Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(2)…جس کا وضو نہ ہو اسے قرآنِ مجید یا اس کی کسی آیت کا چھونا حرام ہے، البتہ چھوئے بغیر زبانی یادیکھ کر کوئی آیت پڑھے تواس میں  کوئی حرج نہیں ۔

(3)…جس کو نہانے کی ضرورت ہو( یعنی جس پر غسل فرض ہو) اسے قرآن مجید چھونا اگرچہ اس کا سادہ حاشیہ یا جلد یا چولی چھوئے ،یا چھوئے بغیردیکھ کر یا زبانی پڑھنا ،یا کسی آیت کا لکھنا ،یا آیت کا تعویذ لکھنا ،یا قرآنِ پاک کی آیات سے لکھا تعویذ چھونا ،یا قرآن پاک کی آیات والی انگوٹھی جیسے حروفِ مُقَطَّعات کی انگوٹھی چھونا یا پہننا حرام ہے۔

(4)…اگر قرانِ عظیم جُزدان میں  ہو تو جزدان پر ہاتھ لگانے میں  حرج نہیں ،یوہیں  رومال وغیرہ کسی ایسے کپڑے سے پکڑنا جو نہ اپنا تابع ہو نہ قرآنِ مجید کا تو جائز ہے۔ کرتے کی آستین، دُوپٹے کی آنچل سے یہاں  تک کہ چادر کا ایک کونا اس کے کندھے پر ہے تو دوسرے کونے سے قرآن پاک چھونا حرام ہے کیونکہ یہ سب اس کے ایسے ہی تابع ہیں  جیسے چولی قرآن مجید کے تابع تھی۔

(5)…روپیہ کے او پر آیت لکھی ہو تو ان سب کو (یعنی بے وضو اور جنب اور حیض و نفاس والی کو) اس کا چھونا حرام ہے ،ہاں  اگر روپے تھیلی میں  ہوں تو تھیلی اٹھانا جائز ہے۔یوہیں  جس برتن یا گلاس پر سورت یا آیت لکھی ہو اس کو چھونا بھی انہیں  حرام ہے اور اس برتن یا گلاس کواستعمال کرنا ان سب کے لئے مکروہ ہے،البتہ اگر خاص شفا کی نیت سے انہیں  استعمال کریں  تو حرج نہیں ۔

(6)…قرآن کا ترجمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں  ہو تو اسے بھی چھونے اور پڑھنے میں  قرآنِ مجید ہی کا سا حکم ہے۔

 (7)…قرآنِ مجید دیکھنے میں  ان سب پر کچھ حرج نہیں  اگرچہ حروف پر نظر پڑے اور الفاظ سمجھ میں  آئیں  اور دل میں  پڑھتے جائیں ۔(بہار شریعت، حصہ دوم، غسل کا بیان، ۱ / ۳۲۶-۳۲۷، ملخصاً)

{ تَنْزِیْلٌ: اتارا ہوا ہے۔} اس آیت میں  بھی اللہ  تعالیٰ نے ان لوگوں  کا رد کیا جو قرآن پاک کو شعر ،جادو یا کہانت کہتے ہیں  ،اور ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن اس ربّ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو سب جہانوں  کا مالک ہے توپھر یہ شعر یا جادو کس طرح ہو سکتا ہے۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۸۰ ،  ۴ / ۲۲۴ ،  ملتقطاً)

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ(۸۱) وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ(۸۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا اس بات میں  تم سستی کرتے ہو ۔ اور اپنا      حصّہ یہ رکھتے ہو کہ جھٹلاتے ہو ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا تم اس بات میں  سستی کرتے ہو؟اور تم اپنا حصہ یہ بناتے ہو کہ تم جھٹلاتے رہو۔

{ اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ: تو کیا تم اس بات میں  سستی کرتے ہو؟} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ  تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ اے اہلِ مکہ ! تو کیا تم اللہ تعالیٰ کے اس کلام کی تصدیق کرنے کی بجائے اس کا انکار کرتے ہو اور ا س انکار کو معمولی سمجھتے ہو اور تم نے اس عظیم نعمت کا شکر کرنے کی بجائے قرآن کو جھٹلانا ہی اپنا حصہ قرار دے رکھا ہے۔تفسیر خازن میں  ہے،حضرت حسن  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’وہ بندہ بڑابد نصیب ہے جس کا حصہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلانا ہو ۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۸۲ ،  ۴ / ۲۲۴)

            بعض مفسرین نے اس آیت ’’وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ‘‘ کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں : اللہ تعالیٰ نے تمہیں  جو نعمتیں  عطا کی ہیں  تم نے ان کا شکر کرنے کی بجائے انہیں  جھٹلانا اپنا حصہ بنا رکھا ہے۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۸۲ ،  ۴ / ۲۲۴) اور جھٹلانے سے مراد یہ ہے کہ وہ نعمت ملنے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کی بجائے اَسباب کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔

             حضرت زید بن خالد جہنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں ’’تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حُدَیْبیہ کے مقام پر بارش والی رات میں  ہمیں  صبح کی نماز پڑھائی، جب رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فارغ ہوئے تو لوگوں  کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا’’کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے کیا فرمایا ہے؟لوگ عرض گزار ہوئے: اللہ تعالیٰ اور ا س کا رسول بہتر جانتے ہیں ’’ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میرے بندوں  نے صبح کی تو کچھ مجھ پر ایمان رکھنے والے اور کچھ منکر تھے،بہرحال جس نے کہا:اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش برسائی گئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں  کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں  فلاں  ستارے نے بارش برسائی ہے تو وہ میرا منکر اور ستاروں  پر یقین رکھنے والاہے۔( بخاری ،  کتاب الاذان ،  باب یستقبل الامام الناس اذا سلّم ،  ۱ / ۲۹۵ ،  الحدیث:۸۴۶)

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ(۸۳) وَ اَنْتُمْ حِیْنَىٕذٍ تَنْظُرُوْنَۙ(۸۴) وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ(۸۵)فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ(۸۶) تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر کیوں  نہ ہو کہ جب جان گلے تک پہنچے۔اور تم اُس وقت دیکھ رہے ہو۔اور ہم اس کے زیادہ پاس ہیں  تم سے مگر تمہیں  نگاہ نہیں  ۔ تو کیوں  نہ ہوا اگر تمہیں  بدلہ ملنا نہیں  ۔ کہ اُسے لوٹا لاتے اگر تم سچّے ہو ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر کیوں  نہیں  جب جان گلے تک پہنچے۔ حالانکہ تم اس وقت دیکھ رہے ہو۔ اور ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہیں  مگر تم دیکھتے نہیں  ۔ تواگر تمہیں  بدلہ نہیں  دیا جائے گا تو کیوں  نہیں ۔  روح کو لوٹا لیتے ،اگر تم سچے ہو۔

{ فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ: پھر کیوں  نہیں  جب جان گلے تک پہنچے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی چار آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کفار!تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس وہ کتاب لائی جائے جس نے تمہیں  اپنی مثل لانے سے عاجز کر دیا تو تم کہتے ہو کہ یہ جادو ہے اور یہ خود بنائی ہوئی کتاب ہے،اگر تمہاری طرف سچا رسول بھیجا جائے تو تم اسے جادوگر اور جھوٹا کہنے لگ جاتے ہو اوراگر ہم تمہیں  بارش عطا کریں  تو تم کہنے لگتے ہو کہ فلاں  ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے ۔اگر تم اپنی ان باتوں  میں  سچے ہو اور تمہارے خیال کے مطابق مرنے کے بعد اُٹھنا ، اعمال کا حساب کیا جانا اور جزا دینے والا معبود وغیرہ یہ سب کچھ کوئی حقیقت نہیں  ہے تو پھر تم ایساکیوں  نہیں  کرتے کہ جب تمہارے پیاروں  میں  سے کسی پر نَزع کا وقت طاری



Total Pages: 250

Go To