Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

{مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ: زمین میں  اور تمہاری جانوں  میں  جو مصیبت پہنچتی ہے۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنی قضاء اور تقدیر کا بیان فرمایا ہے کہ اے لوگو!زمین میں  قحط کی، بارش رک جانے کی، پیداوار نہ ہونے کی ،پھلوں  کی کمی کی اور کھیتیوں  کے تباہ ہونے کی ،اسی طرح تمہاری جانوں  میں  بیماریوں  کی اور اولاد کے غموں  کی جو مصیبت تمہیں  پہنچتی ہے وہ ہمارے اسے (یعنی زمین کو یا جانوں  کو یا مصیبت کو)پیدا کرنے سے پہلے ہی ہماری ایک کتاب لوحِ محفوظ میں  لکھی ہوئی ہوتی ہے اور انہیں  لوحِ محفوظ میں  لکھ دینا ہمارے لئے آسان ہے۔( مدارک ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ص۱۲۱۱ ،  خازن ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۴ / ۲۳۱ ،  ملتقطاً)

             یاد رہے کہ بندے کو پہنچنے والی ہر مصیبت ا س کی تقدیر میں  لکھی ہوئی ہے اور ہرمصیبت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ‘‘(تغابن:۱۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہر مصیبت اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔

            البتہ بعض مصیبتیں  بعض وجوہات کی بنا پر بھی آتی ہیں  اور یہ وجوہات بھی لوحِ محفوظ میں  لکھی ہوئی ہیں ، ان وجوہات میں  سے ایک وجہ گناہ کرنا ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ‘‘(شوری:۳۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہیں  جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے  ہاتھوں  کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو وہ معاف فرمادیتا ہے۔

            اورحضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الشوریٰ ،  ۵ / ۱۶۹ ،  الحدیث: ۳۲۶۳)

            اور بسا اوقات مومن کے گناہوں  کو معاف کرنے اور ا س کے درجات کی بلندی کے لئے اسے مصیبت پہنچتی  ہے، جیساکہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مومن کو کانٹا چبھنے یا اس سے بڑی کوئی تکلیف پہنچتی ہے توا س کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا ا س کی ایک خطا مٹادیتا ہے۔( مسلم ،  کتاب البر والصلۃ والاداب ،  ص۱۳۹۱ ،  الحدیث: ۴۷(۲۵۷۲))

            لہٰذا جس شخص پر کوئی مصیبت آئے تواسے چاہئے کہ وہ اس بات پر یقین رکھے کہ یہ مصیبت ا س کے نصیب میں  لکھی ہوئی تھی اور ا س بات پر غور کرے کہ کہیں  اس سے کوئی ایسا گناہ صادر نہ ہو ا ہو جس کے نتیجے میں  ا س پر یہ مصیبت آئی ،نیزاللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھے کہ وہ اس مصیبت کے سبب اس کے گناہ مٹا دے اور اس کے درجات بلند فرما دے۔ ایسا کرنے سے ذہن کو سکون نصیب ہو گا،دل کو تسلی حاصل ہو گی اور مصیبت پر صبر کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ ﹰ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اس لیے کہ غم نہ کھاؤ اس پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو اس پر جو تم کو دیا اور اللہ کو نہیں  بھاتا کوئی اترونا بڑائی مارنے والا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  تاکہ تم اس پر غم نہ کھاؤ جو تم سے جاتی رہے اور اس پراتراؤنہیں  جو تمہیں  اللہ نے دیا ہے اور اللہ ہر متکبر، بڑائی جتانے والے کو ناپسند کرتاہے۔

{لِكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ: تاکہ تم اس پر غم نہ کھاؤ جو تم سے جاتی رہے۔}  یعنی تمہیں  پہنچنے والی مصیبتیں  لوحِ محفوظ میں  لکھ دینے کی حکمت یہ ہے کہ دنیا کا جو ساز و سامان تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے تم ا س پر غم نہ کھاؤ اور دنیا کا جو مال و متاع اللہ تعالیٰ نے تمہیں  دیاہے تم اس پر خوش نہ ہو اور یہ سمجھ لو کہ جو اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمایا ہے ضرور ہونا ہے ،نہ غم کرنے سے کوئی ضائع شدہ چیز واپس مل سکتی ہے اور نہ فنا ہونے والی چیز اِترانے کے لائق ہے، تو ہونا یہ چاہیے کہ خوشی کی جگہ شکر اورغم کی جگہ صبر اختیا ر کرو ۔

             یہاں غم کی مذمت بیان ہوئی ہے اِس غم سے مراد انسان کی وہ حالت ہے جس میں  صبرنہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پرراضی رہنا نہ پایا جائے اور ثواب کی امید بھی آدمی نہ رکھے جبکہ خوشی سے وہ اِترانا مراد ہے جس میں  مست ہو کر آدمی شکر سے غافل ہوجائے البتہ وہ رنج و غم جس میں  بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو اور اس کی رضا پر راضی ہو ایسے ہی وہ خوشی جس پر حق تعالیٰ کا شکر گزار ہو ممنوع نہیں ۔

            حضرت امام جعفر صادق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں ’’ اے فرزند ِآدم! کسی چیز کے فُقدان پر کیوں  غم کرتا ہے؟ یہ اس کو تیرے پاس واپس نہ لائے گا اور کسی موجود چیز پر کیوں  اِتراتا ہے؟ موت اس کو تیرے ہاتھ میں  نہ چھوڑے گی۔( مدارک ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ص۱۲۱۱-۱۲۱۲ ،  خازن ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۴ / ۲۳۱-۲۳۲ ،  ملتقطاً)

الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو آپ بخل کریں  اور اَوروں  سے بخل کو کہیں  اور جو منہ پھیرے تو بے شک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں  سراہا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو بخل کریں  اور لوگوں  کو بخل کرنے کا کہیں  اور جو منہ پھیرے تو بیشک اللہ ہی بے نیاز ، حمد کے لائق ہے۔

{اَلَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ: وہ جو بخل کریں  ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں  کو پسند نہیں  فرماتا جو اپنے پاس مال اور دنیا کا سازو سامان ہونے کے باوجود ا س مال و دولت سے محبت اور اپنے نزدیک اس کی قدر کی وجہ سےاُس مال میں  بخل کرتے ہیں  اور ا س مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں  اور نیک کاموں  میں  خرچ نہیں  کرتے اور وہ صرف اپنے بخل کو ہی کافی نہیں  سمجھتے بلکہ لوگوں  کو بھی بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں  اور اپنا مال روک لینے کی ترغیب دیتے ہیں  ، اور جو واجب صدقات سے منہ پھیرے تو بیشک اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوق سے بے نیاز اورحمد کے لائق ہے۔

          دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ یہودی جو سابقہ کتابوں  میں  لکھے ہوئے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اوصاف چھپاتے ہیں  اور ان کے اوصاف بیان کرنے سے خود



Total Pages: 250

Go To