Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

سورۂ سَبا کے ساتھ مناسبت:

            سورۂ فاطر کی اپنے سے ماقبل سورت’’سَبا ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ سبا کے آخر میں  اللہ تعالیٰ نے کفار کی ہلاکت اور انہیں  شدید ترین عذاب دئیے جانے کا ذکر کیا اور سورۂ فاطر کی ابتداء میں  یہ بیان ہو اکہ مسلمانوں  پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں  اور اس کا شکر بجا لائیں ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَؕ-یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: سب خوبیاں  اللہ کو جو آسمانوں  اور زمین کا بنانے والا فرشتوں  کو رسول کرنے والا جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں  ، بڑھاتا ہے آفْرِیْنِش میں  جو چاہے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تمام تعریفیں  اللہ کیلئے ہیں  جو آسمانوں  اور زمین کا بنانے والا ہے ،فرشتوں  کو رسول بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں ، پیدائش میں  جو چاہتا ہے بڑھادیتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

{اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ: تمام تعریفیں  اللہ کیلئے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ تمام تعریفیں  اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں  جو آسمانوں  اور زمین کو کسی سابقہ مثال کے بغیر بنانے والا ہے، ان فرشتوں  کو اپنے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف رسول (یعنی قاصد) بنانے والاہے جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں ۔( جلالین، فاطر، تحت الآیۃ: ۱، ص۳۶۴)

            حضرت علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  کہ فرشتوں  میں  پروں  کی زیادتی ان کے مراتب کی زیادتی کی بنا پر ہے ورنہ فرشتہ ایک ہی آن میں  آسمان و زمین کی مسافت طے کر لیتا ہے۔( روح البیان، فاطر، تحت الآیۃ: ۱، ۷ / ۳۱۲، ملخصاً)

            یاد رہے کہ آیت میں  فرشتوں  کے پروں  کی تعداد کا بیا ن حَصر یا زیادتی کی نفی کے لئے نہیں  ہے کیونکہ بعض فرشتے ایسے ہیں  کہ جن کے بہت زیادہ پر ہیں  ،جیسے صحیح مسلم میں  حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے چھ سو پر ملاحظہ فرمائے۔( مسلم، کتاب الایمان، باب فی ذکر سدرۃ المنتہی، ص۱۰۷، الحدیث: ۲۸۰(۱۷۴))

             اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو فرشتے انبیا ء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت میں  اللہ تعالیٰ کے پیغام لاتے ہیں  وہ دیگرفرشتوں  میں  اعلیٰ درجے والے ہیں  کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ا س آیت میں  بطورِ خاص ان کا ذکر فرمایا ہے ۔

{یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ: پیدائش میں  جو چاہتا ہے بڑھادیتا ہے۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں  کہ ’’اللہ تعالیٰ فرشتوں  کی بناوٹ اور ان کے پروں  میں  جس طرح چاہتا ہے اضافہ فرماتا ہے۔( روح المعانی، فاطر، تحت الآیۃ: ۱، ۱۱ / ۴۶۱)

            اوردیگر مفسرین رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ نے اس آیت میں  مذکور زیادتی کی مختلف تفاسیر بیان کی ہیں ،ان کے اَقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی جسم کی بناوٹ میں  ،یا اس کی آوازکی خوبصورتی میں ،یا اس کی اچھی لکھائی میں ،یا اس کی آنکھوں  اور ناک کی مَلاحت میں  ،یا ا س کے بالوں  کے گھونگر میں ،یا اس کی عقل میں ،یا ا س کے علم میں  ،یا اس کےپیشے میں  ،یا اس کے نفس کی پاکیزگی میں ، یا گفتگو کی حلاوت میں  جس طرح چاہتا ہے اپنی مَشِیّت اور حکمت کے مطابق اضافہ فرما دیتا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں  جن چیزوں  کا ذکر کیا گیا صرف ان میں  ہی اضافہ مُنْحَصَر نہیں  بلکہ ان چیزوں  کا ذکر بطورِ مثال کیا گیا ہے اور یہ آیت تخلیق میں  ہر طرح کے اضافے کو شامل ہے چاہے وہ ان چیزوں  میں  ہو جنہیں  ظاہری طور پر حسین شمار کیا جاتا ہے یا ان چیزوں  میں  ہو جنہیں  بظاہر اچھا نہیں  سمجھا جاتا ۔( بحر المحیط، فاطر، تحت الآیۃ: ۱، ۷ / ۲۸۶، ابو سعود، فاطر، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۳۶۰، ملتقطاً)

            آیت کے آخر میں  فرمایا کہ ’’بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ لہٰذا اس کی قدرت صرف ان موجودات میں  مُنْحَصَر نہیں  بلکہ وہ ہمارے خیال اوروہم سے وراء ہے ۔

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَاۚ-وَ مَا یُمْسِكْۙ-فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ جو رحمت لوگوں  کے لیے کھولے اس کا کوئی روکنے والا نہیں  اور جو کچھ روک لے تو اس کی روک کے بعد اس کا کوئی چھوڑنے والا نہیں  اور وہی عزت و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ لوگوں  کے لیے جو رحمت کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ روک دے تو اس کے روکنے کے بعد اسے کوئی چھوڑنے والا نہیں  اور وہی غالب، حکمت والا ہے۔

{مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا: اللہ لوگوں  کے لیے جو رحمت کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں  کے لیے اپنی رحمت کے خزانوں  میں  سے جو رحمت کھول دے جیسے صحت،امن و سلامتی ، علم و حکمت، بارش اور رزق وغیرہ،تو اسے روکنے پر کوئی قدرت نہیں  رکھتااور جس چیز کو روک دے تو اس کے روکنے کے بعد اسے چھوڑنے پر کوئی قدرت نہیں  رکھتا اور اللہ تعالیٰ ہی کھولنے ،روکنے اور اپنی مَشِیّت کے لحاظ سے ہر چیز پرغالب ہے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی کرتا ہے وہ سب حکمت اور مصلحت کے مطابق ہے ۔( تفسیر ابو سعود، فاطر، تحت الآیۃ: ۲، ۴ / ۳۶۰، خازن، فاطر، تحت الآیۃ: ۲، ۳ / ۵۲۹، ملتقطاً)

فرض نماز کے بعد پڑھا جانے والا وظیفہ:

 



Total Pages: 250

Go To