Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایا کہ لوہا نازل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کودیکھے جوجہاد میں  لوہے کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتا ہے حالانکہ ا س نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں  ہوا، بیشک اللہ تعالیٰ قوت والا، غالب ہے ،اس کو کسی کی مدددرکار نہیں  اور دین کی مدد کرنے کا اس نے جو حکم دیا یہ انہیں  لوگوں  کے فائدے کے لئے ہے۔( خازن ،  الحدید ، تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ۴ / ۲۳۲ ،  مدارک ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ص۱۲۱۲ ،  روح البیان ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ۹ / ۳۷۹-۳۸۰ ،  جلالین ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ص۴۵۱ ،  ملتقطاً)

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍۚ-وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک ہم نے ابراہیم اورنوح کو بھیجا اور اُن کی اولاد میں  نبوت اور کتاب رکھی تو ان میں  کوئی راہ پر آیا اور ان میں  بہتیرے فاسق ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کی اولاد میں  نبوت اور کتاب رکھی تو ان میں  کوئی ہدایت یافتہ ہے اور ان میں  بہت زیادہ فاسق ہیں ۔

{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ: اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا ۔ } اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو منصبِ رسالت سے مُشَرّف فرمایا اور نبوت اور کتاب ان دونوں  کی اولاد میں  رکھی۔ چنانچہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعدتمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کی اولاد سے ہوئے اور چاروں  کتابیں  یعنی توریت ،انجیل ،زبورا ور قرآنِ پاک حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں  سے منصب ِرسالت پر فائز ہونے والوں  پر نازل ہوئیں ۔آخر میں  ارشاد فرمایا کہ ان دونوں  رسولوں  کی اولاد میں  سے کچھ لوگ ہدایت یافتہ ہیں  اور ان میں  بہت زیادہ فاسق ہیں ۔( خازن ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ۴ / ۲۳۲ ،  جلالین ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۴۵۱ ،  ملتقطاً)

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ ﳔ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةًؕ- وَ رَهْبَانِیَّةَ ﰳ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَاۚ-فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْۚ-وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ہم نے ان کے پیچھے اسی راہ پر اپنے اَور رسول بھیجے اور اُن کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی اور اس کے پیرووں  کے دل میں  نرمی اور رحمت رکھی اور راہب بننا تو یہ بات انہوں  نے دین میں  اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں  یہ بدعت انہوں  نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اُسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا تو ان کے ایمان والوں  کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا اور ان میں  بہتیرے فاسق ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے ان کے پیچھے ان کے قدموں  کے نشانات پر اپنے (مزید)رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی اور اس کے پیروکاروں  کے دل میں  نرمی اور رحمت رکھی اور رہبانیت (دنیا سے قطع تعلقی) کو انہوں  نے خود ایجاد کیا، ہم نے ان پر یہ مقرر نہ کیا تھا ہاں  اللہ کی رضا طلب کرنے کے لیے(انہوں  نے یہ بدعت ایجاد کی) پھر اس کی ویسی رعایت نہ کی جیسی رعایت کرنے کا حق تھا تو ان میں  ایمان والوں  کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا اور ان میں  سے بہت سے نافرمان ہیں ۔

{ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا: پھر ہم نے ان کے پیچھے ان کے قدموں  کے نشانات پر اپنے (مزید)رسول بھیجے۔}  اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے تک یکے بعد دیگرے اپنے مزید رسول بھیجے اور ان کے بعد حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو بھیجا اور انہیں  انجیل عطا فرمائی اور دین میں  ان کی پیروی کرنے والے آپس میں  ایک دوسرے کے ساتھ محبت و شفقت رکھتے ہیں  اور راہب بننا یعنی پہاڑوں  ،غاروں  اور تنہا مکانوں  میں  خَلْوَت نشین ہونے، صَومَعَہ بنانے، دنیا والوں  سے میل جول ترک کرنے ،عبادتوں میں  اپنے اوپر زائد مشقتیں  بڑھا لینے ، نکاح نہ کرنے، نہایت موٹے کپڑے پہننے اور ادنیٰ غذا انتہائی کم مقدار میں  کھانے کے عمل کو انہوں  نے خود ایجاد کیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ چیزیں  مقرر نہ کی تھیں ، البتہ یہ بدعت انہوں  نے اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرنے کیلئے ایجاد کی لیکن پھران کے بعد والے اس کی ویسی رعایت نہ کر سکے جیسی رعایت کرنے کا حق تھا بلکہ اس کو ضائع کردیا اور تَثلیث و اتحاد(یعنی تین خدا ماننے اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں  خدائی اور انسانیّت کا اتحاد ماننے) میں  مبتلا ہوئے اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین سے کفر کرکے اپنے بادشاہوں  کے دین میں  داخل ہوگئے اور ان میں  سے کچھ لوگ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین پر قائم اور ثابت بھی رہے اور جب حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مبارک زمانہ پایا تو حضورِ اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر بھی ایمان لائے تو ان میں  سے ایمان والوں  کواللہ تعالیٰ نے ان کا ثواب عطا کیا اور ان میں  سے بہت سے لوگ جنہوں  نے رہبانیّت کو ترک کیا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین سے مُنْحَرِف ہوگئے ، وہ نافرمان ہیں ۔( خازن ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۴ / ۲۳۳)

بدعتِ حَسنہ جائز اور بدعتِ سَیِّئہ ممنوع و ناجائز ہے:

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ لکھتے ہیں  ’’اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے رہبانیّت اختیار کرنے پر ان کی مذمت نہیں  فرمائی بلکہ اس پر جیسے عمل کرنے کا حق تھا(بعد والوں  کے ) ویسے عمل نہ کرنے پر ان کی مذمت فرمائی ہے اوران کے ایجاد کئے ہوئے فعل کوبدعت کہا گیا اور ان کے بر خلاف اس امت نے جس نئے کام کو نیکی کے طریقے کے طور پرایجاد کیا ،ان کی عظمت وشرافت کی وجہ سے اسے سنت(یعنی طریقہ)کہا گیا جیساکہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً ‘‘ جس نے اسلام میں  اچھی سنت ( طریقہ) ایجاد کیا۔( مسلم ،  کتاب الزکاۃ ،  باب الحثّ علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ... الخ ،  ص۵۰۸ ،  الحدیث: ۶۹(۱۰۱۷))

            اس حدیث میں  حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں  اسلام میں  نیک طریقے نکالنے کی اجازت دی ہے اور اس کا نام سنت رکھا ہے اور ا س طریقے کو نکالنے والوں  اور اس طریقے پر عمل کرنے والوں  کو اجر و ثواب کی بشارت دی ہے۔( روح البیان ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۹ / ۳۸۴)

            ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر نیا کام بدعت ہے تو جو اچھی بدعت نکالے اسے چاہئے کہ وہ اس پر ہمیشہ قائم رہے اور ا س کی ضد(یعنی مخالف چیز) کی طرف عدول نہ کرے ورنہ وہ اس آیت(میں  مذکور فسق) کی وعید میں  داخل ہو گا۔ (جبکہ وہ مخالفت شریعت کے برخلاف ہو۔)( تفسیر قرطبی ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۹ / ۱۹۳ ،  الجزء السابع عشر)

 



Total Pages: 250

Go To