Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

سے ڈرے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تمہاری آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں  میں  سے ایک حصہ ہے۔عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ آگ بھی کافی گرم ہے۔ارشاد فرمایا’’وہ اس سے 69حصے زیادہ گرم ہے اور ہر حصے میں اس کے برابر گرمی ہے۔( بخاری ،  کتاب بدء الخلق ،  باب صفۃ النار وانّہا مخلوقۃ ،  ۲ / ۳۹۶ ،  الحدیث: ۳۲۶۵)

          دوسرا فائدہ یہ ارشاد فرمایا کہ آگ کو جنگل میں  سفر کرنے والوں  کیلئے نفع مندبنایا کہ وہ اپنے سفروں  میں  شمعیں  جلا کر،کھانا وغیرہ پکاکر اور خود کو سردی سے بچا کر اُس سے نفع اُٹھاتے ہیں ۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷۳ ،  ۴ / ۲۲۲ ،  ملخصاً)

{ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ: تو اے محبوب! تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بیان کرو۔ } اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیّت اور قدرت کے دلائل اور تمام مخلوق پر اپنے انعامات ذکر فرمانے کے بعد اپنے حبیب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ اپنے عظمت والے رب عَزَّوَجَلَّ کے نام کی ان تما م چیزوں  سے پاکی بیان کریں  جو مشرکین کہتے ہیں ۔ (خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷۴ ،  ۴ / ۲۲۲)

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ(۷۵) وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ(۷۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تو مجھے قسم ہے ان جگہوں  کی جہاں  تارے ڈوبتے ہیں ۔ اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو مجھے تاروں  کے ڈوبنے کی جگہوں  کی قسم۔ اور اگرتم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔

{ فَلَاۤ اُقْسِمُ: تو مجھے قسم ہے۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے ستاروں  کے ڈوبنے کی جگہوں  کی قسم ارشاد فرمائی، ان جگہوں  کے بارے میں  امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مختلف اقوال ذکر کئے ہیں  ۔

(1)…ان سے مَشارق اور مَغارب مراد ہیں  اور ایک قول یہ ہے کہ ان سے صرف مغارب مراد ہیں  کیونکہ ستارے اسی جگہ غروب ہوتے ہیں ۔

(2)… ان سے آسمان میں  بُروج اور (سیاروں  یا ستاروں ) کی مَنازل مراد ہیں ۔

(3)…ان سے شَیاطین کوپڑنے والے شہاب ِثاقب کے گرنے کی جگہیں  مراد ہیں ۔

(4)…ان سے قیامت کے دن ستاروں  کے مُنتَشِر ہونے کے بعد گرنے کی جگہیں  مراد ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷۵ ،  ۱۰ / ۴۲۶)

{ وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ: اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔}ا رشاد فرمایا کہ اگر تمہیں  علم ہو تو تم اس قَسم کی عظمت جان لو گے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور حکمت کے کمال پر دلالت کرتی ہے۔( جلالین مع صاوی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷۶ ،  ۶ / ۲۰۹۶- ۲۰۹۷)

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک یہ عزت والا قرآن ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک یہ عزت والا قرآن ہے۔

{اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌ: بیشک یہ عزت والا قرآن ہے۔} کفارِ مکہ قرآنِ پاک کو شعر اور جادو کہا کرتے تھے ،اللہ تعالیٰ نے ستاروں  کے ڈوبنے کی جگہوں  کی قسم ارشاد فرما کر ان کا رد کرتے ہوئے اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  فرمایا کہ بے شک جو قرآن سرکارِ دو عالَم،محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل فرمایا گیا یہ شعر اور جادو نہیں اور نہ ہی یہ کسی کا اپنا بنایا ہوا کلام ہے ،بلکہ یہ عزت والا قرآن ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام اورا س کی وحی ہے اوراللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا معجزہ بنایا ہے اوریہ محفوظ اور پوشیدہ کتاب لوحِ محفوظ میں  موجود ہے جس میں  تبدیل اور تحریف ممکن نہیں  اور نہ ہی اس تک شَیاطین پہنچ سکتے ہیں ۔(تفسیرکبیر، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۷-۷۸، ۱۰ / ۴۲۸، خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۷-۷۸، ۴ / ۲۲۳، تفسیر قرطبی، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۷-۷۸، ۹ / ۱۶۴، الجزء السابع عشر، ملتقطاً)

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ(۷۸) لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ(۷۹) تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۸۰)

ترجمۂ کنزالایمان: محفوظ نَوِشْتَہ میں  ۔ اسے نہ چھوئیں  مگر باوضو ۔ اتارا ہوا ہے سارے جہان کے رب کا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پوشیدہ کتاب میں  (ہے)۔اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں  ۔ یہ تمام جہانوں  کے مالک کا اتارا ہوا ہے ۔

{لَا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ: اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں  ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس محفوظ اور پوشیدہ کتاب کو فرشتے ہی چھوتے ہیں  جو کہ شرک ،گناہ اور ناپاک ہونے سے پاک ہیں ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ قرآن پاک کو شرک سے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں ۔تیسری تفسیر یہ ہے کہ قرآن پاک کو وہ لوگ ہاتھ لگائیں  جو با وضو ہوں  اور ان پر غسل فرض نہ ہو۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷۹ ،  ۴ / ۲۲۳)

            حدیث شریف میں  بھی اسی چیز کا حکم دیا ہے ،چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’قرآن پاک کو وہی ہاتھ لگائے جو پاک ہو۔(معجم صغیر ،  باب الیائ ،  من اسمہ: یحیی ،  ص ۱۳۹ ،  الجزء الثانی)

قرآن پاک چھونے سے متعلق 7اَحکام:

            یہاں  آیت کی مناسبت سے قرآنِ مجید چھونے سے متعلق7اَحکام ملاحظہ ہوں ،

(1)…قرآن عظیم کو چھونے کے لئے وضو کرنا فرض ہے۔( نور الایضاح ،  کتاب الطہارۃ ،  فصل فی اوصاف الوضو ء ،  ص ۵۹)

 



Total Pages: 250

Go To