Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کہ بیشک سب اگلے اور پچھلے ۔ ضرور اکٹھے کئے جائیں  گے ایک جانے ہوئے دن کی میعاد پر ۔ پھر بیشک تم اے گمراہو جھٹلانے والو ۔ ضرور تھوہڑ کے پیڑ میں  سے کھاؤ گے۔ پھر اس سے پیٹ بھرو گے ۔ پھر اس پرکَھولتا پانی پیو گے۔پھر ایسا پیو گے جیسے سخت پیاسے اُونٹ پئیں  ۔ یہ ان کی مہمانی ہے انصاف کے دن ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: بیشک سب اگلے اور پچھلے لوگ۔ ضرورایک معین دن کے وقت پر اکٹھے کیے جائیں  گے ۔  پھر اے گمراہو، جھٹلانے والو! بیشک تم۔ ضرور زقوم (نام)کے درخت میں  سے کھاؤ گے۔ پھر اس سے پیٹ بھرو گے۔  پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے۔ تو ایسے پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پیتے ہیں ۔ انصاف کے دن یہ ان کی مہمانی ہے ۔

{ قُلْ:تم فرماؤ۔}یہاں  سے اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا ہے،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی 7 آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،آپ فرما دیں  کہ تم سے پہلے اور بعد والے لوگ جن میں  تم اور تمہارے باپ دادا بھی شامل ہیں  ،یہ سب ضرور مرنے کے بعدایک مُعیّن دن کے وقت پر اکٹھے کیے جائیں  گے اور وہ قیامت کا دن ہے،پھر اے راہِ حق سے بہکنے والو اور حق کو جھٹلانے والو! بیشک تم جب دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور حساب کے بعد جہنم میں  داخل ہو جاؤ گے تو ضرور زَقّوم نام کے کانٹے دار ، کڑوے درخت میں  سے کھاؤ گے،اور صرف ا سے کھانا ہی تمہارے لئے کافی نہ ہو گا بلکہ بھوک کی شدّت کی وجہ سے تم اس سے پیٹ بھرو گے،پھر جب زقوم کھانے کے بعد تم پر پیاس کا غلبہ ہو گاتو کَھولتا ہوا پانی عام طریقے سے نہیں  بلکہ ایسے پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پیتے ہیں ۔مراد یہ ہے کہ ان پر ایسی بھوک مُسَلّط کی جائے گی کہ وہ مجبورہو کرجہنم کا جلتا تھوہڑ کھائیں  گے ،پھر جب اُس سے پیٹ بھرلیں  گے تو اُن پر پیاس مُسَلّط کی جائے گی جس سے مجبورہو کر ایسا کَھولتا ہوا پانی پئیں  گے جو ان کی آنتیں  کاٹ ڈالے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو ذکر کیا انصاف کے دن یہ ان کی مہمانی ہے۔( روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۴۹-۵۶ ،  ۹ / ۳۲۹-۳۳۰)

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ(۵۷)اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ(۵۸) ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ(۵۹)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم نے تمہیں  پیدا کیا تو تم کیوں  نہیں  سچ مانتے ۔ تو بھلا دیکھو تو وہ منی جو گراتے ہو ۔ کیا تم اس کاآدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم نے تمہیں  پیدا کیا تو تم کیوں  سچ نہیں مانتے؟تو بھلا دیکھو تو وہ منی جو تم گراتے ہو۔ کیا تم اسے  (آدمی) بناتے ہو یا ہم ہی بنانے والے ہیں ؟

{ نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ:ہم نے تمہیں  پیدا کیا۔} یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی تخلیق سے اپنی قدرت اور وحدانیّت پر اِستدلال فرمایا ہے،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو!تمہیں  یہ بات معلوم ہے کہ تم کچھ بھی نہیں  تھے ،ہم تمہیں  عدم سے وجود میں  لے کر آئے تو تم مرنے کے بعد اٹھنے کوکیوں  سچ نہیں  مانتے حالانکہ جو پہلی بار پیدا کرنے پہ قادر ہے تو وہ دوبارہ پیدا کرنے پر (بدرجہ اَولیٰ) قادرہے۔ اور اگر تمہیں  اس بات میں کہ ہم تمہیں  عدم سے وجود میں  لائے ہیں  ، شک ہے تویہ بتاؤ کہ منی کے ایک قطرے سے جوبچہ پیدا ہوتا ہے، کیا اس سے عورتوں  کے رحم میں  لڑکے یا لڑکی کی شکل و صورت تم بناتے ہو یا ہم ہی اسے انسانی صورت دیتے ہیں  اور اسے زندگی عطا فرماتے ہیں ؟ جب ہم بے جان نطفے کو انسانی صورت عطا کرسکتے ہیں  تو پیداہونے کے بعد مر جانے والوں  کو زندہ کرنا ہماری قدرت سے کیا بعید ہے۔( خازن ،  الواقعۃ ، تحت الآیۃ:۵۷-۵۹ ،  ۴ / ۲۲۱ ،  جلالین ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۵۷-۵۹ ،  ص ۴۴۷ ،  تفسیر کبیر ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۵۷-۵۹ ،  ۱۰ / ۴۱۵-۴۱۶ ،  روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۵۷-۵۹ ،  ۹ / ۳۳۰-۳۳۱ ،  ملتقطاً)

اللہ تعالیٰ کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کرنا کیسا ہے؟

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’یاد رکھیں  کہ(قرآنِ پاک میں ) جب اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے بارے میں  جمع کے صیغہ کے ساتھ کوئی خبر دے تو اس وقت وہ اپنی ذات، صفات اور اَسماء کی طرف اشارہ فرما رہا ہوتا ہے،جیسے ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

’’ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ‘‘(حجر:۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے اس قرآن کو نازل کیاہے اور بیشک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔

            اور جب اللہ تعالیٰ واحد کے صیغہ کے ساتھ اپنی ذات کے بارے میں  کوئی خبر دے تو اس وقت وہ صرف اپنی ذات کی طرف اشارہ فرما رہا ہوتا ہے،جیسے ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

’’ اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘(قصص:۳۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک میں  ہی اللہ ہوں ،سارےجہانوں  کاپالنے والاہوں ۔

                 اور یہ اس وقت ہے جب اللہ تعالیٰ خود خبر دے، البتہ بندے پر لازم ہے کہ وہ( ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے لئے واحد کا صیغہ بولے کبھی جمع کا صیغہ نہ بولے ،جیسے )یوں  کہے کہ اے اللہ! تو میرا رب ہے ،یوں (ہر گز) نہ کہے کہ اے اللہ! آپ میرے رب ہیں ، کیونکہ اس میں  شرک کا شائبہ ہے جو تَوحید کے مُنافی ہے۔( روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۵۷ ،  ۹ / ۳۳۰) یعنی مناسب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے واحد کا صیغہ استعمال کیاجائے۔

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ(۶۰) عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم نے تم میں  مرنا ٹھہرایا اور ہم اس سے ہارے نہیں  ۔ کہ تم جیسے اور بدل دیں  اور تمہاری صورتیں  وہ کردیں  جس کی تمہیں  خبر نہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم نے تمہارے درمیان موت مقرر کردی اور ہم پیچھے رہ جانے والے نہیں  ہیں ۔ اس سے کہ تم جیسے اور بدل دیں  اورتمہیں  ان صورتوں  میں  بنادیں  جن کی تمہیں  خبر نہیں ۔

{ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ: ہم نے تمہارے درمیان موت مقرر کردی۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی حکمت اور مَشِیَّت کے تقاضے کے مطابق تم میں  موت مقرر کر دی اور تمہاری عمریں  مختلف رکھیں  ،اسی لئے تم میں  سے کوئی بچپن میں  ہی مرجاتا ہے ،کوئی جوان ہو کر، کوئی بڑھاپے اور جوانی کے درمیان عمر میں  اور کوئی بڑھاپے تک پہنچ کر مر جاتاہے،الغرض جو ہم مقدر کرتے ہیں  وہی ہوتا ہے۔اور ہم اس بات سے پیچھے رہ جانے والے(بے بس) نہیں  ہیں  کہ تمہیں  ہلاک کر کے تم جیسے اور بدل دیں  اور تمہیں  مَسخ



Total Pages: 250

Go To