Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

تَعْمَلُوْنَ‘‘(منافقون:۹۔۱۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں  اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردے اور جو ایسا کرے گاتو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں  سے اس وقت سے پہلے پہلے کچھ ہماری راہ میں  خرچ کرلو کہ تم میں  کسی کو موت آئے تو کہنے لگے، اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں  مہلت نہ دی کہ میں  صدقہ دیتا اور صالحین میں  سے ہوجاتا۔ اور ہرگز اللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے اور اللہ  تمہارے کاموں  سے خبردار ہے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

’’حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ(۹۹) لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّاؕ-اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىٕلُهَاؕ-وَ مِنْ وَّرَآىٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(۱۰۰)فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَىٕذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ(۱۰۱)فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۲)تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ‘‘(مومنون:۹۹۔۱۰۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہاں  تک کہ جب ان میں  کسی کو موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب! مجھے واپس لوٹادے۔ جس دنیا کو میں  نے چھوڑدیا ہے شاید اب میں  اس میں  کچھ نیک عمل کرلوں ۔ ہرگز نہیں ! یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے ایک رکاوٹ ہے اس دن تک جس دن وہ اٹھائے جائیں  گے۔ تو جب صُورمیں  پھونک ماری جائے گی تو نہ ان کے درمیان رشتے رہیں  گے اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھیں  گے۔ تو جن کے پلڑے بھاری ہوں  گے تو وہی کامیاب ہونے والے ہوں  گے۔اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں  گے تو یہ وہی ہوں  گے جنہوں  نے اپنی جانوں  کو نقصان میں  ڈالا، (وہ) ہمیشہ دوزخ میں  رہیں  گے۔ان کے چہروں  کو آگ جلادے گی اور وہ اس میں  منہ چڑائے ہوں  گے۔

            اللہ تعالیٰ ہمیں  دنیا کی زندگی میں  اپنی آخرت کی بھرپور تیار ی کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ-اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُؕ-وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَاۚ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ منہ پھیریں  تو ہم نے تمہیں  ان پر نگہبان بناکر نہیں  بھیجا تم پر تو نہیں  مگر پہنچادینا اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں  اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر اُنھیں  کوئی برائی پہنچے بدلہ اس کا جو اُن کے ہاتھوں  نے آگے بھیجا تو انسان بڑا ناشکرا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ منہ پھیریں تو ہم نے تمہیں  ان پر نگہبان بناکر نہیں  بھیجا تم پر صرف تبلیغ کی ذمے داری ہے اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں تووہ اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انہیں  ان کے ہاتھوں  کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو انسان بڑا ناشکرا ہے۔

{فَاِنْ اَعْرَضُوْا: تو اگر وہ منہ پھیریں ۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ا رشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے دینِ اسلام کی دعوت دینے کے باوجود اگر وہ مشرکین ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے سے منہ پھیر رہے ہیں تو آپ انہیں  ان کے حال پر چھوڑ دیں ، کیونکہ ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بناکر نہیں  بھیجا کہ آپ پر ان کے اعمال کی حفاظت لازم ہو،آپ پر صرف رسالت کی تبلیغ کی ذمے داری ہے اور وہ آپ نے ادا کردی۔( تفسیرطبری ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ۱۱ / ۱۶۱ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ۴ / ۱۰۰ ،  جلالین ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ص۴۰۵ ،  ملتقطاً)

{وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً: جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں ۔} آیت کے اس حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں  خواہ وہ دولت و ثروت ہو یا صحت و عافِیّت، امن و سلامتی ہو یا مقام و مرتبہ تووہ اس پر خوشی میں  اِترانے اور فخر کرنے لگ جاتا ہے اور اگر انہیں  ان کی نافرمانیوں  اور مَعصِیَتوں  کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے یااور کوئی مصیبت و بلا جیسے قحط ، بیماری اور تنگ دستی وغیرہ رُونُما ہو تو انسان بڑا ناشکرا ہوجاتاہے اور ان مصیبتوں  کو دیکھ کر نعمتوں  کو بھول جاتا ہے۔( خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ۴ / ۱۰۰ ،  مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ص۱۰۹۲ ،  ملتقطاً)

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹) اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں  اور زمین کی سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں  عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔  یا دونوں  ملا دے بیٹے اور بیٹیاں  اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آسمانوں  اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے ۔ وہ جو چاہے پیدا کرے ۔جسے چاہے بیٹیاں  عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔  یا انہیں  بیٹے اور بیٹیاں دونوں  ملا دے اور جسے چاہے بانجھ کردے،بیشک وہ علم والا، قدرت والا ہے۔

{لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: آسمانوں  اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے۔} یعنی آسمانوں  اور زمین کاحقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے،وہ ان میں  جیسا چاہتاہے تَصَرُّف فرماتا ہے اوراس میں کوئی دخل دینے اور اِعتراض کرنے کی مجال نہیں  رکھتا۔( روح البیان ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۸ / ۳۴۲ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۴ / ۱۰۰ ،  ملتقطاً)

اپنی مِلکِیَّت میں  موجود چیزوں  پر غرور نہ کیا جائے:

            امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں :یہ بیان فرمانے سے مقصود یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی مِلکِیَّت میں  موجود مال اور عزت و شہرت کی وجہ سے مغرور نہ ہو ،کیونکہ جب اسے اس بات کا یقین ہو گا کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور جو کچھ اس کے ہاتھ میں  ہے یہ اس پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے تو اس صورت میں  وہ مزید اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری کی طرف مائل ہو گا اور جب ا س کا اعتقاد یہ ہو گا کہ ا س کے پاس جو نعمتیں  ہیں  وہ اس کی عقلمندی اور کوشش کی وجہ سے حاصل ہوئی ہیں  تو وہ اپنے نفس پر غرورکرے گا اور اللہ



Total Pages: 250

Go To