Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

کرکے بندر ،سور وغیرہ کی ان صورتوں  میں  بنادیں  جن کی تمہیں  خبر نہیں ۔ جب یہ سب ہماری قدرت میں  ہے تو تمہیں  دوبارہ پیدا کرنے سے ہم عاجز کس طرح ہو سکتے ہیں ؟( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۶۰-۶۱ ،  ۴ / ۲۲۱ ،  مدارک ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۶۰-۶۱ ،  ص۱۲۰۲ ،  ملتقطاً)

انسان کو کہیں  بھی اورکسی بھی وقت موت آ سکتی ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان کو موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے اور کسی کے لئے یہ ضروری نہیں  کہ وہ بڑھاپے میں  ہی موت کا شکار ہو بلکہ بھری جوانی میں  اورمُتَوَسّط عمر میں  بھی موت اپنے پنجے گاڑ سکتی ہے اوراس کیلئے کوئی جگہ بھی خاص نہیں  بلکہ کہیں  بھی آ سکتی ہے اور اس سے کسی صورت فرار ہونا بھی ممکن نہیں  نیز کسی کو بھی ا س بات کی خبر نہیں  کہ اس کی موت کب اور عمر کے کس حصے میں  اور کہاں  پر آئے گی ،لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ہر وقت نیک اعمال میں  مصروف رہے ،اپنی لمبی عمر پر بھروسہ نہ کرے اور آخرت کی تیاری سے کسی بھی وقت غفلت نہ کرے ۔

             حضرت عبد اللہ بن عمر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ دنیا میں  ایسے رہو گویاتم مسافر ہو یا راہ گیر اور اپنے آپ کو قبر والوں  میں  سے شمار کرو ۔(مشکاۃ المصابیح ،  کتاب الرقاق ،  باب الامل والحرص ،  الفصل الاول ،  ۲ / ۲۵۹ ،  الحدیث: ۵۲۷۴)

            حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تمہارے درمیان میری مثال اس شخص کی طرح ہے جو اپنی قوم کو نصیحت کرنے والا ہے ،اس نے قوم کے پاس آ کر کہا: میں  ڈرانے والا ہوں  اور موت حملہ آور ہونے والی ہے اور قیامت وعدے کی جگہ ہے ۔( معجم الاوسط ،  باب الالف ،  من اسمہ: احمد ،  ۱ / ۳۸ ،  الحدیث: ۸۶)

            حضرت حسن بصری  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  اپنے وعظ کے دوران فرماتے ’’جلدی کرو،جلدی کرو،کیونکہ یہ چند سانس ہیں  ،اگر رک گئے تو تم وہ اعمال نہیں  کر سکو گے جو تمہیں  اللہ تعالیٰ کے قریب کر سکتے ہیں  ۔اللّٰہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنی جان کی فکر کرتا ہے اور اپنے گناہوں  پر روتا ہے۔ (احیاء علوم الدین ،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ ،  الباب الثانی ،  بیان المبادرۃ الی العمل۔۔۔ الخ ،  ۵ / ۲۰۵)

            حضرت فضیل رقاشی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اے فلاں ! لوگوں  کی کثرت کے باعث اپنے آپ سےغافل نہ ہو کیونکہ معاملہ خاص تم سے ہو گا ان سے نہیں  اور یہ نہ کہو کہ میں  وہاں  جاتا ہوں  اور وہاں  جاتا ہوں ،اس طرح تمہارا دن ضائع ہو جائے گا اور موت تمہارے اوپر مُتَعَیَّن ہے اور جتنی جلدی نئی نیکی پرانے گناہ کو تلاش کر کر کے پکڑتی ہے اتنی جلدی تم نے کسی کو پکڑتے نہ دیکھا ہو گا۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ ،  الباب الثانی ،  بیان المبادرۃ الی العمل۔۔۔  الخ ،  ۵ / ۲۰۶)

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ(۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک تم جان چکے ہو پہلی اُٹھان پھر کیوں  نہیں  سوچتے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک تم پہلی پیدائش جان چکے ہوتو پھر کیوں  نصیحت حاصل نہیں  کرتے؟

{ وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى: اور بیشک تم پہلی پیدائش جان چکے ہو۔}ارشاد فرمایا کہ تم اپنی پہلی پیدائش کے بارے میں جان چکے ہو کہ ہم تمہیں  عدم سے وجود میں  لائے ہیں تو پھر (اسے سامنے رکھتے ہوئے دوسری پیدائش کے متعلق) کیوں  غور نہیں  کرتے کہ جو ربّ تعالیٰ پہلی بار تمہیں  عدم سے وجود میں  لا سکتا ہے تو وہ تمہارے مرنے کے بعد تمہیں  دوسری بار زندہ کرنے پر بھی یقینا قادر ہے۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ۴ / ۲۲۱ ،  ملخصاً)

تعجب کے قابل شخص:

            حضرت عبد اللہ بن مِسور ہاشمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی قدرت میں  شک کرتا ہے۔اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو پہلی بار کی پیدائش کو دیکھنے کے باوجود دوسری بار کی پیدائش کا انکار کرتا ہے۔اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو موت کے گھیر لینے کوجھٹلاتا ہے حالانکہ وہ دن رات مرتا اور زندہ ہوتا ہے۔اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو ہمیشگی کے گھر (یعنی جنت) کی تصدیق کرنے کے باوجود دھوکے کے گھر (یعنی دنیا) کے لئے کوشش میں  مصروف ہے۔اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو اِتراتا اور فخر و غرور کرتا ہے حالانکہ وہ نطفہ سے پیدا ہوا، پھر وہ سڑی ہوئی لاش بن جائے گا اور اِس دوران اُ س پر کیا بیتے گی وہ اُسے معلوم ہی نہیں ۔( مسند شہاب قضاعی ،  الباب الاوّل ،  یا عجباً کل العجب۔۔۔ الخ ،  ۱ / ۳۴۷ ،  الحدیث: ۵۹۵)

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ(۶۳) ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ(۶۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو بھلا بتاؤ تو جو بوتے ہو۔ کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو بھلا بتاؤ تو کہ تم جو بوتے ہو۔ کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم ہی بنانے والے ہیں ؟

{ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ: تو بھلا بتاؤ تو کہ تم جو بوتے ہو۔ } یہاں  سے اللہ تعالیٰ نے حشر و نشر پر اپنی قدرت کی ایک اور دلیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! تم ا س کھیتی میں  غورکیوں  نہیں  کرتے جسے تم زمین میں  کاشت کرتے ہو،کیا تم اس کی نَشو ونُما کرکے کھیتی بناتے ہو یا ہم ہی اسے کھیتی بنانے والے ہیں  اور اس بات میں  کوئی شک ہی نہیں  کہ اگرچہ زمین میں  بیج ڈالنا تم لوگوں  کا کام ہے لیکن اس بیج سے بالیں  بنانا اور اس میں  دانے پیدا کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور کسی کا نہیں  ہے، تو جب اللہ تعالیٰ بیج سے فصل پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ تمہاری موت کے بعد تمہیں  دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔( تفسیر سمر قندی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ:۶۳-۶۴ ، ۳ / ۳۱۸ ،  خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۶۳-۶۴ ،  ۴ / ۲۲۱ ،  روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۶۳-۶۴ ،  ۹ / ۳۳۲ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 250

Go To