Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(2)… مُتَّقی مومن قیامت کے دن حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ہوں  گے۔

(3)…قیامت کا دن نبیٔ  کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اوران کے ساتھ والوں  کی عزت کا ، جبکہ کافروں  کی رُسوائی کا دن ہو گا۔

(4)… مومن اگرچہ گنہگار ہو لیکن اِنْ شَآ ءَ اللّٰہ آخرت کی رسوائی سے محفوظ رہے گا، اگر اسے سزا بھی دی جائے گی تو اس طرح کہ اس کی رسوائی نہ ہو۔

 (5)…ابتداء میں  پل صراط پر منافقوں کو نور ملے گا لیکن جب درمیان میں  پہنچیں  گے تو وہ نور بجھ جائے گا۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْؕ-وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اے غیب بتانے والے (نبی) کافروں  پر اور منافقوں  پر جہاد کرو اور ان پر سختی فرماؤ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی بُرا انجام۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے نبی!کافروں  اور منافقوں  سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا     ٹھکانہ ہے۔

{یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ: اے نبی!کافروں  اور منافقوں  سے جہاد کرو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ حکمت کے تقاضوں  کے مطابق اورموقع محل کی مناسبت سے کافروں  پر تلوار سے جبکہ منافقوں  پر سخت کلامی اور مضبوط دلائل کے ساتھ جہاد فرمائیں  اور ان دونوں  گروہوں  پر سختی کریں  ،ان کاٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی بری لوٹنے کی جگہ ہے ۔( مدارک ،  التحریم ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ص۱۲۵۹ ،  جلالین ،  التحریم ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ص۱۲۴۸ ،  ملتقطاً)

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍؕ-كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ کافروں  کی مثال دیتا ہے نوح کی عورت اور لوط کی عورت وہ ہمارے بندوں  میں  دو سزا وارِ قرب بندوں  کے نکاح میں  تھیں  پھر انہوں  نے ان سے دغا کی تو وہ اللّٰہ کے سامنے انہیں  کچھ کام نہ آئے اور فرما دیا گیا کہ تم دونوں  عورتیں  جہنم میں  جاؤ جانے والوں  کے ساتھ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہ نے کافروں  کیلئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال بنادیا، وہ دونوں  ہمارے بندوں  میں  سے دو صالح بندوں  کے نکاح میں  تھیں  پھر ان دونوں  عورتوں  نے ان سے خیانت کی تو وہ (صالح بندے) اللّٰہ کے سامنے انہیں  کچھ کام نہ آئے اور فرما دیا گیا کہ جانے والوں  کے ساتھ تم بھی جہنم میں  جاؤ۔

{ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ: اللّٰہ نے کافروں  کیلئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال بنادیا۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی اور حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی کومثال بنادیا کہ یہ دونوں  عورتیں  ہمارے قرب کے لائق دو بندوں  کے نکاح میں  تھیں ، پھر انہوں  نے کفر اختیار کر کے دین کے معاملے میں  ان سے خیانت کی تو وہ دومُقَرَّب بندے اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے انہیں  کچھ کام نہ آئے اور ان عورتوں سے موت کے وقت فرمادیا گیایا قیامت کے دن فرما یاجائے گا کہ تم دونوں  عورتیں  اپنی قوموں  کے کفار کے ساتھ جہنم میں  جاؤ کیونکہ تمہارے اور ان انبیاء ِکرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان تمہارے کفر کی وجہ سے کوئی تعلق باقی نہ رہا (تو جس طرح کفر کے ہوتے ہوئے ان عورتوں  کوانبیاء ِکرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے رشتہ داری کام نہ آئی اسی طرح اے کفارِ مکہ!کفر کے ہوتے ہوئے تمہیں  بھی میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے رشتہ داری کوئی کام نہ آئے گی)۔( مدارک ،  التحریم ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ص۱۲۵۹ ،  خازن ،  التحریم ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۴  /  ۲۸۸ ،  ملتقطاً)

حضرت نوح اور حضرت لوط عَلَیْہِ مَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیویوں  کا حال:

            حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی کانام واہلہ تھا،یہ اپنی قوم سے حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  کہتی تھی کہ وہ مجنون ہیں  اور حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی کا نام و اعلہ تھا،یہ اپنا نفاق چھپاتی تھی۔( خازن ،  التحریم ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۴  /  ۲۸۸)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمان کے بغیر بزرگوں  کی صحبت قیامت میں  فائدہ نہیں  دے گی نیز یہ کہ کفار کے لئے نبی کا رشتہ یا نبی کا نسب کام نہیں  آتا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت میں  ہر شخص اس کے ساتھ ہو گا جس سے دنیا میں  محبت کرتا تھا۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَۘ-اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللّٰہ مسلمانو ں  کی مثال بیان فر ماتا ہے فرعون کی بی بی جب اس نے عرض کی اے میرے رب میرے لیے اپنے پاس جنت میں  گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں  سے نجات بخش۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللّٰہ نے مسلمانو ں  کے لئے فرعون کی بیوی کو مثال بنا دیا جب اس نے عرض کی، اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں  ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں  سے نجات عطا فرما۔

{وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ: اور اللّٰہ نے مسلمانو ں  کیلئے فرعون کی بیوی کو مثال بنادیا۔} اس سے پہلی آیت میں  کافروں  کے لئے مثال بیان فرمائی گئی اور اس آیت میں  مسلمانوں  کے لئے مثال بیان فرمائی جا  رہی ہے کہ انہیں  دوسرے کا گناہ نقصان نہیں  دے گا۔اس کا پسِ مَنْظَر اور خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جادو گروں  کو مغلوب کیا تو فرعون کی بیوی آسیہ آپ پر ایمان لے آئیں  ،فرعون کو خبر ہوئی تو اس نے انہیں  سخت سزادی اور چارمیخوں  سے آپ کے ہاتھ پاؤں  بندھوا دئیے، سینے پر بھاری چکی رکھ دی اور اسی حال میں  انہیں  سخت دھوپ میں  ڈال دیا ۔جب فرعون کی سختیاں  بڑھ گئیں  تو حضرت آسیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا نے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عرض کی: اے میرے رب!میرے لیے اپنے پاس جنت میں  گھر بنا دے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کا جنتی مکان ان پر ظاہر فرمایا اور اس کی خوشی میں  ان پر فرعون کی سختیوں  کی شدّت آسان ہوگئی۔پھر عرض کی:مجھے فرعون ، اس کے کفر و شرک اور ظلم سے نجات دے اور مجھے فرعون کے دین والے ظالم لوگوں  سے نجات عطا فرما،چنانچہ ان کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کی روح قبض فرمالی۔



Total Pages: 250

Go To