Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

{وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا: اور کافروں  نے اللہ کیلئے اس کے بندوں  میں  سے ٹکڑا (اولاد) قرار دیا۔} یعنی کفار نے اس اقرار کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کا خالق ہے ،یہ ستم کیا کہ فرشتوں  کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  بتایا اور چونکہ اولاد صاحب ِاولاد کا جز ہوتی ہے، توظالموں  نے اللہ تعالیٰ کے لئے جزقرار دے کر کیسا عظیم جرم کیا ہے، بیشک جو آدمی ایسی باتوں  کا قائل ہے اس کا کفر ظاہر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرناکفر ہے اور کفر سب سے بڑی ناشکری ہے۔(مدارک ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ص۱۰۹۷ ،  جلالین ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ص۴۰۶،  ملتقطاً)

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان:  کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں  اور تمہیں  بیٹوں  کے ساتھ خاص کیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں  اور تمہیں  بیٹوں  کے ساتھ خاص کیا؟

{اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ: کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے سرے سے اولاد محال ہونے کے باوجود اگر بالفرض اس کے لئے اولاد مان لی جائے تو کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں  اور تمہیں  خاص طور پر بیٹوں  سے نوازا؟ حالانکہ تم بیٹیوں  کو بیٹوں  سے کم تر سمجھتے ہو تو کیا اس نے کم تر چیز اپنے لئے رکھی اور اعلیٰ چیز تمہیں  عطا کی ؟تم کیسے جاہل ہو !

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور جب اُن میں  کسی کو خوشخبری دی جائے اُس چیز کی جس کا وصف رحمٰن کے لیے بتاچکا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان میں  کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جائے جس کے ساتھ اس نے رحمٰن کو متصف کیا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غم و غصے میں  بھرا رہتا ہے۔

{ وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا: اور جب ان میں  کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جائے جس کے ساتھ اس نے رحمٰن کو متصف کیا ہے۔} یعنی کفار جو کہ اولاد سے پاک رب تعالیٰ کے لئے بیٹیا ں  ثابت کر رہے ہیں ، بیٹیوں  سے نفرت میں  ان کا اپنا حال یہ ہے کہ جب ان میں  سے کسی کو خوشخبری سنائی جائے کہ تیرے گھرمیں  بیٹی پیدا ہوئی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غم و غصے میں  بھرا رہتا ہے۔جب یہ اپنے لئے بیٹیوں  کو اس قدر ناگوار سمجھتے ہیں  تو اس خدائے پاک کے لئے بیٹیاں  بتاتے ہوئے انہیں  شرم نہیں  آتی۔( خازن ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۴ / ۱۰۳ ،  ملتقطاً)

بیٹیوں  سے نفرت کرنا اور ان کی پیدائش سے گھبرانا کفار کا طریقہ ہے:

            کفار کا اپنی بیٹیوں  سے نفرت کا حال بیان کرتے ہوئے ایک اورمقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸) یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖؕ-اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ‘‘(سورۃ النحل:۵۸ ، ۵۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان میں  کسی کو بیٹی ہونے کی  خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ  غصے سے بھراہوتا ہے۔ اس بشارت کی برائی کے سبب لوگوں  سے چھپا پھرتا ہے ۔ کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں  دبادے گا؟ خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں ۔

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ لڑکیوں  کی پیدائش سے گھبرانا کافروں  کا طریقہ ہے لہٰذا مسلمانوں  کو چاہئے کہ بیٹی پیدا ہونے پر گھبرانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں  اور جس عورت کے ہاں  پہلی اولاد بیٹی ہو اسے منحوس نہ سمجھیں کیونکہ ایسی عورت برکت والی ہوتی ہے،جیساکہ حضرت واثلہ بن اسقع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عورت کی برکت یہ ہے کہ ا س سے پہلی بار بیٹی پیدا ہو۔( ابن عساکر ،  ذکر من اسمہ: العلائ ،  ۵۴۷۳-العلاء بن کثیر ابو سعید ،  ۴۷ / ۲۲۵)

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور کیا وہ جو گہنے میں  پروان چڑھے اور بحث میں  صاف بات نہ کرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کیا وہ جس کی زیور میں  پرورش کی جاتی ہے اور وہ بحث میں  صاف بات کرنے والی بھی نہیں  ہوتی۔

{اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ: اور کیا وہ جس کی زیور میں  پرورش کی جاتی ہے۔} اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ اولاد سے پاک ہے اورجب کفار نے اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں  بتا کر اس کی اولاد ثابت کی تواللہ تعالیٰ نے ان کی عقل اور فہم کے مطابق کلام فرماتے ہوئے ان کے اس نظریے کو رد فرمایا اوراس آیت میں  عورت کے اندر پائے جانے والے دو نقص بیان فرما کر کفارکی کم عقلی اور جہالت کو واضح فرمایا کہ جس میں  دیگر خوبیوں  کے ساتھ ساتھ ایسے نقص بھی ہیں  تو وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد کس طرح ہو سکتی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا کیسی جہالت ہے۔اس آیت میں  عورت کے جو دو نقص بیان کئے گئے وہ یہ ہیں ۔

(1)…زیور میں  پرورش پانا۔اس کی تفصیل کچھ یوں  ہے کہ عورت چاہے کتنی ہی خوبصورت کیوں  نہ ہو لیکن اس میں  بچپن سے لے کر جوانی بلکہ بڑھاپے تک زیورات سے آراستہ ہونے کی خواہش اور طلب ضرور پائی جاتی ہے اور اس کے بغیر وہ اپنے حسن کے متعلق احساسِ کمتری محسوس کرتی رہتی ہے اور یہ بات نزاکت کی علامت ہے جو ایک اعتبار سے تو خوبی ہے لیکن ایک اعتبار سے نقص بھی ہے۔

 (2)…بحث کے دوران اپنا موقف صاف بیان نہ کرسکنا۔اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ جس طرح بہت سے مرد ذہین ہوتے ہیں  اور بحث کے دوران اپنا موقف انتہائی اچھے انداز میں  پیش کر سکتے ہیں  جبکہ بعض مَردوں  میں  ذہانت کی کمی اور اپنا موقف اچھے انداز میں  پیش کرنے کی خوبی نہیں  ہوتی اسی طرح بعض عورتیں  بھی انتہائی ذہین ہوتی ہیں  اور بحث کے دوران اپنا مَوقِف بڑے اچھے انداز میں  بیان کر سکتی ہیں  البتہ عورتوں  کی کثیر تعداد ایسی ہے جو اس خوبی سے آراستہ نہیں ،بلکہ عموماً جذبات سے جلد مغلوب ہو کر یا سختی کے مقامات



Total Pages: 250

Go To