Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان:  بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ تیار ہوئی ہے ان کے لیے جو اللہ اور اس کے سب رسولوں  پر ایمان لائے یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھ جاؤجس کی چوڑائی آسمان و زمین کی وسعت جیسی ہے۔ اللہ اور اس کے سب رسولوں  پر ایمان لانے والوں  کیلئے تیار کی گئی ہے ،یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

{سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ: اپنے رب کی بخشش کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھ جاؤ۔}  اس سے پہلی آیت میں  اللہ تعالیٰ نے دنیا کے حقیر ہونے اور آخرت کے عظیم ہونے کو بیان فرمایا اور ا س آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں  کو ان اعمال میں  جلدی کرنے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی ترغیب دی ہے جن کی بنا پر بندہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی بخشش اور جنت کا حق دار قرار پاتا ہے، چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! دنیا کی زندگی بہت قلیل ہے، ا س لئے وہ اعمال کرنے میں  جلدی کرو اور ان میں  ایک دوسرے سے آگے بڑھ جاؤ جن کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کی بخشش اور ا س جنت کے حق دار ٹھہرو جس کی چوڑائی ایسی ہے کہ ساتوں  آسمان اور ساتوں  زمینوں  کے ٹکڑے ایک دوسرے سے ملا دیئے جائیں  تو جتنے چوڑے وہ ہوں  گے اتنی جنت کی چوڑائی ہے۔ یہ جنت ان لوگوں  کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیَّت کا اقرار کرتے اور اس کے سب رسولوں  کی تصدیق کرتے اور ان پر ایمان لاتے ہیں ۔ یہ جنت اللہ تعالیٰ کا وہ فضل ہے جو ا س نے مسلمانوں  پر فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنا فضل اپنی مخلوق میں  سے جسے چاہے دے اور اللہ تعالیٰ لوگوں  پر بڑا فضل فرمانے والا ہے کہ اسی نے دنیا میں  لوگوں  پر رزق وسیع کیا ، انہیں  نعمتیں  عطا فرمائیں  اور انہیں  شکر کے مقامات کی پہچان کرائی پھر اپنی اطاعت وفرمانبرداری کرنے پر آخرت میں  انہیں  وہ جزا عطافرمائی جو اس نے اطاعت گزاروں  کے لئے تیار فرمائی ہے اور ا س کا(کچھ) وصف ابھی بیان ہوا۔( مدارک  ،  الحدید  ،  تحت الآیۃ : ۲۱  ،  ص۱۲۱۱  ،  خازن  ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۴ / ۲۳۱ ،  تفسیر طبری ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۱۱ / ۶۸۵ ،  ملتقطاً)

          دعائے مغفرت نہایت محبوب شے ہے لہٰذا مسلمان بندے کو اپنی بخشش کی دعا کرتے رہنا چاہیے اور خصوصاً اگر گناہوں  سے توبہ کرکے ہو اور نورٌ علیٰ نور یہ کہ بارگاہِ مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  حاضر ہو کر اپنی بخشش کی دعا کی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘(مزمل:۲۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ سے بخشش مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا‘‘(نساء:۱۱۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔

            اورحضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے انسان! جب تک تومجھ سے دعا کرتا اور امید رکھتا رہے گا میں  تیرے گناہ بخشتا رہوں  گا، چاہے تجھ میں  کتنے ہی گناہ ہوں  مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔اے انسان! اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں ،پھر تو بخشش مانگے تو میں  بخش دوں  گا مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔اے انسان! اگر تو زمین بھر گناہ بھی میرے پاس لے کر آئے لیکن تو نے شرک نہ کیا ہو تو میں  تجھے ا س کے برابر بخش دوں  گا۔( ترمذی ،  کتاب الدعوات ،  باب فی فضل التوبۃ ،  والاستغفار... الخ ،  ۵ / ۳۱۸ ،  الحدیث: ۳۵۵۱)

            اورحضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تم میں  سے کوئی اس طرح نہ کہے ’’یا اللہ ! عَزَّوَجَلَّ ،اگر تو چاہے تو مجھے بخش۔یا اللہ ! عَزَّوَجَلَّ، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما۔بلکہ یقین کے ساتھ سوال کرناچاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ۔( ترمذی ،  کتاب الدعوات ،  ۷۷-باب ،  ۵ / ۲۹۹ ،  الحدیث: ۳۵۰۸)

           اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ  الَّذِیْنَ وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَاؕ-قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِؕ-اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘(ال عمران:۱۳۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ لوگ کہ جب کسی بے حیائی کا  ارتکاب کرلیں  یا اپنی جانوں  پر ظلم کرلیں  تواللہ کو یاد کرکےاپنے گناہوں  کی معافی مانگیں  اور اللہ کے علاوہ کون گناہوں  کو معاف کر سکتا ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اپنے برے اعمال پر اصرار نہ کریں ۔

          اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا‘‘(النساء :۶۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں  پر ظلم کربیٹھے تھے تو اے حبیب! تمہاری بارگاہ میں  حاضر ہوجاتے پھر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول(بھی) ان کی مغفرت کی دعافرماتے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، مہربان پاتے۔

            دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں  اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے ایمان پر قائم رہنے اور گناہوں  سے توبہ و اِستغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَاؕ-اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان:  نہیں  پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں  اور نہ تمہاری جانوں  میں  مگر وہ ایک کتاب میں  ہے قبل اس کے کہ ہم اُسے پیدا کریں  بے شک یہ اللہ کو آسان ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: زمین میں  اور تمہاری جانوں  میں  جو مصیبت پہنچتی ہے وہ ہمارے اسے پیدا کرنے سے پہلے (ہی) ایک کتاب میں  (لکھی ہوئی)ہے بیشک یہ اللہ پر آسان ہے۔

 



Total Pages: 250

Go To