Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور بے شک وہ اصل کتاب میں  ہمارے پاس ضرور بلندی و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک وہ ہمارے پاس اصل کتاب میں  یقینا بلندی والا، حکمت والا ہے۔

{وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا: اور بیشک وہ ہمارے پاس اصل کتاب میں  ہے۔} یعنی بے شک قرآن پاک ہمارے پاس سب کتابوں  کی بنیاد لوحِ محفوظ میں  موجود ہے اور اے اہلِ مکہ !تم اگرچہ قرآنِ پاک کو جھٹلاتے رہو (لیکن اس سے کوئی فرق نہیں  پڑتا) کیونکہ ہمارے نزدیک ا س کی شان بہت بلند ہے اور یہ تمام کتابوں  سے اشرف و اعلیٰ ہے کیونکہ سب اس جیسی کتاب لانے سے عاجز ہیں  اور یہ حکمت والا کلام ہے۔( خازن ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ۴ / ۱۰۱ ،  مدارک ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ص۱۰۹۵ ،  ملتقطاً)

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا ہم تم سے ذکر کا پہلو پھیردیں  اس پر کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا ہم تم سے قرآن کا نزول اس لئے روک دیں  کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو؟

{ اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا : تو کیا ہم تم سے قرآن کا نزول روک دیں ۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے کفارِ مکہ! تمہارے کفر میں  حد سے بڑھنے کی وجہ سے کیا ہم تمہیں  بیکار چھوڑ دیں  اور تمہاری طرف سے وحیِ قرآن کا رخ پھیردیں  اور تمہیں  حکم اور ممانعت کچھ نہ کریں ،(یہ تمہاری بھول ہے) ہم ایسا نہیں  کریں  گے۔

             حضرت قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا: خدا کی قسم! اگر اس وقت یہ قرآنِ پاک اٹھالیا جاتا جب اس اُمت کے پہلے لوگوں  نے اس سے اِعراض کیا تھا ،تو وہ سب ہلاک ہوجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و کرم سے اس قرآن کا نزول جاری رکھا۔( خازن ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۴ / ۱۰۱)

 قربِ قیامت میں  قرآنِ مجید اُٹھا لیا جائے گا:

            یاد رہے کہ جب قیامت قریب ہو گی تو اس وقت قرآنِ پاک اٹھا لیا جائے گا،جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ حجرِ اَسْوَد اور قرآنِ پاک کو اٹھا نہ لیا جائے۔( الجامع الصغیر ،  حرف لا ،  ص۵۸۳ ،  الحدیث: ۹۸۵۲)

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ(۶)وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(۷)فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور ہم نے کتنے ہی غیب بتانے والے (نبی) اگلوں  میں  بھیجے۔اور اُن کے پاس جو غیب بتانے والا (نبی) آیا اس کی ہنسی ہی بنایا کئے۔ تو ہم نے وہ ہلاک کردئیے جو اُن سے بھی پکڑ میں  سخت تھے اور اگلوں  کا حال گزر چکا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے کتنے ہی نبی پہلے لوگوں  میں  بھیجے۔اور ان کے پاس جو نبی آیاوہ اس کا مذاق ہی اڑاتے تھے۔ تو ہم نے اِن سے زیادہ قوت والوں  کو ہلاک کردیا اور پہلے لوگوں  کا حال گزر چکا ہے۔

{وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ: اور ہم نے کتنے ہی نبی پہلے لوگوں  میں  بھیجے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ہم نے پہلے لوگوں  میں  کتنے ہی نبی بھیجے لیکن ان کا حال یہ تھا کہ ان کے پاس جو بھی نبی تشریف لایاوہ اس کا مذاق ہی اڑاتے تھے جیسا کہ آپ کی قوم کے لوگ کرتے ہیں ، تو ہم نے ان موجودہ کافروں سے زیادہ قوت والوں  اور ہر طرح کی طاقت رکھنے والوں  کو ہلاک کردیا، اس لئے آپ کی امت کے لوگ جو سابقہ کفار کی چال چل رہے ہیں ، اُنہیں  ڈر جانا چاہیے کہ کہیں  اُن کا بھی وہی انجام نہ ہو جو سابقہ کافروں کا ہوا کہ یہ بھی انہی کی طرح ذلت و رسوائی کی سزاؤں  سے ہلاک نہ کردئیے جائیں ۔اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفار کی طرف سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مذاق اُڑانے کاعمل کوئی آج کا نہیں  بلکہ شروع سے ہی ایسا ہوتا چلا آرہا ہے، لہٰذا آپ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں  پر صبر فرمائیں  جیسا کہ آپ سے پہلے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوموں  کی اَذِیَّتوں  پر صبر فرمایا۔( خازن ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۶-۸ ،  ۴ / ۱۰۲ ،  صاوی ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۶-۸ ،  ۵ / ۱۸۸۶ ،  ملتقطاً)

وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور اگر تم اُن سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں  گے اُنھیں  بنایا اس عزت والے علم والے نے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے ؟تو ضرور کہیں  گے: انہیں  عزت والے، علم والے نے بنایا۔

{وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ: اور اگر تم ان سے پوچھو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر آپ ان مشرکین سے پوچھیں  کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے ہیں ؟تو وہ ضرور اقرار کریں  گے کہ آسمان اورزمین کو اللہ تعالیٰ نے بنایا اور وہ یہ بھی اقرار کریں  گے کہ اللہ تعالیٰ عزت و علم والا ہے، اس اقرار کے باوجود ان کابتوں  کی عبادت کرنا اور دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنا کیسی انتہادرجہ کی جہالت ہے۔( خازن ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۴ / ۱۰۲)

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں  راستے کئے کہ تم راہ پاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں  راستے بنائے تاکہ تم راہ پاؤ۔

{اَلَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا: جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اظہار کے لئے اپنی مصنوعات کا ذکر فرمایا اور اپنے



Total Pages: 250

Go To