Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: گرفت صرف ان لوگوں  پر ہے جولوگوں  پر ظلم کرتے ہیں  اور زمین میں  ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

{اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ: گرفت صرف ان لوگوں  پر ہے جولوگوں  پر ظلم کرتے ہیں ۔} یعنی گرفت صرف ان لوگوں  پر ہے جو ابتداء ً لوگوں  پر ظلم کرتے ہیں  اور تکبُّر اور گناہوں  کا اِرتکاب کرکے اور فساد برپا کر کے زمین میں  ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ،ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔( مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۲ ،  ص۱۰۹۱ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۲ ،  ۴ / ۹۹ ،  ملتقطاً)

ظلم کی اَقسام:

             یاد رہے کہ ظلم کی دو قسمیں  ہیں (1) شخصی ظلم ۔(2) قومی ظلم۔آیت کے ا س حصے ’’ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ‘‘ میں  شخصی ظلم مراد ہے جیسے کسی کو مارنا، گالی دینا، مال مار لینا، اور آیت کے اس حصے ’’وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ‘‘ میں  قومی ظلم مراد ہے، جیسے ملک و قوم سے غداری اوربادشاہِ اسلام سے بغاوت وغیرہ۔دونوں  قسم کے ظالموں  سے بدلہ لینا چاہیے ، لیکن پہلے ظالم کو معافی دے دینا حسنِ اَخلاق ہے اوردوسرے ظالم کو بلاوجہ معافی دینا سخت ظلم ہے،اسے عبرتناک سزا دینی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی ایسا نہ کرے۔یہ آیتِ کریمہ ملکی انتظامات، حُکّام کے فیصلوں  اور معاملات کی جامع آیت ہے۔

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک جس نے صبر کیااورمعاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں  میں  سے ہے۔

{وَ لَمَنْ صَبَرَ: اور بیشک جس نے صبر کیا۔} یعنی جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں  بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے کاموں  میں  سے ہے کہ اس میں  نفس سے مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب کرنا بہادری ہے۔

ظلم پر صبر کرنے کے فضائل:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر ظالم سے بدلہ نہ لینے میں  کوئی شرعی قباحت نہ ہو تو ظلم پرصبر کرلینا اور ظالم کو معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے۔ظلم پر صبر کرنے سے متعلق ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ‘‘(نحل:۱۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو) سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں  تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں  کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔

            اورحضرت کبشہ انماری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مظلوم جب ظلم پر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتا ہے۔( ترمذی ،  کتاب الزہد ،  باب ما جاء مثل الدنیا مثل اربعۃ نفر ،  ۴ / ۱۴۵ ،  الحدیث: ۲۳۳۲)

             اورحضرت عمرو بن شعیب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو جمع فرمائے گا تو ایک مُنادی ندا کرے گا:فضل والے کہاں  ہیں ؟تو کچھ لوگ کھڑے ہوں  گے اور ان کی تعداد بہت کم ہو گی۔جب یہ جلدی سے جنت کی طرف بڑھیں  گے تو فرشتے ان سے ملاقات کریں  گے اور کہیں  گے :ہم دیکھ رہے ہیں  کہ تم تیزی سے جنت کی طرف جا رہے ہو،تم کون ہو؟وہ جواب دیں  گے: ہم فضل والے ہیں ۔فرشتے کہیں  گے:تمہارا فضل کیا ہے؟وہ جواب دیں  گے جب ہم پر ظلم کیا جاتا تھا تو ہم صبر کرتے تھے اور جب ہم سے برائی کا برتاؤ کیا جاتا تھا تو اسے برداشت کرتے تھے۔پھر ان سے کہا جائے گا کہ جنت میں  داخل ہو جاؤ اور اچھے عمل والوں  کا ثواب کتنا اچھا ہے۔( الترغیب والترہیب ،  کتاب الادب وغیرہ ،  الترغیب فی الرفق والانا ۃ والحلم ،  ۳ / ۲۸۱ ،  الحدیث: ۱۸)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  ظالموں  کے ظلم اور شریروں  کے شر سے محفوظ فرمائے،اور ظلم ہونے کی صورت میں  صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖؕ-وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جسے اللہ گمراہ کرے اُس کا کوئی رفیق نہیں  اللہکے مقابل اور تم ظالموں  کو دیکھو گے کہ جب عذاب دیکھیں  گے کہیں  گے کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جسے اللہ گمراہ کرے تواس کے بعد اس کیلئے کوئی مددگار نہیں  اور تم ظالموں  کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب دیکھیں  گے توکہیں  گے: کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے؟

{وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ: اور جسے اللہ گمراہ کرے۔} یعنی جس کی بد عملیوں  کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس میں  گمراہی پیدا کر دے تواس کے بعد اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں  اس کیلئے کوئی مددگار نہیں  کہ اُسے عذاب سے بچاسکے اور تم قیامت کے دن کفر اور گناہوں  کا اِرتکاب کر کے اپنی جانوں  پر ظلم کرنے والوں  کو ا س حال میں  دیکھو گے کہ وہ عذاب دیکھ کرکہیں  گے: کیا دنیا میں واپس جانے کا کوئی راستہ ہے تاکہ وہاں  جا کر ایمان لے آئیں ؟( روح البیان ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ۸ / ۳۳۷-۳۳۸ ،  ملخصاً)

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّؕ-وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تم اُنھیں  دیکھو گے کہ آگ پر پیش کئے جاتے ہیں  ذلت سے دبے لچے چھپی نگاہوں  دیکھتے ہیں  اور ایمان والے کہیں  گے بے شک ہارمیں  وہ ہیں  جو اپنی جانیں  اور اپنے گھر والے ہار بیٹھے قیامت کے دن سنتے ہو بے شک ظالم ہمیشہ کے عذاب میں  ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم انہیں  دیکھو گے کہ انہیں  اس حال میں آگ پر پیش کیا جائے گا کہ ذلت کے مارے جھکے ہوئے ہوں  گے، چھپی نگاہوں  سے دیکھ رہے ہوں  گے اور ایمان والے



Total Pages: 250

Go To