Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ(۶۵)اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ(۶۶) بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ(۶۷)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم چاہیں  تو اسے روندن کردیں  پھر تم باتیں  بناتے رہ جاؤ ۔کہ ہم پر چَٹّی پڑی ۔ بلکہ ہم بے نصیب رہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر ہم چاہتے تو اسے چورا چورا گھاس کردیتے پھر تم باتیں  بناتے رہ جاتے۔ کہ ہم پر تاوان پڑگیا ہے۔بلکہ ہم بے نصیب رہے۔

{ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا: اگر ہم چاہتے تو اسے چورا چورا گھاس کردیتے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے لطف و رحمت سے ا س کھیتی کی نَشوونُما کرتے ہیں  اور تم پر رحمت کرتے ہوئے اسے تمہارے لئے باقی رکھتے ہیں  ورنہ اگر ہم چاہتے تو زمین میں  جو بیج تم بوتے ہو اسے پوری طرح پھلنے پھولنے سے پہلے ہی چُورا چُورا کردیتے جو کسی کام کا نہ رہے،پھر تم حیرت زدہ اور نادم و غمگین ہو کر یہ باتیں  بناتے رہ جاتے کہ ہمارا مال بیکار ضائع ہوگیا ،بلکہ ہم اپنے رزق سے محروم رہے۔ (ابن کثیر ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۶۵-۶۷ ،  ۸ / ۲۸ ،  خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۶۵-۶۷ ،  ۴ / ۲۲۱-۲۲۲ ،  روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۶۵-۶۷ ،   ۹ / ۳۳۳ ،  ملتقطاً)

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ(۶۸) ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ(۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو پیتے ہو۔کیا تم نے اسے بادل سے اتارا یا ہم ہیں  اُتارنے والے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اسے بادلوں  سے اتارا یا ہم ہی اتارنے والے ہیں ؟

{ اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ: تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو تم پیتے ہو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا تم نے اس پانی پر غور نہیں  کیا جو تم زندہ رہنے کے لئے پیتے ہو اور ا س سے اپنی پیاس بجھاتے ہو،کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے، ایساہر گز نہیں بلکہ ہم ہی اپنی قدرت ِکاملہ سے اسے اتارنے والے ہیں اور جب تم نے یہ جان لیا کہ ہم ہی اس پانی کو نازل کرنے والے ہیں  تو صرف میری عبادت کر کے اس نعمت کا شکر ادا کیوں  نہیں  کرتے اور دوبارہ زندہ کرنے پر میری قدرت کا انکار کیوں  کرتے ہو؟( تفسیر قرطبی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹ ،  ۹ / ۱۶۱-۱۶۲ ،  الجزء السابع عشر ،  ابو سعود ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹ ،  ۵ / ۶۷۷ ،  ملتقطاً)

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ(۷۰)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم چاہیں  تو اُسے کھاری کردیں  پھر کیوں  نہیں  شکر کرتے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر ہم چاہتے تو اسے سخت کھاری کردیتے پھر تم کیوں  شکر نہیں کرتے؟

{ لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا: اگر ہم چاہتے تو اسے سخت کھاری کردیتے۔} ارشاد فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو اس پانی کو سخت کھاری کردیتے ،اور ایسا ہو جاتا تو تم نہ اسے پی سکتے تھے ،نہ اس سے شجر کاری اور کھیتی باڑی کر سکتے تھے ۔یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے تمہاری معاشی بہتری،تمہارے فائدے اور پینے کے لئے میٹھا پانی نازل فرمایا اور تمہیں  نقصان سے بچانے کے لئے کھاری پانی نازل نہ فرمایاتو پھر تم اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے احسان و کرم کا کیوں  شکر نہیں  کرتے؟( تفسیر طبری ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷۰ ،  ۱۱ / ۶۵۵ ،  خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷۰ ،  ۴ / ۲۲۲ ،  ملتقطاً)

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ(۷۱) ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِــٴُـوْنَ(۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو بھلا بتاؤتو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو۔کیا تم نے اس کا پیڑ پیدا کیا یا ہم ہیں  پیدا کرنے والے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو بھلا بتاؤ تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو۔کیا تم نے اس کادرخت پیداکیا یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں ؟

{ اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ: تو بھلا بتاؤ تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ مجھے ا س آگ کے بارے میں  بتاؤ جو تم دو تر لکڑیوں  سے روشن کرتے ہو، کیا تم نے اس کادرخت پیدا کیا ہے؟ایسا ہر گز نہیں  بلکہ ہم ہی اسے پیدا کرنے والے ہیں ،تو جب تم نے میری قدرت کو پہچان لیا تو میرا شکر ادا کرو اور دوبارہ زندہ کرنے پر میری قدرت کاانکار نہ کرو۔اہلِ عرب (اس زمانے میں )دو مخصوص لکڑیوں  کو ایک دوسرے سے رگڑ کر آگ جلایا کرتے تھے ،اوپر والی لکڑی کو وہ زَند اور نیچے والی لکڑی کو زَندہ کہتے تھے اورجن درختوں  سے یہ لکڑیاں  حاصل ہوتی تھیں  انہیں  مَرْخ اور عَفَار کہتے تھے۔( تفسیر قرطبی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷۱-۷۲ ،  ۹ / ۱۶۲ ،  الجزء السابع عشر ،  مدارک ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷۱-۷۲ ،  ص۱۲۰۳ ،  ملتقطاً)

ایندھن حاصل کرنے کے موجودہ ذرائع اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں :

            یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے فی زمانہ ہمارے لئے ایندھن حاصل کرنے کے بہت سے ذرائع جیسے کوئلہ، گیس اور تیل وغیرہ ظاہر فرما دئیے ہیں  اور ان سے ہم آسانی کے ساتھ اپنی ضروریّات پوری کر رہے ہیں ۔ جس طرح اُس درخت کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا جسے رگڑ کر ایندھن حاصل کیا جاتا تھا اسی طرح کوئلہ ،گیس اور تیل وغیرہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے،لہٰذا ہر بندے پر لازم ہے کہ وہ ان نعمتوں  پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ(۷۳) فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠(۷۴)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم نے اسے جہنم کی یادگار بنایا اور جنگل میں  مسافروں  کا فائدہ ۔تو اے محبوب تم پاکی بولو اپنے عظمت والے رب کے نام کی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم نے اسے یادگار بنایا اور جنگل میں  سفر کرنے والوں  کیلئے نفع بنایا۔تو اے محبوب! تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بیان کرو۔

{ نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً: ہم نے اسے یادگار بنایا۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے آگ کے دو فوائد بیان فرمائے ،

             پہلا فائدہ یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس آگ کوجہنم کی آگ کی یادگار بنایا تاکہ دیکھنے والا اس آگ کو دیکھ کرجہنم کی بڑی آگ کو یاد کرے اور اللہ تعالیٰ سے اور اس کے عذاب



Total Pages: 250

Go To