Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            اس آیت میں  بیان کی گئی منافقین کی صفات کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مسلمان کو اپنی حالت پر غور کرنا چاہئے کہ ان میں  سے کوئی صفت اس میں  تو نہیں  پائی جاتی، اگر پائی جاتی ہو تو فورا ًاس سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرے تاکہ وہ اُخروی رسوائی سے بچ سکے۔

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-مَاْوٰىكُمُ النَّارُؕ-هِیَ مَوْلٰىكُمْؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے اور نہ کھلے کافروں  سے تمہارا ٹھکانا آگ ہے وہ تمہاری رفیق ہے اور کیا ہی بُرا انجام۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے گااور نہ ہی کھلے کافروں  سے۔ تمہارا ٹھکانہ آگ ہے، وہ آگ ہی تمہاری ساتھی ہے اور کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔

{فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ: تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے گا۔} جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ منافقوں  کو مسلمانوں  سے ممتاز کر دے گا تو ارشاد فرمائے گا’’ اے منافقو!آج تم سے کوئی فدیہ نہیں  لیا جائے گا جسے دے کر تم اپنی جان کوعذاب سے بچا سکو اور نہ ہی کھلے کافروں  سے فدیہ لیا جائے گا۔ تمہارا ٹھکانہ آگ ہے اورتم اس کے علاوہ کسی اور ٹھکانے کی طرف کبھی نہیں  لوٹو گے ،وہ آگ ہی تمہاری ساتھی ہے اور وہ آگ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ فدیہ نہ لئے جانے کا معنی یہ ہے کہ آج تم سے ایمان قبول کیا جائے گا اور نہ ہی توبہ قبول کی جائے گی۔( تفسیر طبری  ،  الحدید  ،  تحت الآیۃ : ۱۵ ،  ۱۱ / ۶۸۰  ،  روح البیان ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۹ / ۳۶۲-۳۶۳ ،  خازن ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۴ / ۲۲۹ ،  ملتقطاً)

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّۙ-وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْؕ-وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا ایمان والوں  کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ اُن کے دل جھک جائیں  اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اترا اور ان جیسے نہ ہوں  جن کو پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر مدت دراز ہوئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں  بہت فاسق ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا ایمان والوں  کیلئے ابھی وہ وقت نہیں  آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جھک جائیں  جو نازل ہوا ہے اور مسلمان ان جیسے نہ ہوں  جنہیں  پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر مدت دراز ہوگئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں  بہت سے فاسق ہیں ۔

{اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: کیا ایمان والوں  کیلئے ابھی وہ وقت نہیں  آیا ۔}اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں  اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے مروی ہے کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ( اپنے دولت سرائے اقدس سے) باہرآئے اور مسجد میں  صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے ،وہ لوگ آپس میں ہنس رہے تھے ۔آپ ان کے پاس اس حال میں  آئے کہ آپ کی چادر مبارک گھسٹ رہی تھی اور چہرۂ انور سرخ تھا۔ آپ نے (ان سے) ارشاد فرمایا’’ تم ہنس رہے ہو حالانکہ ابھی تک تمہارے رب کی طرف سے امان نہیں  آئی کہ ا س نے تمہیں  بخش دیا ہے اور تمہارے ہنسنے پر یہ آیت نازل ہوئی ہے’’ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ‘‘ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اس ہنسی کا کفارہ کیا ہے؟ ارشاد فرمایا اتنا ہی رونا۔( در منثور ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۸ / ۵۷)

            ا س آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا ایمان والوں  کے لئے ابھی وہ وقت نہیں  آیا کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور قرآن کی آیتیں  پڑھی جائیں  تو ان کے دل نرم پڑ جائیں ۔

            حضرت نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا جب اس آیت ِمبارکہ ’’اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ‘‘ کی تلاوت کرتے تو آپ کی آنکھوں  سے آنسو جاری ہو جاتے اور اتنا روتے کہ آپ بے حال ہو جاتے ۔( ابن عساکر ،  عبد اللّٰہ بن عمر بن الخطاب... الخ ،  ۳۱ / ۱۲۷)

             اوراسی آیتِ مبارکہ کو سن کر بہت سے لوگ اپنے گناہوں  سے تائب ہوئے اور ولایت کی عظیم منازل پر فائز ہوئے،یہاں  ہم اس کے دو واقعات ذکر کرتے ہیں ۔

 حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی توبہ:

          حضرت فضل بن موسیٰ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ (توبہ سے پہلے) ڈاکو تھے اور’’ ابیورد‘‘ اور ’’سرخَس‘‘ کے درمیان ڈاکہ زنی کیا کرتے تھے،ا ن کی توبہ کا سبب یہ ہوا کہ انہیں  ایک لونڈی سے عشق ہو گیا،ایک مرتبہ وہ ا س کے پاس جانے کے لئے دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ اس وقت کسی نے یہ آیت پڑھی ’’اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ‘‘جونہی یہ آیت آپ نے سنی تو بے اختیار آپ کے منہ سے نکلا ’’کیوں  نہیں  میرے پروردگار! اب اس کا وقت آگیا ہے ۔ چنانچہ آپ دیوار سے اتر پڑے اور رات کو ایک سنسان اور بے آباد کھنڈر نما مکان میں  جاکر بیٹھ گئے ۔ وہاں  ایک قافلہ موجود تھا اور شُرکائے قافلہ میں  سے بعض کہہ رہے تھے کہ ہم سفر جاری رکھیں  گے اور بعض نے کہا کہ صبح تک یہیں  رک جاؤ کیونکہ فضیل بن عیاض ڈاکو اسی اَطراف میں  رہتا ہے ، کہیں  وہ ہم پر حملہ نہ کر دے۔ آپ نے قافلے والوں  کی باتیں  سنیں  تو غور کرنے لگے اور کہا:(افسوس) میں  رات کےوقت بھی گناہ کرتا ہوں  اور(میرے گناہوں  کی وجہ سے) مسلمانوں  کا حال یہ ہے کہ وہ یہاں  مجھ سے خوفزدہ ہو رہے ہیں  حالانکہ اللہ تعالیٰ مجھے ان کے پاس اس حال میں  لایا ہے کہ میں اب اپنے جرم سے رجوع کر چکا ہوں ، اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ، میں  تیری بارگاہ میں  توبہ کرتا ہوں  اور اب میں  (ساری زندگی) کعبۃُ اللہ کی مجاوری میں  گزاروں  گا ۔( شعب الایمان ،  السابع والاربعون من شعب الایمان... الخ ،  فصل فی محقرات الذنوب ،  ۵ / ۴۶۸ ،  الحدیث: ۷۳۱۶)

 حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی توبہ :

             حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ (توبہ سے پہلے) نشہ کے عادی تھے، آپ کی توبہ کا سبب یہ بنا کہ آپ اپنی ایک بیٹی سے بہت محبت کیا کرتے تھے، اس کا انتقال ہوا تو آپ نے شعبان کی پندرھویں  رات خواب دیکھا کہ آپ کی قبر سے ایک بہت بڑا اژدھا نکل کر آپ کے پیچھے رینگنے لگا ہے، آپ جب تیز چلنے لگتے تووہ بھی تیز ہو جاتا، پھر آپ ایک کمزور سن رسیدہ



Total Pages: 250

Go To