Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے فرما رہا ہے کہ تم اپنے اس فقر پر مجھ سے راضی ہو یا ناراض۔حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی طرف توجہ فرمائی اور ارشاد فرمایا:اے ابو بکر! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ، حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام تمہیں  اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام پیش کر رہے ہیں  اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنے ا س فقر میں  مجھ سے راضی ہو یا ناراض۔(یہ سن کر) حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی آنکھوں  سے آنسو جا ری ہو گئے اور عرض کرنے لگے :کیا میں  اپنے رب تعالیٰ سے ناراض ہو سکتا ہوں ،میں  اپنے رب سے راضی ہوں  ،میں  اپنے رب سے راضی ہوں ۔( حلیۃ الاولیاء ،  سفیان الثوری ،  ۷ / ۱۱۵ ،  الحدیث: ۹۸۴۵)

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض تو وہ اس کے لیے دونے کرے اور اس کو عزت کا ثواب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کون ہے جو اللہ کواچھا قرض دے تو اللہ اس کیلئے اس کو کئی گنا بڑھادے گا اور اس کیلئے اچھا اجر ہے۔

{مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا: کون ہے جو اللہ کواچھا قرض دے۔}  اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے تاکید کے ساتھ لوگوں  کومسلمانوں  کی حمایت میں ، کفار کے ساتھ جہاد کرنے میں  اور فقیر و محتاج مسلمانوں  کی مدد کرنے میں  اپنا مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو خوش دلی کے ساتھ اپنا مال راہِ خدا میں  خرچ کرے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کے خرچ کرنے کا ثواب اسے کئی گُنا تک بڑھا کر دے اور ا س اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے لئے اچھا اجر ہے اور اسے اس کے اعمال کا ثواب اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی بارگاہ میں  قبولیت کے ساتھ دیا جائے گا۔

            یہاں  آیت میں  اللہ تعالیٰ کی راہ میں  خرچ کرنے کو قرض سے اس طور پر تعبیرفرمایاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنی راہ میں  خرچ کرنے پر جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔( تفسیر کبیر ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۱۰ / ۴۵۴ ،  مدارک ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ص۱۲۰۸ ،  جلالین مع صاوی ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۶ / ۲۱۰۵ ،  ملتقطاً)

راہِ خدا میں  خرچ کرنے کا ثواب:

             راہِ خدا میں  خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے اور ا س کا ثواب بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ-وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ۪-وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ‘‘(بقرہ:۲۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہے کوئی جو اللہ کواچھا قرض دے تو اللہ اس کے لئے اس قرض کو بہت گنا بڑھا دے اور اللہتنگی دیتا ہے اوروسعت دیتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ‘‘(بقرہ: ۲۶۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان لوگوں  کی مثال جو اپنے مال اللہ  کی راہ میں  خرچ کرتے ہیں  اس دانے کی طرح ہے جس نے سات بالیاں  اگائیں  ،ہر بالی میں  سو دانے ہیں اور اللہ اس  سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔

            اللہ تعالیٰ کی راہ میں  خرچ کرنے کے معاملے میں  صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے جذبے کی ایک مثال ملاحظہ فرمائیں  ،چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ جب یہ آیت’’ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا‘‘ نازل ہوئی تو حضرت ابو دحداح انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی :  یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم قرض دیں ؟نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ہاں  اے ابو دحداح! حضرت ابو دحداح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی :  یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اپنا دست اقدس مجھے دکھائیے، حضرت ابو دحداح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے دستِ اقدس تھام کر عرض کی : میں  نے اپنا باغ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  بطورِ قرض پیش کر دیا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’ان کے باغ میں  600 کھجور کے درخت تھے اور اُمِّ دحداح اور ان کے بچے بھی اسی میں  رہتے تھے، حضرت ابو دحداح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ آئے اور انہوں  نے پکارا :اے اُمِّ دحداح! انہوں  نے عرض کی : لبیک میں  حاضر ہوں ، حضرت ابودحداح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا:آپ اس باغ سے نکل چلیں  کیونکہ میں  نے ا س باغ کو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  بطورِ قرض پیش کر دیا ہے۔(شعب الایمان  ،  باب الثانی والعشرین من شعب الایمان... الخ ،  فصل فی الاختیار فی صدقۃ التطوّع... الخ ،  ۳ / ۲۴۹ ،  الحدیث: ۳۴۵۲)

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جس دن تم ایمان والے مردوں  اور ایمان والی عورتوں  کو دیکھو گے کہ اُن کا نور ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے ان سے فرمایا جارہا ہے کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں  ہیں  جن کے نیچے نہریں  بہیں  تم اُن میں  ہمیشہ رہو یہی بڑی کامیابی ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن تم مومن مردوں  اورایمان والی عورتوں  کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں  جانب دوڑرہا ہے (فرمایا جائے گا کہ) آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں  ہیں  جن کے نیچے نہریں  بہتی ہیں  تم ان میں  ہمیشہ رہو، یہی بڑی کامیابی ہے۔

{یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ: جس دن تم مومن مردوں  اورایمان والی عورتوں  کو دیکھو گے۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں  کے بارے میں  خبر دی کہ قیامت کے دن تم مومن مَردوں  اورایمان والی عورتوں  کو پل صراط پر اس حال میں  دیکھو گے کہ ان کے ایمان اور بندگی کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں  جانب دوڑرہا ہے اور وہ نور جنت کی طرف اُن کی رہنمائی کررہا ہے اور( پل صراط سے گزر جانے کے بعد) ان سے فرمایا جائے گا کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں  ہیں  جن کے نیچے نہریں  بہتی ہیں ، تم ان میں  ہمیشہ



Total Pages: 250

Go To