Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(4)…بیکار باتیں  زیادہ کرنا۔

(5)… فحش گوئی کرنا۔

            اب ان سے متعلق 6اَحادیث ملاحظہ ہوں ،

(1)… حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے۔  رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:’’ اس کی مثال جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ اور مردہ کی سی ہے۔( بخاری ،  کتاب الدعوات ،  باب فضل ذکر اللّٰہ عزوجل  ،  ۴ / ۲۲۰ ،  الحدیث: ۶۴۰۷ )

(2)… حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے۔نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس گھر میں  اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور جس گھر میں  اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا جائے ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(مسلم ،  کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا ،  باب استحباب صلاۃ النافلۃ... الخ ،  ص۳۹۳ ،  الحدیث: ۲۱۱(۷۷۹))

(3)…حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا  سے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد  فرمایا’’ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر زیادہ باتیں  (یعنی بیکار باتیں )نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں  دل کی سختی ہے اور لوگوں  میں  اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہے۔( ترمذی ،  کتاب الزہد ،  ۶۲-باب منہ ،  ۴ / ۱۸۴ ،  الحدیث: ۲۴۱۹)

(4)…حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا  سے روایت ہے، حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے رہتے ہیں  جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے ۔ عرض کی گئی:  یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ان دلوں  کی صفائی کس چیز سے ہو گی؟ارشاد فرمایا ’’موت کو زیادہ یاد کرنے سے اور قرآنِکریم کی تلاوت کرنے سے۔( شعب الایمان ،  التاسع عشر من شعب الایمان... الخ ،  فصل فی ادمان تلاوۃ القرآن ،  ۲ / ۳۵۲ ،  الحدیث: ۲۰۱۴)

(5)… حضرت ربیع بن انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’دنیا سے بے رغبت ہونے اور آخرت کی طرف راغب ہونے کے لئے موت کو یاد کرنا کافی ہے۔( شعب الایمان ،  الحادی والسبعون من شعب الایمان... الخ ،  ۷ / ۳۵۲ ،  الحدیث:۱۰۵۵۴)

(6)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’شرم و حیا ایمان سے ہے ا ور ایمان جنت میں  ہے اور فحش گوئی سخت دلی سے ہے اور سخت دلی آگ میں  ہے۔( ترمذی ،  کتاب البر والصلۃ ،  باب ما جاء فی الحیائ ،  ۳ / ۴۰۶ ،  الحدیث: ۲۰۱۶)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  دل کی سختی سے محفوظ فرمائے اور دل کی نرمی عطا فرمائے،اٰمین۔

{قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ: بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں  بیان فرمادیں ۔}  ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! بیشک ہم نے تمہارے لیے اپنی وحدانیَّت اور قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں  بیان فرمادیں  تاکہ تم ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کوسمجھو اور ان نشانیوں  کے تقاضوں  کے مطابق عمل کر کے دنیا و آخرت میں  کامیاب ہو جاؤ۔( خازن ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۴ / ۲۳۰ ،  ابو سعود ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۵ / ۶۸۶ ،  ملتقطاً)

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں  اور وہ جنہوں  نے اللہ کو اچھا قرض دیا ان کے دُونے ہیں  اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں  اور وہ جنہوں  نے اللہ کو اچھا قرض دیا ان کیلئے کئی گنا بڑھا دیا جائے گا اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے۔

{اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ: بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ۔}  ارشاد فرمایا کہ بے شک وہ مرد اور عورتیں  جنہوں  نے خوش دلی اور نیک نیت کے ساتھ حق داروں  کو صدقہ دیا اور راہِ خدا میں  خرچ کیا تو ان کیلئے صدقہ کرنے اور راہِ خدا میں  خوش دلی کے ساتھ خرچ کرنے کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جائے گا اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے اور وہ جنت ہے۔( مدارک ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ص۱۲۱۰ ،  خازن ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۴ / ۲۳۰ ،  ملتقطاً)

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ ﳓ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ-لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں  پر ایمان لائیں  وہی ہیں  کامل سچے اور اَوروں  پر گواہ اپنے رب کے یہاں  ان کے لیے ان کا ثواب اور اُن کا نور ہے اور جنہوں  نے کفر کیا اور ہماری آیتیں  جھٹلائیں  وہ دوزخی ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں  پر ایمان لائیں  وہی اپنے رب کے نزدیک صدّیق اور گواہ ہیں۔ ان کے لیے ان کا ثواب ہے اور ان کا نور ہے اور جنہوں  نے کفر کیا اور ہماری آیتیں  جھٹلائیں  وہ دوزخی ہیں ۔

{وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ: اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں  پر ایمان لائیں ۔} اس سے پہلی آیات میں  اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں  اور منافقوں  کا حال بیان فرمایا اور اس آیت میں  ایمان والوں  اور کافروں  کا حال بیان فرمایا ہے۔چنانچہ ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے سب رسولوں  پر ایمان لائیں  ،ان کا اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے نزدیک مقام یہ ہے کہ وہی کامل سچے اور گزری ہوئی امتوں  میں  سے جھٹلانے والوں  پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں  ۔ان کے لیے ان کے نیک عمل کا وہ ثواب ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور ان کا وہ نور ہے جو حشر میں  ان کے ساتھ ہوگا اورجنہوں  نے کفر کیا اور ہماری قدرت و وحدانیَّت  پر دلالت کرنے والی آیتیں  جھٹلائیں  وہ دوزخی ہیں ۔( تفسیرکبیر ، الحدید ، تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۱۰ / ۴۶۲ ،  جلالین ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ص۴۵۰