنِ کریم کے سوا کوئی اللہ تعالیٰ کی کتاب نہ آئی، اور کسی کتابِ الہٰی میں  کفر کی اجازت ہو سکتی بھی نہیں  ،یہ باطل ہے اور اُن لوگوں  کے پاس اس کے سوا بھی کوئی حجت نہیں  ہے۔( تفسیرطبری ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۱۱ / ۱۷۶ ،  خازن ،  الزّخرف ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۴ / ۱۰۴ ،  ملتقطاً)

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ بولے ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر پر چل رہے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ انہوں  نے کہا:ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کے نقشِ قدم پر ہی راہ پانے والے ہیں ۔

 



Total Pages: 250

Go To