Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

برائیاں  مٹادے گا اور اسے ان باغوں  میں  داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں  بہتی ہیں  ،وہ ہمیشہ ان میں  رہیں  گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

{یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ: جس دن وہ جمع ہونے کے دن میں  تمہیں  اکٹھا کرے گا۔} اس آیت میں  جمع ہونے کے دن سے مراد قیامت کادن ہے جس میں  سب اوّلین وآخرین جمع ہوں  گے اوریہ وہ دن ہوگاجس میں  کفار کی محرومی اور مسلمانوں  کی کامیابی پورے طور پر ظاہر ہو گی، کفار اپنی ہار کا اقرار کر لیں  گے،نیز اس دن اللّٰہ تعالیٰ پرایمان لانے والوں  اورنیک کام کرنے والوں  کی برائیاں  مٹادی جائیں  گی اورانہیں  ایسے باغوں  میں  داخل کیاجائے گاجن کے نیچے نہریں  بہتی ہوں گی اوروہ ان میں  عارضی طور پر نہیں  بلکہ ہمیشہ کے لئے رہیں  گے اوریہی حقیقی اوربڑی کامیابی ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جنہوں  نے کفر کیا اور ہماری آیتیں  جھٹلائیں  وہ آگ والے ہیں  ہمیشہ اس میں  رہیں  اور کیا ہی بُرا انجام۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جنہوں  نے کفر کیا اور ہماری آیتوں  کو جھٹلایا، وہ لوگ آگ والے ہیں ، ہمیشہ اس میں  رہیں  گے اور وہ کیا ہی بُرا ٹھکانہ ہے۔

{وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا: اور جنہوں  نے کفر کیا اور ہماری آیتوں  کو جھٹلایا۔} یعنی وہ لوگ جنہوں  نے اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور قدرت کا انکار کر کے کفر کیا اور ہماری ان آیتوں  کو جھٹلایاجو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر دلالت کرتی ہیں ،وہ آگ والے ہیں  ،ہمیشہ اس میں  رہیں  گے اوریہ ان کا کیا ہی برا انجام ہے۔( تفسیر کبیر ،  التغابن ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۱۰  /  ۵۵۴)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ دوزخ میں  ہمیشہ رہنا اور سخت عذاب ہونا صرف کفار کے لئے ہے۔ گنہگار مومن خواہ کیساہی گنہگار ہو، اِنْ شَآءَاللّٰہ دوزخ میں  ہمیشہ نہ رہے گااور اللّٰہ تعالیٰ اسے رسوانہ کرے گا۔

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی مصیبت نہیں  پہنچتی مگر اللّٰہ کے حکم سے اور جو اللّٰہ پر ایمان لائے اللّٰہ اس کے دل کو ہدایت فرمادے گا اور اللّٰہ سب کچھ جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہر مصیبت اللّٰہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے اور جو اللّٰہ پر ایمان لائے اللّٰہ اس کے دل کو ہدایت دیدے گا اور اللّٰہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

{مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ: ہر مصیبت اللّٰہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ موت کی، مرض کی اورمال کے نقصان وغیرہ کی، الغرض ہر مصیبت اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے اور جو اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور جانے کہ جو کچھ ہوتا ہے اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت اور اس کے ارادے سے ہوتا ہے اور مصیبت کے وقت اِنَّا ِللّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنْ پڑھے اور اللّٰہ تعالیٰ کی عطا پر شکر اور بلا پر صبر کرے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت دیدے گا کہ وہ اور زیادہ نیکیوں  اور طاعتوں  میں  مشغول ہواور اللّٰہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔( خزائن العرفان، التغابن، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۱۰۳۰، ملخصاً)

            خیال رہے کہ بعض مصیبتیں  ہمارے گناہوں  کی شامت سے آتی ہیں  مگر آتی اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے ہیں ، لہٰذا یہ آیت سورۂ شوریٰ کی اس آیت:

’’وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ‘‘(شوریٰ:۳۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہیں  جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں  کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے۔

            کے خلاف نہیں ۔نیز یہ بھی خیال رہے کہ دنیا کی مصیبتیں  مومن کے لئے بہت مرتبہ گناہ کا کفارہ بنتی ہیں ، یا درجات کی بلندی کاسبب ہوتی ہیں  جبکہ کفار کے لئے عذاب ہیں ، لہٰذا زیرِ تفسیر آیت بالکل صاف ہے،اس پر کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں  کیا جاسکتا۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَۚ-فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۱۲)اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللّٰہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو پھر اگر تم منہ پھیرو تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف صریح پہنچا دینا ہے۔ اللّٰہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں  اور اللّٰہ ہی پر ایمان والے بھروسہ کریں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللّٰہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو پھر اگر تم منہ پھیرو تو (جان لو کہ) ہمارے رسول پر صرف صاف صاف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔اللّٰہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں  اور ایمان والوں  کو تو اللّٰہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

{وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ: اور اللّٰہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے جو حکم دیا اسے مانو اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جو حکم دیا اسے بھی مانو، پھر اگر تم اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبرداری سے منہ پھیرو تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف صریح پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، چنانچہ اُنہوں  نے اپنا فرض ادا کردیا اور کامل طور پر دین کی تبلیغ فرمادی ۔( خازن ،  التغابن ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۴  /  ۲۷۶ ،  مدارک ،  التغابن ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ص۱۲۴۸ ،  ملتقطاً)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرح ضروری ہے، کیونکہ دونوں  اطاعتوں  کو ایک ہی طریقہ سے بیان فرمایا گیا ہے۔

{وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ: اور ایمان والوں  کو تو اللّٰہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔} یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ پر توکُّل کی حقیقت یہ ہے کہ اَسباب کو اختیار کیا جائے مگر اعتماد اور بھروسہ صرف رب تعالیٰ پر کیا جائے، لہٰذا بیماری میں  علاج کرنا، مصیبت میں  ظاہری حکام یا باطنی حکام جیسے اللّٰہ تعالیٰ کے اولیا ء کی بارگاہ میں  حاضر ہونا توکُّل کے خلاف نہیں ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْۚ-وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۴)

 



Total Pages: 250

Go To