Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            کافر کی اس طرح کی حالت کو بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖۚ-وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَـٴُـوْسًا‘‘(بنی اسرائیل:۸۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ہم انسان پر احسان کرتے ہیں  تو وہ منہ پھیرلیتا ہے اور اپنی طرف سے دور ہٹ جاتا ہے اور جب اسے برائی پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہے۔

            اس سے معلوم ہوا کہ راحت کے دنوں میں  اللہ تعالیٰ کو بھول جانا اور صرف مصیبت کے اَیّام میں  دعا کرنا کفار کا طریقہ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے کیونکہ یہاں  دعا مانگنے پر عتاب نہیں  کیا گیا بلکہ راحت میں  دعا نہ مانگنے پر عتاب کیا گیاہے۔نیز یہ عمل مَصائب و آلام کے وقت مانگی جانے والی دعاؤں  کے قبول نہ ہونے کا سبب بھی بن سکتا ہے، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جسے یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ سختیوں  اور مصیبتوں  میں  ا س کی دعا قبول فرمائے تو اسے چاہئے کہ وہ صحت اور کشادگی کی حالت میں  کثرت سے دعا کیا کرے۔( ترمذی ،  کتاب الدعوات ،  باب ما جاء انّ دعوۃ المسلم مستجابۃ ،  ۵ / ۲۴۸ ،  الحدیث: ۳۳۹۳)

            لہٰذا مسلمانوں  کو چاہئے کہ راحت میں  ،آسانی میں ،تنگی میں  ،مشکلات میں  اور مَصائب و آلام کے وقت الغرض ہر حال میں  اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کریں  اور اس سلسلے میں  کافروں  کی رَوِش پر چلنے سے بچیں ۔اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

مصیبتوں  کا سامنا تسلیم و رضا اور صبر و اِستقلال سے کریں:

            اس آیت سے اشارۃً معلوم ہوا کہ بندے پر نازل ہونے والی ہر بلا،مصیبت،نعمت،رحمت، تنگی اور آسانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے تو اگر بندہ مَصائب و آلام،مشکلات،تنگیوں  ،سختیوں  اور آسانیوں  وغیرہ کا سامنا تسلیم و  رضا،صبر واِستقلال اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کرے تو وہ ہدایت پانے والوں  اور مُقَرّب بندوں  میں  سے ہے اور اگر ان کا سامنا کفر کے ساتھ کرے اور مصیبتوں  وغیرہ میں  شکوہ شکایت کرنا شروع کر دے تو وہ بد بختوں ، گمراہوں  اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے والوں  میں  سے ہے۔( روح البیان ،  حم السجدۃ ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۸ / ۲۸۰ ،  ملخصاً)

            لہٰذا مسلمانوں  کو چاہئے کہ وہ زندگی میں  آنے والی مشکلات وغیرہ میں  اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہیں  اور ہر مشکل اورمصیبت میں  اچھی طرح صبر کیا کریں  ۔حدیثِ قُدسی میں  ہے،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’جب میں  اپنے بندوں  میں  سے کسی بندے کی طرف اس کے بدن میں ، اس کے مال میں  یا اس کی اولاد میں  کوئی مصیبت بھیجوں ،پھر وہ ا س مصیبت کا سامنا اچھی طرح صبر کرنے کے ساتھ کرے تو میں  قیامت کے دن ا س کے لئے میزان نصب کرنے یا اس کا نامۂ اعمال کھولنے سے حیا فرماؤں  گا۔( مسند شہاب قضاعی ،  اذا وجّہت الی عبد من عبیدی مصیبۃ۔۔۔ الخ ،  ۲ / ۳۳۰ ،  الحدیث: ۱۴۶۲)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  عافِیَّت نصیب فرمائے اور اگر زندگی میں  کوئی مشکل یا مصیبت آئے تو اس پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ بھلا بتاؤ اگر یہ قرآن اللہکے پاس سے ہے پھر تم اس کے منکر ہوئے تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضد میں  ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: بھلا دیکھو کہ اگر یہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو پھر تم اس کے منکربنو تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضدو مخالفت میں  ہے؟

{قُلْ: تم فرماؤ۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مکہ مکرمہ کے کافروں  سے فرما دیں  : اگریہ قرآنِ پا ک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے نازل ہوا ہے جیساکہ میں  تم سے یہی بات کہتا ہوں  اور قطعی دلائل سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہواہے،پھر تم اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا انکارکرو تو مجھے بتاؤ :اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو دور کی ضد اور حق کی مخالفت میں  پڑا ہوا ہے؟( جلالین ،  فصلت ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ص۴۰۱ ،  مدارک ،  فصلت ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ص۱۰۷۹ ،  ملتقطاً)

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّؕ-اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: ابھی ہم اُنھیں  دکھائیں  گے اپنی آیتیں  دنیا بھر میں  اور خود اُن کے آپے میں  یہاں  تک کہ ان پر کھل جائے کہ بے شک وہ حق ہے کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ابھی ہم انہیں  آسمان و زمین کی وسعتوں  میں  اور خود ان کی ذاتوں  میں  اپنی نشانیاں  دکھائیں  گے یہاں  تک کہ ان کیلئے بالکل واضح ہو جائے گاکہ بیشک وہ ہی حق ہے اورکیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں ؟

{سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا: ابھی ہم انہیں  اپنی نشانیاں  دکھائیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ ابھی ہم کفارِ قریش کو آسمان و زمین کی وسعتوں  میں  اور خود ان کی اپنی ذاتوں  میں  قرآن کریم کی حقّانِیّت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر دلالت کرنے والی اپنی نشانیاں  دکھائیں  گے، یہاں  تک کہ ان کیلئے بالکل واضح ہو جائے گاکہ بیشک قرآن ہی حق ہے اوریہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اس میں  مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے،اعمال کا حساب لئے جانے اور ان کے کفر پر انہیں  سزا دئیے جانے کا جو بیان ہوا ہے وہ بھی حق ہے اور اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کا ہر چیز پر گواہ ہونا آپ کی سچائی کے لئے انہیں  کافی نہیں ؟

            آفاقی نشانیوں  کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد سورج ، چاند، ستارے، نباتات اور حیوان ہیں  کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت پر دلالت کرنے والے ہیں ۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ ان نشانیوں  سے مراد گزری ہوئی اُمتوں کی اُجڑی ہوئی بستیاں  ہیں  جن سے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے والوں  کا حال معلوم ہوتا ہے ،اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ ان نشانیوں  سے مشرق و مغرب کی وہ فتوحات مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے نیاز مندوں  کو عنقریب عطا فرمانے والاہے۔

 



Total Pages: 250

Go To