Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

شخص کے قریب سے گزرے تو اس سے کہا ’’ مجھے اس اژدھے سے بچائیں ۔ انہوں  نے جواب دیا’’ میں  کمزور ہوں ، رفتار تیز کر لو شاید اس طرح اس سے نجات پا سکو۔ تو آپ مزید تیز چلنے لگے، اژدھا پیچھے ہی تھا یہاں  تک کہ آپ آگ کے ابلتے ہوئے گڑھوں  کے پاس سے گزرے، قریب تھا کہ آپ اس میں  گرجاتے، اتنے میں  ایک آواز آئی:تو میرا اہل نہیں  ہے۔ آپ چلتے رہے حتّٰی کہ ایک پہاڑ پر چڑھ گئے، اس پر شامیانے اور سائبان لگے ہوئے تھے، اچانک ایک آواز آئی:اس ناامید کو دشمن کے نرغے میں  جانے سے پہلے ہی گھیر لو۔ تو بہت سے بچوں  نے انہیں  گھیر لیاجن میں  آپ کی وہ بیٹی بھی تھی، وہ آپ کے پاس آئی اور اپنا دایاں  ہاتھ اس اژدھے کو مارا تو وہ بھاگ گیا اور پھر وہ آپ کی گود میں  بیٹھ کر یہ آیت پڑھنے لگی:’’ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ‘‘آپ فرماتے ہیں  کہ میں  نے اپنی اس بیٹی سے پوچھا ’’کیا تم(فوت ہونے والے) قرآن بھی پڑھتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا :’’جی ہاں ! ہم آپ(یعنی زندہ لوگوں )سے زیادہ اس کی معرفت رکھتے ہیں ۔پھر آپ نے اس سے اس جگہ ٹھہرنے کا مقصد پوچھا تو اس نے بتایا :’’یہ بچے قیا مت تک یہاں  ٹھہر کر اپنے ان والدین کا انتظار کریں  گے جنہوں  نے انہیں  آگے بھیجاہے۔پھر اس اژدھے کے بارے میں  پوچھا تو اس نے بتایا ’’وہ آپ کا برا عمل ہے۔ پھر اس ضعیف العمرشخص کے بارے میں  پوچھا تو اس نے بتایا :’’وہ آپ کا نیک عمل ہے، آپ نے اسے اتنا کمزور کر دیا ہے کہ اس میں  آپ کے برے عمل کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  توبہ کریں  اور ہلاک ہونے سےبچیں ۔ پھر وہ بلندی پر چلی گئی جب آپ بیدار ہوئے تو اسی وقت سچی توبہ کرلی۔( روض الریاحین ،  الفصل الثانی فی اثبات کرامات الاولیاء ،  الحکایۃ الحادیۃ والخمسون بعد المئۃ ،  ص۱۷۳)

{وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ:  اور مسلمان ان جیسے نہ ہوں  جنہیں  پہلے کتاب دی گئی۔}ا س آیت میں  اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں  کو ان یہودیوں  اور عیسائیوں  کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا جنہیں  ان سے پہلے کتاب ( تورات اور انجیل )دی گئی، جب ان پر ( ان کے اور ان کے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان کی) مدت دراز ہو گئی تو(ان کا حال یہ ہوا کہ ) انہوں  نے اپنے ہاتھوں  سے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں  تبدیلی کر دی اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلی اور اس کتاب کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور مختلف نظریات اور عجیب وغریب اَقوال کے درپے ہوئے اور دینِ الہٰی کے اَحکام پر لوگوں  کے کہنے کے مطابق عمل کرنے لگے اور انہوں  نے اپنے علماء اور راہبوں  کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اپنا رب مان لیا تو اس وقت ان کے دل سخت ہو گئے اور(ا س سختی کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوا کہ وہ) کسی نصیحت کو قبول کرتے ہیں  اور نہ ہی جنت کی بشارت اور جہنم کی وعید سن کر ان کے دل نرم ہوتے ہیں  ۔ ان کے دل بھی فاسد اور اعمال بھی باطل ہیں  جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖۙ-وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ‘‘( مائدہ:۱۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے ہم  نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کردئیے ۔ وہ اللہ کی باتوں  کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں  اور انہوں  نے ان نصیحتوں  کا بڑا حصہ بھلا دیا جو انہیں  کی گئی تھیں ۔

            یعنی،ان کے دلوں  میں  فساد آ چکا تھا جس کی وجہ سے وہ سخت ہو گئے تھے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں  تحریف کرنا ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی، انہوں  نے وہ کام کرنے چھوڑ دئیے جن کے کرنے کا انہیں  حکم دیاگیاتھا اور ان کاموں  کو کرنے لگ گئے جنہیں  کرنے سے انہیں  منع کیاگیاتھا ،ا سی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُمورِ اصلیہ اور فرعیہ (یعنی عقائد و اَحکام) میں  سے کسی ایک چیز میں  بھی ان کی مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے۔( ابن کثیر ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۸ / ۵۳)

            اللہ تعالیٰ کے ا س حکم کو سامنے رکھتے ہوئے ان لوگوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو اپنی صورت اور سیرت یہودیوں  اور عیسائیوں  جیسی بناتے اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں  اور ان لوگوں  کو بھی نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو مسلمان کہلانے کے باوجود مسلمانوں  کو یہودی اور عیسائی نظریات اوران کے طور طریقے اپنانے کی کسی بھی انداز میں  ترغیب دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے بے شک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں  بیان فرمادیں  کہ تمہیں  سمجھ ہو ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جان لو کہ اللہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں  بیان فرمادیں  تاکہ تم سمجھو۔

{اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا: جان لو کہ اللہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ } یعنی اے لوگو! تم جان لو کہ زمین کے خشک ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ بارش برسا کر اور سبزہ اگا کر زمین کو زندہ کرتا ہے اور ایسے ہی دِلوں  کو سخت ہوجانے کے بعد نرم کرتا ہے اور انہیں  علم و حکمت سے زندگی عطا فرماتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ’’یہ ذکر کے دِلوں  میں  اثر کرنے کی ایک مثال ہے کہ جس طرح بارش سے زمین کو زندگی حاصل ہوتی ہے ایسے ہی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دِل زندہ ہوتے ہیں ۔( خازن ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۴ / ۲۳۰ ،  مدارک ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ص۱۲۱۰ ،  ملتقطاً)

دل کی سختی کے اسباب اور ا س کی علامات:

          یاد رہے کہ دل کی نرمی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور دل کی سختی بہت بڑی آفت ہے کیونکہ دل کی سختی کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس میں  وعظ و نصیحت اثر نہیں  کرتا،انسان کبھی اپنے سابقہ گناہوں  کو یاد کر کے نہیں  روتا اور اللہ تعالیٰ کی آیات میں  غورو فکر نہیں  کرتا۔دل کی سختی کے مختلف اَسباب اور علامات ہیں ، ان میں سے چند یہ ہیں :

(1)…اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غفلت برتنا۔

(2)…قرآنِ پاک کی تلاوت نہ کرنا۔

(3)… موت کو یاد نہ کرنا۔

 



Total Pages: 250

Go To