Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

کہیں  گے :بیشک نقصان والے وہی ہیں  جنہوں  نے اپنی جانوں  اور اپنے گھر والوں  کو قیامت کے دن نقصان میں  ڈالا۔ خبردار! بیشک ظالم ہمیشہ کے عذاب میں  ہیں ۔

{وَ تَرٰىهُمْ: اور تم انہیں  دیکھو گے۔} یعنی جب ظالموں  کو آگ پر پیش کیا جائے گا تو ا س وقت تم انہیں  اس حال میں  دیکھو گے کہ وہ ذلت و خوف کے باعث جہنم کی آگ کو ایسی چھپی نگاہوں  سے دیکھیں  گے جیسے قتل کا ملزم اپنے قتل کے وقت تلوار کو دیکھتا ہے کہ یہ اب مجھ پر چلنے والی ہے اور جب ایمان والے کفار کا یہ حال دیکھیں  گے توکہیں  گے :بیشک نقصان اٹھانے والے وہی ہیں  جو اپنی جانوں  اور اپنے گھر والوں  کو قیامت کے دن ہار بیٹھے۔اپنی جانوں  کوہارنا تو یہ ہے کہ وہ کفر اختیار کرکے جہنم کے دائمی عذاب میں  گرفتار ہوئے اور گھر والوں  کو ہارنا یہ ہے کہ ایمان لانے کی صورت میں  جنت کی جو حوریں اُن کے لئے نامزد تھیں  ان سے وہ محروم ہوگئے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ خبردار! بیشک ظالم یعنی کافر ہمیشہ کے عذاب میں  ہیں  ۔(مدارک ،  الشوریٰ ، تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ص۱۰۹۲ ،  جلالین ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ص۴۰۴-۴۰۵ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ۴ / ۹۹ ،  ملتقطاً)

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اُن کے کوئی دوست نہ ہوئے کہ اللہ کے مقابل اُن کی مدد کرتے اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کہیں  راستہ نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کیلئے دوست نہ ہوں  گے جو اللہ کے مقابلے میں  ان کی مدد کریں  اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لئے کوئی راستہ نہیں ۔

{وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ: اور ان کیلئے دوست نہ ہوں  گے۔} یعنی جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کافروں  کو عذاب دے گا تو اس وقت ان کے کوئی دوست نہ ہوں  گے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں  ان کی مدد کریں  اور انہیں  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے عذاب سے بچا سکیں  ،اور جسے اللہ تعالیٰ دنیا میں حق کے راستے سے بھٹکا دے تو اس کے لئےایسا کوئی راستہ نہیں  جو اسے دنیا میں  حق تک اور آخرت میں  جنت تک پہنچا سکے ،کیونکہ کسی کو ہدایت دے دینا یا اس میں  گمراہی پیدا کر دینا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کے اختیار میں  نہیں ۔( تفسیرطبری ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۱۱ / ۱۶۰ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۴ / ۹۹ ،  ملتقطاً)

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِؕ-مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَىٕذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اپنے رب کا حکم مانو اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں  اس دن تمہیں  کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں  انکار کرتے بنے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن کے آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مان لو جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں ۔اس دن تمہارے لئے کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہارے لئے انکار کرنا ممکن ہوگا۔

{اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ: اپنے رب کا حکم مان لو۔} اس سے پہلی آیات میں  وعدہ اورو عید بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں  وہ چیز بیان کی جارہی ہے جو مقصودِ اصلی ہے۔چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! وہ دن جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں ، اس کے آنے سے پہلے پہلے تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے داعی کا حکم مان لواور محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ پر ایمان لے آؤ نیز تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے جوکچھ یہ لائے ہیں  اس میں  ان کی فرمانبرداری کرلو۔اے لوگو! (یاد رکھو،جب وہ دن آئے گاتو)اس دن تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہو گی کہ جس میں  پناہ لے کر تم اپنے دُنْیَوی کفر کی بنا پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکو اور نہ تمہارے لئے اپنے کفر و شرک اور گناہوں  سے انکار کرنا ممکن ہوگا، الغرض !اس دن رہائی کی کوئی صورت نہیں ، نہ عذاب سے بچ سکوگے اورنہ اپنے ان قبیح اَعمال کا انکار کرسکو گے جو تمہارے اعمال ناموں  میں  درج ہیں ۔آیت میں  جس دن کا ذکر ہوا اس سے موت کا دن یا قیامت کا دن مراد ہے۔(تفسیرکبیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۹ / ۶۰۸-۶۰۹ ،  تفسیرطبری ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۱۱ / ۱۶۰ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۴ / ۹۹-۱۰۰ ،  مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ص۱۰۹۲ ،  ملتقطاً)

آخرت بہتربنانے کا موقع صرف دنیا کی زندگی ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہم اپنی آخرت کو سنوارنے کے لئے جو کچھ کر سکتے ہیں  وہ اسی دنیا کی زندگی میں  کرنا ہو گا،موت کے وقت اور قیامت کا دن آنے کے بعد نیک اعمال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ میں  نہ رہے گا۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ‘‘(انفال:۲۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں  حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں  اس چیز کے لئے بلائیں  جو تمہیں  زندگی دیتی ہے اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ اسی کی طرف تمہیں  اٹھایا جائے گا۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰىﳳ-وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ ﳔ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمِهَادُ‘‘(رعد:۱۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جن لوگوں  نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں  کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں  نے اس کا حکم نہ مانا (ان کا حال یہ ہوگا کہ) اگر زمین میں  جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور اِس کے ساتھ ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے۔ ان کے لئے برا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔

            لہٰذا ہمیں  چاہئے کہ اپنی سانسوں  کوغنیمت جانتے ہوئے اپنی آخرت کے بھلے کے لئے جوہو سکتا ہے وہ کر لیں  ورنہ موت سر پہ آگئی تو پچھتانے کے سواکچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۹)وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ-فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۰)وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَاؕ-وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا



Total Pages: 250

Go To