Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

تعالیٰ کی اطاعت سے دور ہوجائے گا۔(تفسیرکبیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۹ / ۶۰۹)

{یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا: جسے چاہے بیٹیاں  عطا فرمائے۔} آیت کے اس حصے اور ا س کے بعد والی آیت میں  اللہ تعالیٰ نے عالَم میں  اپنے تَصَرُّف  اور اپنی نعمت کو تقسیم کرنے کی صورتیں بیان فرمائی ہیں ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ وہ جسے چاہے صرف بیٹیاں  عطا فرمائے اور بیٹانہ دے اور جسے چاہے صرف بیٹے دے اور بیٹیاں  نہ دے اور جسے چاہے بیٹے اور بیٹیاں  دونوں  ملا کردے اور جسے چاہے بانجھ کردے کہ اس کے ہاں  اولاد ہی نہ ہو۔ وہ مالک ہے، اپنی نعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کرے اورجسے جو چاہے دے۔ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں  بھی کئی صورتیں  پائی جاتی ہیں ، جیسا کہ حضرت لوط اور حضرت شعیب عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں  صرف بیٹیاں  تھیں  ،کوئی بیٹا نہ تھا جبکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں  صرف بیٹے تھے ،کوئی بیٹی نہیں  تھی اور انبیاء کے سردار، حبیب ِخدا،محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ تعالیٰ نے چار (یا تین)فرزند عطا فرمائے اور چار صاحب زادیاں  عطا فرمائیں ۔

 بیٹے اور بیٹیاں  دینے یا نہ دینے کا اختیار اللہ تعالٰی کے پاس ہے:

            ان آیات سے معلوم ہوا کہ کسی کے ہاں  صرف بیٹے پیدا کرنے،کسی کے ہاں  صرف بیٹیاں  پیدا کرنے اور کسی کے ہاں بیٹے اور بیٹیاں  دونوں  پیدا کرنے کا اختیار اور قدرت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے،کسی عورت کے بس میں  یہ بات نہیں  کہ وہ اپنے ہاں  بیٹا یا بیٹی جو چاہے پیدا کر لے، اور جب یہ بات روشن دن سے بھی زیادہ واضح ہے تو بیٹی پیدا ہونے پر عورت کو مَشقِ سِتم بنانا،اسے طرح طرح کی اَذِیَّتیں  دینا،بات بات پہ طعنوں  کے نشتر چبھونا ،آئے دن ذلیل کرتے رہنا،صرف بیٹیاں  پیدا ہونے پر اسے منحوس سمجھنا اورطلاق دے دینا،قتل کی دھمکیاں  دینا بلکہ بعض اوقات قتل ہی کر ڈالنا ،یہ ا س مجبور اور بے بس کے ساتھ کہاں  کا انصاف ہے،افسوس!ہمارے آج کے معاشرے میں مسلمانوں  نے اُس طرزِ عمل کو اپنایا ہوا ہے جو دراصل کفار کا طریقہ تھا،جیسا کہ اللہ  تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸) یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖؕ-اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ‘‘(سورۃ النحل:۵۸ ، ۵۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان میں  کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصے سے بھراہوتا ہے۔ اس بشارت کی برائی کے سبب لوگوں  سے چھپا پھرتا ہے۔ کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں  دبادے گا؟ خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں ۔

             افسوس! اسلام نے عورت کو جس آگ سے نکالا آج کے لوگ اسے پھر سے اسی میں  جھونک رہے ہیں ۔ اسلام نے کفار کے چھینے ہوئے جو حق عورت کو واپس دلائے آج کے مسلمان وہی حق چھیننے میں  لگے ہوئے ہیں  ۔اسلام نے عورت کو ذلت و رسوائی کی چکی سے نکال کر معاشرے میں  جو عزت اور مقام عطا کیا ،آج کے مسلمان دوبارہ اسے اسی چکی میں  پسنے کے لئے دھکیل رہے ہیں  اور شاید انہی بد عملیوں  کا نتیجہ ہے کہ آج اسلام کے دشمن عورت کے حقوق کی آڑ میں  مسلمانوں  کے اسی کردار کو دنیا کے سامنے پیش کر کے دینِ اسلام جیسے امن کے عَلَمْبردار مذہب کو ہی دہشت گرد مذہب ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُؕ-اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کسی آدمی کو نہیں  پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں  کہ وہ بشر پر دۂ عظمت کے اُدھر ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے بے شک وہ بلندی و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کسی آدمی کیلئے ممکن نہیں  کہ اللہ  اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا (یوں  کہ وہ آدمی عظمت کے) پر دے کے پیچھے ہویا (یہ کہ) اللہ کوئی فرشتہ بھیجے تو وہ فرشتہ اس کے حکم سے وحی پہنچائے جو اللہ چاہے۔بیشک وہ بلندی والا، حکمت والا ہے۔

{وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا: اور کسی آدمی کیلئے ممکن نہیں  کہ اللہ  اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر۔} اس سے پہلی آیات میں  اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور علم و حکمت کے کمال کو بیان فرمایا اور اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی کرنے اور ان سے کلام کرنے کی صورتیں  بیان فرمائی ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۹ / ۶۱۱)

            آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں  کسی آدمی کیلئے ممکن نہیں  کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے البتہ تین صورتیں  ایسی ہیں  جن میں  کسی فردِبشر سے کلام ممکن ہے۔

(1)… وحی کے طور پر۔یعنی اللہ تعالیٰ کسی واسطہ کے بغیر اس کے دل میں  اِلقا فرما کر اور بیداری میں  یا خواب میں  اِلہام کرکے کلام فرمائے۔ اس صورت میں  وحی کا پہنچنا فرشتے اور سماعت کے واسطے کے بغیر ہے اور آیت میں  ’’اِلَّا وَحْیًا‘‘ سے یہی مراد ہے۔نیز اس میں  یہ قید بھی نہیں  کہ اس حال میں  جس کی طرف وحی کی گئی ہو وہ کلام فرمانے والے کو دیکھتا ہو یا نہ دیکھتا ہو۔

             امام مجاہد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سینۂ مبارک میں  زبور کی وحی فرمائی۔ اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرزند ذبح کرنے کی خواب میں  وحی فرمائی اورتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے معراج میں  اسی طرح کی وحی فرمائی جس کا ’’فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى‘‘ میں  بیا ن ہے۔ یہ سب اسی قسم میں  داخل ہیں ، انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خواب حق ہوتے ہیں  جیسا کہ حدیث شریف میں  ہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خواب وحی ہیں ۔

 (2)… وہ آدمی عظمت کے پر دے کے پیچھے ہو۔ یعنی رسول پسِ پردہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنے، وحی کے اس طریقے میں  بھی کوئی واسطہ نہیں  لیکن سننے والے کو اس حال میں  کلام فرمانے والے کا دیدار نہیں  ہوتا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی طرح کے کلام سے مشرف فرمائے گئے ۔

          شانِ نزول: یہودیوں  نے حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں  تو اللہ تعالیٰ سے کلام کرتے وقت اس کو کیوں  نہیں  دیکھتے جیسا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دیکھتے تھے؟ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جواب دیا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نہیں  دیکھتے تھے بلکہ صرف کلام سنتے تھے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ



Total Pages: 250

Go To